تمہید
انسان کی زندگی میں معنویت اور سمت کی جستجو ایک بنیادی حقیقت ہے۔ یہ صرف ایک نفسیاتی تسکین کا سبب نہیں، بلکہ انسان کی وجودی ضرورت ہے۔ معنویت سے محرومی انسان کو وجودی بحران میں مبتلا کر دیتی ہے۔ معنویت اور مقصدیت انسان کے لیے استقامت اور فلاح کا بنیادی ذریعہ ہوتا ہے۔ گویا کہ یہ کوئی ذاتی انتخاب نہیں، بلکہ زندگی میں رنگ بھرنے کے لیے ناگزیر شئی ہے۔
یہ نہایت اہم ہے کہ ہم ”مقصدِ زندگی“ اور وقتی لذت یا سطحی قسم کی خوشی (Hedonic Happiness) کے درمیان کے فرق کو سمجھیں۔ وقتی لذت یا سطحی قسم کی خوشیاں انسان کی بامقصد زندگی کا حتمی ہدف نہیں ہو سکتیں۔ فلسفیانہ مباحث میں اکسر انسانی سعادت (Eudaimonia) کو لذتیت (Hedonism) سے الگ کر کے دیکھا جاتا ہے۔ سعادت کی بنیاد صداقت، عظمتِ کردار، معنویت اور ذاتی نشو نما پر ہوتی ہے۔ اس کے برعکس لذتیت کی بنیاد فوری آرام، لطف اندوزی اور تکلیف سے نجات پر ہوتی ہے۔ یعنی مسرت کے ان دو اقسام میں ایک معیاری امتیاز قائم ہے۔ لذتیت کا تعلق فوری تسکین اور اچھا محسوس کرنے سے ہے، جب کہ سعادت کا تعلق اعلیٰ اقدار پر مبنی فضیلت کی زندگی گزارنے سے ہے۔ یہ بات واضح ہے کہ معنویت سے پُر سعادت کی زندگی انسان کو زیادہ گہری اور اور دیر تک باقی رہنے والی مسرت فراہم کرتی ہے، اور محض لذت کے پیچھے دوڑنے کے مقابلے میں ایک اعلیٰ ہدف ہوتا ہے۔ یہ بنیادی نکتہ ذاتی مقصد کی فطرت اور اس کی نشو نما کے بارے میں مزید غور و فکر کے لیے راستہ ہموار کرتا ہے۔
فلاح، لذت کے پرے
ارسطو نے کہا تھا کہ ہر جاندار یا انسان کی بنائی ہوئی شئی اپنے اندر ایک مخصوص صلاحیت رکھتی ہیں جو اسے دوسروں سے ممتاز کرتی ہے۔ انسان کی عقل و فکر کی قوت اسے وہی امتیاز بخشتی ہے۔ اسی بنا پر ارسطو کے نزدیک سعادت اس وقت حاصل ہوتی ہے جب انسان اپنی بنیادی صلاحیتوں، یعنی قوتِ عقل و فکر کو بہترین انداز میں بروئے کار لاتا ہے۔ فکری اور اخلاقی فضیلتیں انسان کو اپنی صلاحیتوں کو عمدگی سے استعمال کرنے کے قابل بناتی ہیں۔ ساری فضیلتیں پیدائشی نہیں ہوتیں، بلکہ زیادہ تر فضیلتیں طویل عادت سازی، غور و فکر، اور درست سماجی تجربات کے ذریعے پیدا کی جاتی ہیں۔ شجاعت، اعتدال، عدل، حکمت وغیرہ بنیادی اخلاقی فضائل میں شامل ہیں۔ اسی طرح فکری فضائل میں نظریاتی حکمت (Sofia) اور عملی حکمت (Phronesis) کو مرکزی اہمیت حاصل ہے۔
علم القیم میں مقصدِ حیات
