مادّہ پرستی (Materialism) اور قلبی سکون کا فقدان

مادہ پرستی اور دنیا پرستی کیا ہے؟

google.com, pub-6911920205998262, DIRECT, f08c47fec0942fa0

مادہ پرستی (Materialism) دراصل ایک ایسا فکری و فلسفیانہ رجحان ہے جس میں حقیقتِ وجود کو صرف مادی اشیاء اور حسی تجربات تک محدود کر دیا جاتا ہے۔ اس نقطۂ نظر کے مطابق کائنات کی تمام حقیقتیں—چاہے وہ شعور ہوں، اقدار ہوں یا انسانی احساسات—بالآخر مادّے کی مختلف صورتیں ہیں۔ اس فکر میں ماورائے مادہ کسی حقیقت کا تصور یا تو سرے سے رد کر دیا جاتا ہے یا اسے غیر اہم سمجھا جاتا ہے۔ یوں انسان کی فکر کا مرکز وہی چیزیں بن جاتی ہیں جو نظر آتی ہیں، چھوئی جا سکتی ہیں یا جنہیں ناپا اور تولا جا سکتا ہے۔ نتیجتاً، وجود کی معنویت ایک محدود دائرے میں قید ہو جاتی ہے جہاں روح، اخلاق اور غایت جیسے تصورات اپنی گہرائی کھو دیتے ہیں۔

دنیا پرستی (Worldliness) اس مادہ پرستانہ تصور کا عملی اور نفسیاتی اظہار ہے۔ جہاں مادہ پرستی ایک نظریہ ہے، وہیں دنیا پرستی ایک طرزِ حیات ہے۔ دنیا پرستی میں انسان اپنی زندگی کا مقصد دنیاوی کامیابیوں—جیسے دولت، شہرت، طاقت اور آسائش—کے حصول کو بنا لیتا ہے۔ اس کے نزدیک کامیابی کا معیار وہی ہوتا ہے جو مادی پیمانوں پر پورا اترے۔ اس طرح دنیا پرستی دراصل مادہ پرستی کا عملی تسلسل ہے، کیونکہ جب فکر میں مادہ کو اصل حقیقت مان لیا جائے تو عمل میں بھی اسی مادے کے گرد زندگی کا نظام ترتیب پاتا ہے۔

مادہ پرستی اور دنیا پرستی کے درمیان تعلق محض اتفاقی نہیں بلکہ علّی (causal) ہے۔ مادہ پرستی انسان کے شعور میں ایک خاص زاویۂ نگاہ پیدا کرتی ہے جس میں غیر مادی اقدار کی حیثیت ثانوی ہو جاتی ہے۔ جب شعور اس سانچے میں ڈھل جاتا ہے تو انسان کے انتخاب، ترجیحات اور خواہشات بھی اسی کے مطابق تشکیل پاتے ہیں۔ یوں دنیا پرستی ایک ناگزیر نتیجہ بن کر سامنے آتی ہے۔ اس تعلق کو یوں بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ مادہ پرستی “فکر کی بنیاد” ہے اور دنیا پرستی “اس بنیاد پر تعمیر ہونے والی عمارت”۔ اگر بنیاد ہی مادی ہو تو عمارت میں روحانیت یا اخلاقی بلندی کی گنجائش محدود ہو جاتی ہے۔

مزید گہرائی میں جائیں تو یہ تعلق انسان کی وجودی کیفیت (existential condition) کو بھی متاثر کرتا ہے۔ مادہ پرستی انسان کو ایک ایسے دائرے میں مقید کر دیتی ہے جہاں معنی (meaning) کا سرچشمہ صرف دنیاوی کامیابیاں بن جاتی ہیں۔ لیکن چونکہ مادہ بذاتِ خود تغیر پذیر اور فنا پذیر ہے، اس لیے اس پر قائم ہونے والی دنیا پرستی بھی انسان کو ایک مستقل بے چینی اور عدمِ اطمینان میں مبتلا رکھتی ہے۔ یوں انسان بظاہر بہت کچھ حاصل کر لینے کے باوجود ایک خلا محسوس کرتا ہے۔ اس خلا کی وجہ یہی ہے کہ اس نے اپنے وجود کی گہرائیوں کو نظر انداز کر کے صرف ظاہری دنیا کو مقصد بنا لیا۔ اس طرح مادہ پرستی اور دنیا پرستی مل کر انسان کو ایک ایسے چکر میں ڈال دیتی ہیں جہاں وہ مسلسل حاصل کرتا ہے مگر کبھی مطمئن نہیں ہوتا۔

