بامقصد زندگی، سعادت کی زندگی
انسان کی زندگی میں معنویت اور سمت کی جستجو ایک بنیادی حقیقت ہے۔ یہ صرف ایک نفسیاتی تسکین کا سبب نہیں، بلکہ انسان کی وجودی ضرورت ہے۔ معنویت سے محرومی انسان کو وجودی بحران میں مبتلا کر دیتی ہے۔ معنویت اور مقصدیت انسان کے لیے استقامت اور فلاح کا بنیادی ذریعہ ہوتا ہے۔ گویا کہ یہ کوئی ذاتی انتخاب نہیں، بلکہ زندگی میں رنگ بھرنے کے لیے ناگزیر شئی ہے۔
قرآن آپ کی شخصیت کو کیسے نکھارتا ہے؟
قرآن کریم وہ جامع الہامی رہنمائی ہے جو انسان کے تزکیۂ نفس، یعنی باطنی پاکیزگی اور روحانی ارتقاء کا مکمل نظام فراہم کرتی ہے۔ شخصیت کے ارتقاء کا یہ قرآنی فریم ورک انسان کی خود آگہی اور اصلاحِ نفس کے ایک شاندار اور منظم سفر کی تصویر پیش کرتا ہے، جس میں انسان اپنے پست جذبات اور نفسانی خوہشات سے بلند ہو کر اس مقام تک پہنچتا ہے جہاں اس کا نفس سکونِ قلب اور رضائے الٰہی کو حاصل کرلیتا ہے۔
محمدؐ سے محبت کیوں؟ پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرنے کی پچاس (۵۰) وجوہات
یہ ایک جائز سوال ہے کہ کسی شخص کے اس دنیا سے گزر جانے کے ڈیڑھ ہزار سال بعد بھی اس سے کیوں بے پناہ محبت کی جائے؟ ہم ذیل میں اسی سوال کا جواب دے رہے ہیں۔ ہم یہ بتانا چاہتے ہیں کہ یہ کوئی بے جا جذباتی لگاؤ نہیں ہے جو ہمیں ”اپنے کلچر“ یا ”اپنے دھرم“ کے نام پر آبا و اجداد سے مل گیا ہے، اور ہم بنا سوچے سمجھے اسے اٹھائے پھر رہے ہیں۔ نہیں! ہماری ہی طرح سانس لینے والے، چلنے پھرنے والے محمد الرسول اللہ اپنے اندر محاسن کی ایک ایسی کائنات سموئے ہوئے تھے کہ رہتی دنیا تک ان کو یاد رکھا جائے، ان کی تعلیمات کو زندگی کا قانون بنا کر برتا جائے۔ ان کی شخصیت اور ان کی تعلیمات ہمیں مجبور کرتی ہے کہ ہم ان سے بے پناہ محبت کریں، ان کا سب انسانوں سے بڑھ کر احترام کریں، اور انہیں اپنا رہنما و پیشوا تسلیم کریں۔ صلی اللہ علیہ وسلم!
پُر امن خاندان: صالح معاشرے کا سنگِ بنیاد
ایک پرسکون اور خوشگوار خاندان فرد کے لیے سب سے بڑی نعمت اور امن و سکون کا سب سے مضبوط قلعہ ہوتا ہے۔ یہ محبت، اعتماد، اور باہمی احترام پر مبنی ایک ایسا دائرہ ہے جہاں ہر فرد کو جذباتی سکون، ذہنی استحکام اور عملی رہنمائی حاصل ہوتی ہے۔ اسلامی خاندانی نظام ایک ایسا مضبوط اور پائیدار نظام ہے جو محبت، رحمت، انصاف اور حقوق و فرائض کے توازن پر قائم ہے۔ قرآن کریم نے اس کے ہر پہلو پر مکمل رہنمائی فراہم کی ہے تاکہ ایک ایسا مثالی خاندان تشکیل دیا جا سکے جو نہ صرف فرد کی شخصیت کو سنوارے بلکہ معاشرے کے استحکام میں بھی بنیادی کردار ادا کرے۔ قرآن میں خاندانی زندگی کے ہر پہلو کو نہایت حکمت اور اعتدال کے ساتھ واضح کیا گیا ہے، جس میں ازدواجی تعلقات، والدین کی عزت، بچوں کی تربیت، اور رشتہ داریوں کا احترام شامل ہے۔
اللہ کی مسجدوں کے سلسلے میں مسلمانوں کے انحرافات
عصرِ حاضر میں اللہ کی مسجدوں کو مخصوص فرقوں اور مسالک سے منسوب کر دینا، ان کے دائرۂ کار کو نماز اور چند رسومات تک محدود کر دینا، اور ان سے دعوت، تعلیم، مشاورت، معاشرتی کردار کو منہا کر دینا، درحقیقت اللہ کی مسجدوں کی جامعیت اور ان کے اصل مشن سے گہرا انحراف ہے۔ اللہ کی مسجدیں عام طور پر اب علم و فکر کا سر چشمہ بننے کے بجائے مسلکی تعصب، گروہی نمائندگی اور فکری جمود کی علامت بن گئی ہیں۔ اس انحراف کی اصلاح ایک دینی فریضہ ہے، اور مسلم معاشرے کی نشاةِ ثانیہ کے لیے ایک ناگزیر اقدام بھی۔