علم القیم (Axiology) اقدار کے فلسفیانہ مطالعے کا شعبہ ہے جو اخلاقیات (یعنی انسانی اعمال کی درستی و نادرستی) اور جمالیات کا مطالعہ کرتا ہے۔ اس مطالعے میں یہ بات بہت اہمیت رکھتی ہے کہ وہ کون سی بنیادیں ہیں جن پر افراد اور معاشرے کسی چیز کو ”بہتر “ یا ”زیادہ قیمتی“ سمجھتے ہیں۔ علم القیم میں ایک بنیادی امتیاز ذاتی قدر (Intrinsic Value) اور آلہ جاتی قدر (Instrumental Value) میں کیا جاتا ہے۔ ذاتی قدر سے مراد اسی شئ یا عمل کی اپنی اصل حیثیت میں موجود اہمیت ہے، جب کہ آلہ جاتی قدر اس کی افادیت ہے جو کسی دوسرے مقصد کے حصول میں مدد دے۔ مقصدِ حیات کے تناظر میں حقیقی اطمینان عموماً انہیں ذاتی اقدار سے جڑا ہوتا ہے جنہیں ان کی اپنی وجودی خصوصیات کی وجہ سے اپنایا جاتا ہے، نہ کہ صرف اس لیے کہ وہ کسی دوسرے نتیجے یا فائدے تک پہونچا سکیں۔
علم القیم ذاتی اقدار اور ترجیحات کو سمجھنے کے لیے ایک فکری فریم ورک فراہم کرتا ہے۔ یہ مختلف امکانات کا جائزہ لینے کا ایسا ذریعہ مہیا کرتا ہے جس کی بنیاد اس بات پر ہو کہ کون سا انتخاب ان نتائج کو ممکن بنائے گا جو اس کے لیے زیادہ قیمتی ہیں اور معنویت رکھتے ہیں۔ اقدار کی وضاحت ذاتی نشونما اور مقصدِ حیات کی تشکیل کا ایک بنیادی مرحلہ ہوتا ہے۔ یہ وہ فکری بنیاد فراہم کرتا ہے جو جس کو سامنے رکھ کر اس بات کا فیصلہ کیا جاتا ہے کہ زندگی میں حقیقی معنوں میں وہ کون سی چیزیں ہیں جو ”قابلِ قدر“ ہیں۔ اگر ارسطو کے Eudaimonia کا تعلق اس بات سے ہے کہ انسان کی زندگی میں کیا چیز واقعی قابلِ قدر ہے، تو علم القیم فرد کو یہ متعین کرنے میں مدد دیتی ہے کہ اس کے لیے کیا قابلِ قدر ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ مقصد محض ایک مجرد تصور نہیں بلکہ ذاتی اقدار کی درجہ بندی سے متعلق ہے، جو ایک قطب نما کی طرح کام کرتا اور انسان کی رہنمائی بامعنی اور باکمال زندگی کی طرف کرتا ہے۔
باوجودیکہ علم القیم پہلے سے مانے ہوئے بدیہی تصورات پر انحصار کرتا ہے، اور بعض اوقات جمود کا شکار ہوتا ہے، اس بات سے فرار نہیں کہ اقدار کا انفرادی ادراک بآسانی متاثر یا مسخ ہو سکتا ہے، اور بالآخر ان کی تصدیق فرد کے اپنے شعور ہی سے جنم لیتی ہے۔ یعنی آفاقی اقدار موجود ہو سکتے ہیں، لیکن ان کی تعبیر اور ترجیح انتہائی ذاتی نوعیت رکھتی ہے، اور تداولِ زمانہ کے ساتھ تغیر پذیر ہوتی ہے۔ لہٰذا ہم کہہ سکتے ہیں کہ مقصدِ حیات کوئی آفاقی طور پر طے شدہ چیز نہیں، بلکہ ایک ذاتی اور خود تخلیق کردہ سفر ہے، جو مسلسل خود احتسابی اور از سرِ نو جائزے کا متقاضی رہتا ہے۔
داخلی تحریک کی تفہیم