مادہ پرستی اور دنیا پرستی جب ایک مشترکہ فکری و نفسیاتی فضا تشکیل دیتی ہیں تو وہ انسان کے شعور میں ایک خاص قسم کی ترجیحات پیدا کرتی ہیں، جن میں قدر و قیمت کا معیار صرف مادی حصول بن جاتا ہے۔ اس صورت میں انسان اپنی ذات، تعلقات اور حتیٰ کہ اپنی خوشی کو بھی اشیاء اور خدمات کے حصول سے وابستہ کر لیتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں سے صارفیت (consumerism) جنم لیتی ہے۔ صارفیت محض خرید و فروخت کا عمل نہیں بلکہ ایک ایسا تہذیبی و نفسیاتی نظام ہے جس میں انسان اپنی شناخت (identity) کو اپنی ملکیت (possessions) کے ذریعے متعین کرنے لگتا ہے۔ یوں مادہ پرستی فکر کو اور دنیا پرستی طرزِ عمل کو اس نہج پر لے آتی ہے جہاں “ہونا” (being) کی جگہ “رکھنا” (having) زندگی کا مرکزی اصول بن جاتا ہے۔

یہی صارفیت دراصل سرمایہ داری کے لیے ایندھن (fuel) کا کام کرتی ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام کی بقا اور ترقی کا انحصار اس بات پر ہے کہ طلب (demand) مسلسل بڑھتی رہے، اور اس کے لیے ضروری ہے کہ انسان کے اندر خواہشات کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ پیدا کیا جائے۔ اشتہارات، میڈیا، اور ثقافتی بیانیے انسان کو یہ باور کراتے ہیں کہ اس کی تکمیل مزید خریداری میں ہے۔ اس طرح ایک مصنوعی ضرورت (artificial need) پیدا کی جاتی ہے، جو حقیقت میں ضرورت نہیں بلکہ خواہش ہوتی ہے۔ فلسفیانہ طور پر یہ ایک “خواہش کی معیشت” (economy of desire) ہے، جہاں انسان کی داخلی خلا کو خارجی اشیاء سے بھرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ نتیجتاً، سرمایہ دار کے مفادات کو تقویت ملتی ہے کیونکہ ہر نئی خواہش ایک نئی منڈی (market) پیدا کرتی ہے۔

اس پورے نظام میں طاقت اور مفاد کا توازن یکطرفہ ہو جاتا ہے۔ سرمایہ دار پیداوار کے ذرائع، مارکیٹنگ کے وسائل اور بیانیہ سازی کے ذرائع پر قابض ہوتا ہے، جبکہ عام انسان محض ایک صارف کے طور پر اس نظام میں شامل ہوتا ہے۔ بظاہر اسے انتخاب (choice) کی آزادی حاصل ہوتی ہے، لیکن درحقیقت اس کے انتخاب کو پہلے ہی تشکیل دیا جا چکا ہوتا ہے۔ یہ وہی چیز ہے جسے بعض مفکرین “مخفی جبر” (invisible coercion) کہتے ہیں—یعنی انسان خود کو آزاد سمجھتے ہوئے بھی ایک مخصوص معاشی و ثقافتی ڈھانچے کے اندر قید ہوتا ہے۔ اس طرح سرمایہ دار زیادہ سے زیادہ منافع حاصل کرتا ہے، جبکہ صارف مسلسل اخراجات، قرض اور نفسیاتی دباؤ کا شکار ہوتا جاتا ہے۔

