مادہ پرستی انسان کے شعور میں ایک خاص زاویۂ نگاہ پیدا کرتی ہے جس میں غیر مادی اقدار کی حیثیت ثانوی ہو جاتی ہے۔ جب شعور اس سانچے میں ڈھل جاتا ہے تو انسان کے انتخاب، ترجیحات اور خواہشات بھی اسی کے مطابق تشکیل پاتے ہیں۔ یوں دنیا پرستی ایک ناگزیر نتیجہ بن کر سامنے آتی ہے۔ اس تعلق کو یوں بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ مادہ پرستی “فکر کی بنیاد” ہے اور دنیا پرستی “اس بنیاد پر تعمیر ہونے والی عمارت”۔ اگر بنیاد ہی مادی ہو تو عمارت میں روحانیت یا اخلاقی بلندی کی گنجائش محدود ہو جاتی…