محرکات ہمیشہ بیرونی جزا و سزا پر منحصر نہیں ہوتے۔ انسانی حرکت و عمل کا ایک بڑا حصہ اندرونی محرکات کا نتیجہ ہوتا ہے۔ یہ داخلی تحریک جدت کی تلاش، فطری دلچسپی، معنویت، خود مختاری کا احساس جیسے عوامل سے پروان چڑھتی ہے۔ انسان جب ایسی سرگرمیوں میں مشغول ہوتا ہے جو اس کی صلاحیتوں کو چیلینج کریں، مستقل توجہ قائم رکھیں، اور لطف فراہم کریں، تو وہ ایک الگ ہی کیفیت کا تجربہ کرتا ہے۔ انگریزی میں اس کو Flow کہتے ہیں۔
ڈیسی اور رائن (Deci & Ryan) کا پیش کردہ نظریۂ خود ارادیت اس بات پر زور دیتا ہے کہ اہلیت، کایابی اور خودمختاری جیسی بنیادی انسانی ضروریات داخلی محرک کے عوامل ہیں۔ کسی عمل میں مشغول ہونے کے بعد خودمختاری کا احساس اس محرکاتی عمل کا مرکزی جز ہے۔ داخلی محرک اور بیرونی محرک کے درمیان امتیاز بامقصد عمل کی تفہیم میں بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔ مقصد، اپنی اصل میں، بیرونی دباؤ یا ترغیبات کے بجائے اندرونی رہنمائی سے جنم لیتا ہے۔ گویا کہ حقیقی مقصد پر مبنی عمل اندرونی سرچشمے سے پھوٹتا ہے، نہ کہ باہر سے مسلط کیا جاتا ہے۔ چنانچہ مقصد کی پرورش کے لیے ایسے ماحول کا پیدا ہونا ضروری ہے جو خود مختاری، اہلیت اور تعلق کے احساس کو زیادہ سے زیادہ فروغ دے، نہ کہ صرف بیرونی جزا و سزا پر منحصر ہو۔
خواہش (Desire) وہ بنیادی تصور ہے جسے انسانی رویے کے پیچھے کارفرما قوت قرار دیا جاتا ہے۔ ارسطو نے اسے ”عمل کا نقطۂ آغاز“ کہا ہے جبکہ افلاطون اسے انسانی روح کا ایسا بنیادی پہلو گردانتے ہیں جو انسان کو اپنے مقاصد اور تمناؤں کی طرف مائل کرتا ہے۔ خواہش میں جب شدت پیدا ہو جاتی ہے تو اسے جذبہ (Passion) کا نام دیا جاتا ہے جو پرجوش دلچسپی، ولولہ انگیز مسرت یا گہری جذباتی کشش کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے۔ یہ جذبات سے گہرا تعلق رکھتی ہے اور اکثر خواہش کو مہمیز دینے والے ایک محرک کے طور پر رو بہ عمل ہوتی ہے۔
جذبہ اگر بے پایاں ہو، اور اسے بے قابو چھوڑ دیا جائے تو ممکن ہے کہ وہ نقصاندہ ثابت ہو، لیکن اگر اسے قابو میں رکھا جائے تو یہ تخلیقی قوت کے لیے نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اس لئے عقل کی ضرورت ہے تاکہ وہ جذبات کی رہنمائی کرتی رہے۔
داماسیو (Damasio) نے ایک تحقیق کے بعد لکھا ہے کہ ”عقلی فیصلوں کے لیے احساسات عموماً ناگزیر ہوتے ہیں“۔ گویا کہ جذبات اور خوہشات، اگر درست طور پر ہم آہنگ کئے جائیں اور ان کی صحیح رہنمائی کی جائے تو نہ صرف یہ کہ یہ عقل کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنتے، بلکہ مؤثر فیصلہ سازی کے لازمی عناصر کے طور پر کام کرتے ہیں۔