آخرکار، اس نظام کے نقصانات کا بوجھ عام انسان کے وجود پر منتقل ہو جاتا ہے۔ صارفیت کا یہ چکر انسان کو ایک ایسی دوڑ میں شامل کر دیتا ہے جس کا کوئی اختتام نہیں۔ ہر نئی چیز وقتی تسکین تو دیتی ہے، مگر جلد ہی وہ اپنی کشش کھو دیتی ہے، اور انسان ایک نئی خواہش کے پیچھے بھاگنے لگتا ہے۔ اس مسلسل تعاقب میں اس کی ذہنی سکون، تعلقات کی گہرائی اور داخلی اطمینان متاثر ہوتے ہیں۔ فلسفیانہ طور پر یہ ایک “وجودی خلا” (existential void) کی صورت اختیار کر لیتا ہے، جہاں انسان کے پاس سب کچھ ہونے کے باوجود وہ خود کو خالی محسوس کرتا ہے۔ یوں مادہ پرستی اور دنیا پرستی سے پیدا ہونے والی صارفیت، سرمایہ دار کے لیے فائدہ مند تو ثابت ہوتی ہے، مگر عام انسان کے لیے ایک ایسا جال بن جاتی ہے جس میں وہ اپنی آزادی، سکون اور معنویت کھو بیٹھتا ہے۔

مادہ پرستی اور دنیا پرستی کے نقصانات

مادہ پرستی اور دنیا پرستی انسان کے فکری زاویۂ نگاہ کو اس طرح محدود کر دیتی ہیں کہ وہ زندگی کی معنویت کو صرف مادی کامیابیوں میں تلاش کرنے لگتا ہے۔ اس سے انسان کی ذاتی زندگی میں مقصدیت کا بحران پیدا ہوتا ہے، کیونکہ وہ ان چیزوں کو مقصد بنا لیتا ہے جو بذاتِ خود عارضی اور تغیر پذیر ہیں۔

ذاتی سطح پر یہ رجحان انسان کو مسلسل تقابل (comparison) میں مبتلا رکھتا ہے۔ وہ اپنی کامیابی کا معیار دوسروں کی دولت، حیثیت اور آسائش سے متعین کرتا ہے، جس کے نتیجے میں احساسِ کمتری، حسد اور بے اطمینانی پیدا ہوتی ہے۔

نفسیاتی طور پر مادہ پرستی انسان کے اندر ایک نہ ختم ہونے والی خواہشات کی زنجیر پیدا کرتی ہے۔ ایک خواہش کی تکمیل کے بعد فوراً دوسری خواہش جنم لیتی ہے، جس سے ذہنی سکون حاصل نہیں ہو پاتا اور انسان دائمی بے چینی کا شکار رہتا ہے۔

دنیا پرستی انسان کی توجہ کو داخلی تعمیر (inner development) سے ہٹا کر خارجی مظاہر پر مرکوز کر دیتی ہے۔ اس کے نتیجے میں کردار، اخلاق اور روحانی بالیدگی جیسے پہلو نظر انداز ہو جاتے ہیں، جو ایک متوازن شخصیت کے لیے ناگزیر ہیں۔

معاشرتی سطح پر یہ رجحان تعلقات کو بھی متاثر کرتا ہے۔ انسان دوسروں کو بطور ذریعہ (means) دیکھنے لگتا ہے، نہ کہ بطور مقصد (end)، جس سے تعلقات میں خلوص کم اور مفاد پرستی زیادہ ہو جاتی ہے۔

یہی مفاد پرستی معاشرے میں اعتماد (trust) کے بحران کو جنم دیتی ہے۔ جب افراد ایک دوسرے کے ساتھ خالص انسانی بنیادوں پر نہیں بلکہ مفاد کے تحت جڑتے ہیں، تو سماجی رشتے کمزور اور غیر مستحکم ہو جاتے ہیں۔