محرکات کے نظریات کا مطالعہ ایک زمانے تک بیرونی محرکات پر مرکوز رہی، مگر اب جدت، دلچسپی اور خودمختاری کی اہمیت کو تسلیم کیا جانے لگا ہے۔ اس تفہیم کے بعد، اور اس ادراک کے بعد کہ عقلی فیصلوں میں احساسات بنیادی کردار ادا کرتے ہیں، جو حقیقت سامنے آتی ہے، وہ یہ ہے کہ: مقصد کے لیے حقیقی محرک نہ تو سراسر عقلی ہے، اور نہ ہی مکمل طور پر جذباتی۔ بلکہ یہ ایک نازک اور باہم مربوط تعامل ہے، جس میں مقصد کا ادراکی شعور (عقل)، خواہش اور جذبے (جذباتی قوت) کی توانائی کو قابو میں لا کر اس کی سمت متعین کرتا ہے، اور اس طرح ایک مربوط، پائیدار اور با معنی عمل کو جنم دیتا ہے۔
فلسفۂ وجودیت سے سبق
فلسفۂ وجودیت کے مطابق انسان پہلے سے کسی طے شدہ فطرت یا مقصد کے ساتھ پیدا نہیں ہوتا بلکہ محض وجود میں ”پھینک دیا جاتا ہے“، اور پھر وہ اپنی شناخت اپنے انتخابات اور اعمال کے ذریعہ اپنی خودی کی تخلیق کرتا ہے۔ اس فلسفہ کا یہ بنیادی حصہ کہ یہ کائنات اور انسانی وجود بے معنی اور بے مقصد ہے، عقل کے سراسر خلاف ہے۔ آفاق و انفس کا مطالعہ اگر تعصب سے اوپر اٹھ کر سنجیدگی کے ساتھ کیا جائے تو انسان لا محالہ ”ما خلقتَ ھٰذا باطلاً“ تک پہونچتا ہے۔ لیکن ”خُذ ما صفا، دع ما کدِر“ کے اصول پر عمل کرتے ہوئے اس فلسفے سے کافی کچھ سیکھا جا سکتا ہے۔
وجودیت کا اصول کہ ”وجود، ماہیت پر مقدم ہے“ مقصد کو بیرونی دریافت سے ہٹا کر داخلی تخلیق کی طرف منتقل کرتا ہے۔ یعنی مقصد کوئی پہلے سے موجود شئ نہیں ہے جس کے ملنے کا انتظار کیا جائے، بلکہ یہ وہ حقیقت ہے جسے انسان کو شعوری انتخاب، مسلسل عمل اور سنجیدہ وابستگیوں کے ذریعے خود تعمیر کرنا پڑتا ہے۔ یہ تصور فرد پر ایک عظیم ذمہ داری عائد کرتا ہے، اور مقصد کو مسلسل جاری رہنے والا عمل بنا دیتا ہے جس میں انسان اپنی زندگی کا خود مصنف ہوتا ہے، نہ کہ پہلے سے طے شدہ تقدیر کا محض قبول کنندہ۔ اور یہی وہ ذمہ داری ہے جس کی بہتر ادائگی پر اخروی کامیابی و کامرانی کا انحصار ہے۔
فلسفۂ جبریت سے سبق
جبریت (Stoicism) کو اس طرح بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ انسان کو صرف ان چیزوں پر توجہ دینی چاہئے جو اس کے اختیار میں ہیں، اور جو چیزیں اس کے دائرۂ اختیار سے باہر ہیں، ان سے دل کی وابستگی چھوڑ دینی چاہئے۔ اس طرح انسان زندگی کی ہنگامہ آرائیوں کے درمیان اپنے لئے سکون اور اطمینان پیدا کر سکتا ہے۔ یہ فلسفہ چار بنیادی فضائل پر قائم ہے: شجاعت، اعتدال، عدل، اور حکمت۔ یہ فضائل داخلی حدبندیوں کا کردار ادا کرتی ہیں جو انسان کو اپنی ذات پر قابو پانے اور مشکلات میں ثابت قدم رہنے کے لیے قوت فراہم کرتا ہے۔
شجاعت: شجاعت کا مطلب ہوتا ہے مصیبت اور مشکل حالات کے سامنے مضبوطی کے ساتھ ڈٹ جانا۔ فلسفۂ جبریت مشکلات کو فائدہ مند سمجھتا ہے۔ اس لئے نہیں کہ وہ خوشگوار ہوتا ہے، بلکہ اس لئے کہ وہ انسان کو اپنے کردار کو نکھارنے اور سچائی کو ثابت کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ بقول سینیکا (Seneca)، اس شخص سے زیادہ بدقسمت کوئی نہیں جس نے کبھی مشکلات کا سامنا نہ کیا ہو، کیوں کہ اسے اپنے آپ کو ثابت کرنے کا موقع ہی نہیں ملا“۔ اس لحاظ سے شجاعت کا ظہور مشکلات کا سامنا کرنے سے ہوتا ہے، نہ کہ صرف ان پر غالب آ جانے سے۔
اعتدال: اعتدال ایک ایسی خوبی ہے جو میانہ روی اور خود کو قابو میں رکھنے کی تعلیم دیتی ہے۔ یہ افراط و تفریط سے اجتناب کرنے کی ترغیب دیتی ہے۔
عدل: عدل کو بنیادی فضل تصور کیا جاتا ہے جو جرأت، اعتدال اور دانائی کے عملی اظہار پر اثر انداز ہوتا ہے۔ یہ انسان کو اس بات کی تربیت دیتا ہے کہ وہ دنیا کو ویسے ہی پہچانے جیسی کہ وہ ہے، اور ساتھ ہی ایک بہتر حقیقت کا تصور کر کے اسے عملی شکل دینے کی کوشش کرے۔ عدل افراد کو اس بات پر آمادہ کرتا ہے کہ وہ دوسروں کی ضروریات کو پہلے سے سمجھیں اور پورا کریں، اور اپنے ہم جنس انسانوں کے ساتھ اپنی ذمہ داری کو تسلیم کریں۔
حکمت: حکمت وہ بصیرت ہے جو دیگر فضائل کی عملی مشق سے حاصل ہونے والے تجربے سے پیدا ہوتی ہے۔ اس کا تعلق اس بات سے ہے کہ انسان کب اور کیسے دیگر فضائل کو بروئے کار لائے، کون سی چیزیں واقعی انسانیت کے لیے فائدہ مند ہیں، اور کن امور کو ”غیر اہم“ سمجھا جائے، مثلاً دولت یا شہرت اپنی فطرت میں اچھی یا بری نہیں ہوتیں۔
جبریت کا اصول ہے کہ انسان اپنی توجہ صرف ان چیزوں پر مرکوز کرے جو اس کے اختیار میں ہیں، اور یہی اصول زندگی کی ناگزیر مشکلات سے نمٹنے کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتا ہے۔ اس نقطۂ نظر کے مطابق بیرونی حالات چاہے کتنے ہی اثر انداز ہوں، لیکن انسان کی بامقصد عمل کرنے کی صلاحیت برقرار رہتی ہے۔ یہ فکر انسان کے اندر ایک مضبوط قلعہ قائم کرتی ہے جو اسے بیرونی ہنگامہ آرائیوں کے باوجود مسلسل اپنے مقصد کی طرف گامزن رہنے کے قابل بناتا ہے، اور حتیٰ کہ مشکلات کے ذریعے بھی ذاتی نشو نما کا موقع فراہم کرتا ہے۔
خود احتسابی کی طاقت
خود احتسابی انسان کی خود شناسی اور ذاتی نشو نما کے لیے ایک نہایت اہم وسیلہ ہے۔ سقراط کا بتایا ہوا طریقہ کار جس کی بنیاد سنجیدہ اورمنظم مکالمے پر مبنی ہے، کافی مؤثر ہے، کیوں کہ یہ انسان کو اپنی مفروضات کو پرکھنے، افکار کو واضح کرنے اور گہرائی میں پوشیدہ اقدار و عقائد کو آشکار کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ سقراط کہتا تھا کہ ”ایک ایسی زندگی جسے جانچا پرکھا نہ گیا ہو، جینے کے قابل نہیں۔“