مادہ پرستی کا ایک اور اثر یہ ہے کہ یہ انسان کو مسلسل مصروفیت (busyness) میں مبتلا رکھتی ہے۔ وہ زیادہ کمانے اور زیادہ حاصل کرنے کی دوڑ میں اس قدر الجھ جاتا ہے کہ اسے اپنی ذات، خاندان اور ذہنی سکون کے لیے وقت نہیں ملتا۔

نفسیاتی تحقیق یہ بھی بتاتی ہے کہ مادی اشیاء پر ضرورت سے زیادہ انحصار انسان میں اضطراب (anxiety) اور ڈپریشن (depression) کے امکانات کو بڑھاتا ہے، کیونکہ وہ اپنی خوشی کو ایسے عوامل سے جوڑ دیتا ہے جو اس کے مکمل اختیار میں نہیں ہوتے۔

دنیا پرستی انسان کے اندر قناعت (contentment) کی صلاحیت کو کمزور کر دیتی ہے۔ جب انسان کی نظر ہمیشہ “مزید” پر ہو، تو وہ “جو ہے” اس سے لطف اندوز ہونے کی صلاحیت کھو دیتا ہے، اور یہی کیفیت اسے دائمی عدمِ اطمینان میں مبتلا رکھتی ہے۔

آخرکار، یہ دونوں رجحانات مل کر انسان کی زندگی کو ایک پیچیدہ اور بوجھل تجربہ بنا دیتے ہیں۔ وہ بظاہر کامیابی کے حصول میں مصروف ہوتا ہے، مگر باطنی طور پر تھکن، بے معنویت اور جذباتی خلاء کا شکار ہو جاتا ہے، جو اس کی مجموعی زندگی کے معیار کو متاثر کرتا ہے۔

اسلام کا جواب

اسلام کا تصورِ حیات و کائنات ایک جامع اور ہمہ گیر فریم ورک فراہم کرتا ہے جس میں انسان کی حیثیت، اس کا مقصد اور اس کا انجام واضح طور پر متعین کر دیا جاتا ہے۔ قرآن مجید میں انسان کو محض مادی وجود نہیں بلکہ ایک با مقصد مخلوق کے طور پر پیش کیا گیا ہے، جس کی تخلیق عبادتِ الٰہی اور اخلاقی امتحان کے لیے ہوئی ہے۔ اس تناظر میں زندگی کا مرکز مادّی اشیاء نہیں بلکہ خدا کی ذات قرار پاتی ہے۔ جب مرکز بدل جاتا ہے تو ترجیحات بھی بدل جاتی ہیں، اور یہی تبدیلی انسان کو اس فکری و نفسیاتی کرب سے نکالتی ہے جو مادہ پرستی اور دنیا پرستی کے نتیجے میں پیدا ہوتا ہے۔

جب انسان خدا کو اپنی زندگی کا محور بنا لیتا ہے تو اس کی خواہشات ایک اعلیٰ اصول کے تابع ہو جاتی ہیں۔ وہ اپنی زندگی کو محض لذت یا مفاد کے حصول کا ذریعہ نہیں سمجھتا بلکہ اسے ایک امانت اور ذمہ داری کے طور پر دیکھتا ہے۔ یہ شعور اس کے اندر ایک داخلی نظم (inner order) پیدا کرتا ہے، جس میں اس کی خواہشات، جذبات اور اعمال ایک اخلاقی و روحانی معیار کے مطابق ڈھلنے لگتے ہیں۔ اس طرح وہ خواہشات کی اندھی دوڑ سے نکل کر ایک متوازن اور بامقصد زندگی کی طرف بڑھتا ہے۔