باقاعدگی سے خود احتسابی کرنے کے بے شمار فائدے ہیں۔ اس سے خود آگہی پروان چڑھتی ہے، جذبات پر قابو پانے کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے، تعلقات میں بہتری پیدا ہوتی ہے، استقامت کی صفت پیدا ہوتی ہے، مقاصد اور اقدار واضح ہوتے ہیں، شخصیت کی نشو نما اور تبدیلی کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے اور مسائل حل کرنے کی صلاحیت میں نکھار آتا ہے۔
خود احتسابی کا طریقہ یہ ہے کہ ایک پرسکون اور آرام دہ جگہ تلاش کی جائے، ذہنی یکسوئی کے ساتھ جسمانی کیفیت پر غور کیا جائے، اپنے جذبات کے محرکات پر غور کیا جائے، ان کے پیچھے کی ضروریات کو سمجھنے کی کوشش کی جائے، قابلِ عمل اقدامات پر غور کیا جائے اور اپنے تجربات کا جائزہ لیا جائے۔ اپنی کمزوریوں اور وقت کے ساتھ آنے والی تبدیلیوں کو نوٹ کرنے کے لیے ایک ذاتی ڈائری رکھنا ضروری ہے۔ خود احتسابی کا یہ طریقہ محض ابتدائی خود شناسی کے لیے نہیں ہے، بلکہ یہ ایک مسلسل جاری رہنے والا عمل ہونا چاہئے جو لگاتار سوالات اٹھانے اور اپنے خیالات کو مزید بہتر بنانے کے لیے چلتے رہنا چاہئے۔
خودی کے ساتھ اعمال کی ہم آہنگی
مقصد کو پا لینے کا حاصل یہ ہونا چاہئے کہ انسان اہداف، توقعات اور روز مرہ کے اعمال کو اپنی انفرادی خصوصیات اور بنیادی اقدار کے ساتھ ہم آہنگ کرلے۔ یہ مطابقت انسان کو گہری معنویت اور اخلاص کا احساس عطا کرتی ہے اور دباؤ اورتھکن سے بچنے میں مدد دیتی ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ انسان اپنی اقدار کی بنیاد پر اہداف مقرر کرے، جو فوری اور قابلِ عمل اقدامات سے شروع ہو کر درمیانی اور طویل مدتی مقاصد تک وسعت پائیں۔ یہ عمل اس بات کا متقاضی ہے کہ انسان اپنی مجرد اقدار کو مخصوص عملی اقدامات میں ڈھالے۔
چکسنٹمہائی (Csiksgentmihalyi) کا پیش کردہ تصور فلو (Flow) ہم آہنگی اور باطنی تسکین کا اہم اشاریہ ہے۔ اس کے نزدیک فلو اس کیفیت کا نام ہے جو اس وقت پیدا ہوتی ہے جب انسان کسی ایسے عمل میں مشغول ہوتا ہے جو چیلینج سے بھرا ہوا ہو، اور وہ عمل اس کی جسمانی یا ذہنی صلاحیتوں کو بھرپور طور پر استعمال کر رہا ہو۔ اس کے نتیجے میں انسان گہری مسرت اور اپنی خودی پر مکمل توجہ حاصل کرتا ہے۔
ذاتی قوتوں کو بروئے کار لانا، جو کہ سیلگمین (Seligman) کی مثبت نفسیات کا بنیادی اصول ہے، انسان کو فطری طور پر تسکین بخش سرگرمیوں میں مصروف ہونے کا موقع دیتا ہے۔ کامیاب افراد عموماً اپنی صلاحیتوں سے واقف ہوتے ہیں اور ایسے ہی کاموں کا انتخاب کرتے ہیں جو ان کی صلاحیتوں سے ہم آہنگ ہوں۔
ہم آہنگی کا یہ تصور محض کوئی نظریاتی خیال نہیں ہے، بلکہ یہ فلاح و بہبود کی ایک عملی ضرورت ہے۔ جب اعمال اقدار کے مطابق ہوں تو یہ اخلاص اور اطمینان کو جنم دیتا ہے، اور اس کے برعکس عدم ہم آہنگی ذہنی دباؤ اور تھکن کا باعث بنتی ہے۔ یہ ایک مربوط سلسلۂ عمل ہے، یعنی اقدار کو واضح کرنا اور ان کے مطابق عمل کرنا مقصدیت اور سکونِ قلب کو پیدا کرتا ہے، جو بدلے میں انسان کو مزید بامقصد زندگی گزارنے کی ترغیب دیتا ہے۔ یوں مقصدیت کوئی آخری منزل نہیں، بلکہ ایک مسلسل جاری رہنے والا عمل ہے۔ ایک ایسا سفر جس میں انسان خود کی اصلاح کرتا ہے، اور بہتر سے بہتر ہونے کے سفر پر گامزن رہتا ہے، جو اس کی حقیقی کامیابی اور نشو نما کا ذریعہ بنتا ہے۔
مقصدیت اور معاشرہ
مقصدِ حیات کو صرف انفرادی نقطۂ نظر سے دیکھنا ادھورا ہے، کیوں کہ انسان فطری طور پر ایک سماجی مخلوق ہے۔ فرد اور معاشرہ باہم ایک دوسرے پر انحصار رکھتے ہیں۔ معاشرہ فرد کی نشو نما کے لیے ضروری حالات فراہم کرتا ہے، جبکہ فرد اپنی صلاحیت اور محنت کے ذریعے معاشرے کی بہتری میں حصہ دار بنتا ہے۔ معاشرے کا آخری مقصد یہ ہے کہ افراد کے لیے ایک بہتر اور خوشگوار زندگی کے اسباب مہیا کرے اور ان کی شخصیت کی ہمہ جہت نشو نما کے مواقع پیدا کرے۔
اگرچہ مقصدیت کے موضوع پر قدیم بحثیں خود شناسی پر مرکوز رہی ہیں، لیکن انسانی فطرت کا سماجی پہلو یہ واضح کرتا ہے کہ فرد کا مقصد تنہائی میں پورا نہیں ہو سکتا۔ یعنی حقیقی نشو نما ذاتی تسکین سے آگے بڑھ کر تعلقات اور رشتوں کی وسعت کو بھی شامل رکھتی ہے۔ اس لیے مقصد صرف ”میں“ کا نہیں، بلکہ اس سے آگے بڑھ کر ”میں اور دوسروں کے ساتھ میرا تعلق“ کا ہے، جو اس حقیقت کو ظاہر کرتا ہے کہ خدمت، شراکت، اور سماجی وابستگی صرف اخلاقی ذمہ داری نہیں ہیں، بلکہ وہ ایک مکمل اور بامعنی زندگی کے بنیادی اجزاء ہیں۔
وکٹر فرانکل کے مطابق زندگی کا معنی صرف کام کے ذریعے نہیں یا مصیبتوں کا سامنا کر کے ہی نہیں بلکہ خاص طور پر تعلقات کے ذریعے، یعنی محبت اور دوسروں کے ساتھ متعلق ہونے کے تجربے سے بھی دریافت کیا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ معنویت محض انسان کے اندر تلاش کرنے سے نہیں ملتا، بلکہ اسے اپنے آپ سے آگے بڑھ کر تلاش کرنا ضروری ہوتا ہے۔ یہ زاویۂ نگاہ اس فضیلت عدل سے ہم آہنگ ہے، جو اس بات پر زور دیتی ہے کہ انسان دنیا کی ضروریات کو پہچانے اور انہیں پورا کرنے کی سعی کرے، اور اپنے ہم جنس انسانوں کے تئیں اپنی ذمہ داری کو قبول کرے۔
اپنی حیات میں با معنی کردار ادا کرنے کے لیے بڑے کارنامے ضروری نہیں، بلکہ چھوٹے مگر پُر معنی کام یا ایسے اقدامات کی صورت میں بھی ہو سکتے ہیں جو روز مرہ کی زندگی میں ایک دائمی مثبت اثر پیدا کریں۔ یہ تصور کہ معنویت اپنے آپ سے آگے بڑھ کر اور عدل کے عملی اظہار کے ذریعے حاصل کیا جا سکتا ہے، ایک باہمی تعلق کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ اوروں کے لیے تعمیری کردار ادا کر کے اور مثبت رشتے قائم کر کے، انسان نہ صرف یہ کہ دنیا کو متاثر کرتا ہے، بلکہ اپنے اندر بھی ایک گہری مقصدیت اور کمال کا احساس کرتا ہے۔ اس طرح دوسروں کی زندگیوں میں معنی پیدا کرنے کا عمل بیک وقت اپنی زندگی میں بھی رنگ بھرتا ہے، اور یوں ایک ایسا خوبصورت سلسلہ وجود میں آتا ہے جس میں انفرادی مقصد اور اجتماعی فلاح آپس میں مربوط ہوتے ہیں۔
نتیجہ
مذکورہ بالا بحث اس بات کو آشکار کرتی ہے کہ مقصدیت کوئی جامد شئ نہیں بلکہ ایک Dynamic اور مسلسل جاری رہنے والا عمل ہے۔ جیسے جیسے انسان وقت کے ساتھ نشو نما پاتا ہے، نئی آزمائشوں میں مبتلا ہوتا ہے اور اپنے گرد و پیش کی دنیا سے آگاہ ہوتا ہے، اس کا مقصد بدلتا اور نکھرتا رہتا ہے۔ فرانکل نے اسے یوں بیان کیا ہے کہ ”اہم یہ نہیں ہے کہ زندگی کا عمومی معنی کیا ہے، بلکہ اہم یہ ہے کہ کسی خاص لمحے میں ایک شخص کی زندگی کا مخصوص معنی کیا ہے؟“
مقصد کو ایک جامد دریافت کے طور پر دیکھنے کے بجائے ایک ارتقائی سفر کے طور پر دیکھنا، اس بات سے ہم آہنگی رکھتا ہے کہ حقیقت تک پہونچنے کا عمل کبھی تکمیل نہیں پاتا۔ بامقصد زندگی جینے کا مطلب ہے انسان مستقل ”بنتا رہے“، اپنے اقدار کو نکھارتا رہے، نئی آزمائشوں سے سیکھتا رہے، اور اپنی زندگی کی معنویت کو بار بار تخلیق کرتا رہے۔ یہ نقطۂ نظر انسان کو اس دباؤ سے آزاد کر کے کہ وہ ایک کامل مقصد کا متلاشی ہو، اور اسے ایک عمر بھر جاری رہنے والے سفر کی طرف مائل کردیتا ہے جو نشو نما، تبدیلی اور معنویت پر مبنی ہے۔
مقصدیت کی تلاش انسان کے لیے مسلسل خود شناسی اور بامعنی زندگی گزارنے کی اپیل ہے۔ نطشے کا قول کہ ”جس کے پاس جینے کا کوئی مقصد ہو، وہ تقریباً ہر طرح کے حالات کو برداشت کر سکتا ہے“، اس استقامت کو شامل ہے جو مقصدیت انسان کو عطا کرتی ہے۔ اس سفر کا آغاز چھوٹے چھوٹے اقدام سے ہونا چاہئے، انسان کو اپنی اقدار پر غور کرنا چاہئے، اپنی ذمہ داریوں کو قبول کرنا چاہئے، اور ایسے فیصلے کرنے چاہئے جو اس کے ابھرتے ہوئے مقصد کے ساتھ ہم آہنگ ہو۔