اسلام آخرت کو زندگی کا اصل مطمحِ نظر قرار دے کر انسان کو ایک وسیع تر تناظر عطا کرتا ہے۔ یہ تناظر زمانی اور مکانی حدود سے ماورا ہے، کیونکہ آخرت کا تصور انسان کو اس محدود دنیا کے بجائے ایک ابدی حقیقت سے جوڑ دیتا ہے۔ فلسفیانہ اعتبار سے یہ ایک “آفاقی شعور” (cosmic consciousness) کی تشکیل ہے، جس میں انسان اپنے وجود کو ایک بڑے اور بامعنی نظام کا حصہ سمجھتا ہے۔ اس شعور کے نتیجے میں دنیاوی محرکات اپنی مطلق حیثیت کھو دیتے ہیں، اور انسان ایک اعلیٰ مقصد کے تحت زندگی گزارنے لگتا ہے۔

یہی آفاقی تناظر انسان کو صارفیت کے چکر سے آزاد کرتا ہے۔ جب انسان کی شناخت اس کی ملکیت کے بجائے اس کے اخلاق اور اس کے خدا سے تعلق پر قائم ہو جاتی ہے تو مادی اشیاء کی کشش کم ہو جاتی ہے۔ وہ اشیاء کو مقصد نہیں بلکہ ذریعہ سمجھتا ہے، اور یہی فکری تبدیلی اسے اس مصنوعی خواہشات کے نظام سے نکال دیتی ہے جو سرمایہ دارانہ صارفیت نے قائم کیا ہے۔ یوں وہ اپنی آزادی کو دوبارہ حاصل کرتا ہے، کیونکہ اب اس کی خواہشات بیرونی دباؤ کے بجائے داخلی اصولوں کے تابع ہوتی ہیں۔

اسلامی تصورِ حیات انسان کی شخصیت میں اعلیٰ اخلاق کو بنیادی حیثیت دیتا ہے۔ صدق، امانت، عدل، صبر اور شکر جیسے اوصاف محض اخلاقی نصیحتیں نہیں بلکہ ایک مکمل طرزِ زندگی کی بنیاد ہیں۔ جب انسان ان اوصاف کو اپنی زندگی میں نافذ کرتا ہے تو اس کے اندر وسعتِ قلب و نظر پیدا ہوتی ہے۔ وہ دوسروں کے ساتھ ہمدردی، ایثار اور انصاف کا رویہ اختیار کرتا ہے، جو نہ صرف اس کی ذاتی زندگی کو سنوارتا ہے بلکہ معاشرتی سطح پر بھی ہم آہنگی پیدا کرتا ہے۔

مزید برآں، اسلام قناعت (contentment) کو ایک اعلیٰ روحانی مقام قرار دیتا ہے، جو انسان کو حرص اور لالچ سے محفوظ رکھتا ہے۔ قناعت کا مطلب یہ نہیں کہ انسان کوشش ترک کر دے، بلکہ یہ ہے کہ وہ اپنی کوشش کو ایک اخلاقی دائرے میں رکھتے ہوئے نتائج پر مطمئن رہے۔ اس رویے کے نتیجے میں انسان کے اندر ایک گہرا سکون پیدا ہوتا ہے، کیونکہ وہ اپنی خوشی کو ان چیزوں سے وابستہ نہیں کرتا جو مسلسل بدلتی رہتی ہیں۔ اس طرح اس کی زندگی میں ایک استحکام اور توازن آ جاتا ہے۔

آخرکار، یہ تمام عناصر—خدا مرکزیت، آخرت کا شعور، اخلاقی بالیدگی اور قناعت—مل کر انسان کی زندگی کو ایک ایسے مقام پر لے آتے ہیں جہاں وہ حقیقی اطمینان اور سکونِ قلب حاصل کرتا ہے۔ یہ سکون محض عارضی یا سطحی نہیں بلکہ ایک گہرا وجودی اطمینان ہے، جو انسان کے اندرونی اور بیرونی دونوں جہانوں کو ہم آہنگ کر دیتا ہے۔ یوں اسلام کا تصورِ حیات نہ صرف انسان کو مادہ پرستی اور دنیا پرستی کے کرب سے آزاد کرتا ہے بلکہ اسے ایک بامعنی، متوازن اور پُرسکون زندگی عطا کرتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے