صبرِ جمیل: مشکلات میں ثابت قدم رہنے کا نبوی طریقہ


عربی لفظ صبر مادہ ’ص ب ر‘ سے نکلا ہے، جسکی بنیادی معنی ہیں ”روکنا، قابو میں رکھنا، یا باندھ لینا“۔ لغوی اعتبار سے صبر کا مفہوم صرف برداشت یا خاموشی نہیں بلکہ شعوری ضبط نفس ہے۔ یعنی انسان اپنے نفس کو مایوسی، زبان کو شکایت، اور اعضاء کو غلط رد عمل سے روک لے۔ یہ لسانی بنیاد اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ صبر کوئی عمل سے دوری یا کمزوری کی علامت نہیں، بلکہ ایک شعوری اور روحانی قوت کا مظہر ہے جو انسان کے ذہن کو سخت حالات میں مایوسی سے بچاتی ہے، اس کی زبان کو شکوہ و شکایت سے باز رکھتی ہے، اور اعضاء و جوارح کو بے قابو رد عمل سے روکتی ہے۔

عقیدے کے اعتبار سے، صبر ایمان کا لازمی جزو ہے، جس کا قرآن کریم نے سو سے زائد مرتبہ تذکرہ کیا ہے۔ قرآن اسے اللہ کی محبت، نصرت اور اجر عظیم سے مربوط کر کے دیکھتا ہے۔

یہ قیادت کے لیے بنیادی شرط کی حیثیت رکھتا ہے اور اپنے اندر ایک انقلابی قوت رکھتا ہے جو ایک مؤمن کا سب سے قیمتی سرمایہ ہو سکتا ہے۔

صبر کا اعلیٰ ترین مقام ’صبر جمیل‘ ہے۔ صبر جمیل وہ کیفیت ہے جس میں انسان کے دل میں سکون، رضا اور اطمینان قائم رہتا ہے چاہے حالات بظاہر کتنے ہی مخالف اور تکلیف دہ کیوں نہ ہوں۔ صبر جمیل کا مطلب یہ نہیں ہے کہ انسان غم و اندوہ سے بالکل خالی ہو جائے، بلکہ اس کا مطلب ہے کہ انسان اپنی تمام تکلیفوں اور شکوؤں کو بندوں کے بجائے صرف خدا کے حضور پیش کرے۔ جیسا کہ امام ابن قیم ؒ نے وضاحت کی ہے کہ اللہ سے شکایت کرنا عبادت اور انحصاری کی علامت ہے، جبکہ مخلوق سے شکایت کرنا تقدیر الٰہی پر ناراضی کو ظاہر کرتا ہے۔ اس طرح صبر جمیل آزمائش کو ایمان کے متزلزل ہونے کا ذریعہ بنانے کے بجائے اسے قرب الٰہی کا ذریعہ بنا دیتا ہے۔

صبر جمیل، ایک انبیائی اپروچ

یعقوب علیہ السلام: ایک باپ کا صبر جمیل

سورة یوسف میں حضرت یعقوب ؑ کے واقعہ کے بیان میں صبر جمیل کا قرآنی تصور واضح طور پر سامنے آ جاتا ہے۔ جب ان کے بیٹوں نے انہیں یہ جھوٹی خبر دی کہ یوسف ؑ کو بھیڑیے نے کھا لیا ہے، تو باوجودیکہ وہ جانتے تھے کہ یہ حقیقت نہیں ہے، اور اس بات سے بھی واقف تھے کہ یوسف ؑ مفقود ہو چکے ہیں، ان کا رد عمل بے مثال تھا۔ انہوں نے کہا ”فصبر جمیل“ اور پھر کہا ”واللہ المستعان“۔ گویا کہ صبر جمیل صرف ’برداشت‘ کرنے کا نام نہیں ہے بلکہ اللہ پر پورا توکل اس میں شامل ہے جو ایک مؤمن کے ایمان کو مضبوط کرتا ہے اور دل کو اطمینان بخشتا ہے۔

حضرت یعقوب ؑ کا غم بہت گہرا تھا، یہاں تک کہ مسلسل رونے کی وجہ سے آنکھوں کی بینائی جاتی رہی۔ مگر جب ان کے بیٹوں نے ان کے غم پر تعجب کیا تو انہوں نے پُر وقار انداز میں فرمایا: ”اِنما اشکو بثی و حزنی الی اللہ“۔ یعقوب علیہ السلام کا یہ قول اس بات کی دلیل ہے کہ غم کا ظہار صبر کے منافی نہیں ہے، بشرطیکہ وہ شکوہ کے بجائے اللہ کے سامنے عاجزی اور اس سے تعلق کا اظہار ہو۔

برسوں بعد جب وہ اپنے دوسرے عزیز بیٹے بنیامین سے بھی محروم ہو گئے تو انہوں نے پھر وہی ایمان افروز کلمات کہے ”فصبر جمیل“۔ یعقوب علیہ السلام کا صبر مایوسی نہیں تھی، بلکہ وہ ’برداشت‘ تھا جو امید سے سرشار تھا، جو کہ اللہ کے اسماء صفات العلیم اور الحکیم کے گہرے شعور پر مبنی تھا۔ ان کا یہ صبر ان کے نبوی علم و یقین پر مبنی تھا کہ حضرت یوسف علیہ السلام با حیات ہیں کیوں کہ حضرت یوسف نے جو خواب دیکھا تھا، وہ ابھی پورا ہونا باقی تھا۔ ان کا یہ صبر، علم، ایمان اور امید کا حسین امتزاج تھا۔

محمد صلی اللہ علیہ وسلم: سراپا صبر جمیل

اگر حضرت یعقوب علیہ السلام کی سرگزشت کو ذاتی نقصانات پر صبر کی علامت سمجھا جائے تو نبی اکرم محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہر طرح کی آزمائش اور تکلیف میں صبر جمیل کے کامل ترین مظہر تھے۔ آپ ﷺ نے نہ صرف یہ کہ صبر کو اپنی زندگی میں عملاً اختیار کیا، بلکہ آپ ؐ نے اس کے لیے ایک تربیتی نظام بھی فراہم کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”الصبر عند الصدمة الاولیٰ“، یعنی حقیقی صبر وہ ہے جو مصیبت کے پہلے مرحلے میں کیا جائے۔ اس کے علاوہ آپ نے صبر کو مؤمن کے لیے ایک خدائی عطیہ اور روشنی (الصَّبْرُ ضِياءٌ) قرار دیا۔

اللہ کے رسول ؐ کی زندگی میں صبر کی اَن گِنت مثالیں ہیں۔ ان میں عظیم ترین واقعات میں ایک طائف کا واقعہ ہے۔ یہ سفر آپ ﷺ نے ’عام الحزن‘ میں کیا تھا۔ یہ وہ دور تھا جب آپ سخت ترین ایام سے گزر رہے تھے۔ آپ ؐ کے مضبوط ترین مؤید چچا ابو طالب انتقال فرما چکے تھے۔ آپ ؐ کی رفیقۂ حیات جو کہ آپ ؐ کی سب سے بڑی جذباتی حامی تھیں، وہ بھی گزر چکی تھیں۔ آپ طائف اس امید میں تشریف لے گئے کہ کوئی حامی و مددگار مل جائے۔ لیکن وہاں کے باشندوں نے مدد کرنے کے بجائے ان کا مذاق اڑایا اور اوباش لڑکوں کو اکسا دیا جو آپ ﷺ پر پتھر برسانے لگے۔ آپ ﷺ زخموں سے چور طائف سے نکلے اور ایک جگہ بیٹھ گئے۔ وہاں پہاڑوں کا فرشتہ آ کر کہنے لگا کہ اگر آپ چاہیں تو ان سے انتقام لیا جائے۔ آپ ؐ نے بدلہ لینے سے انکار کر دیا اور اپنے دشمنوں کی آنے والی نسلوں کے لیے ہدایت کی دعا فرمائی۔

اس طرح کے صبر کا اظہار آپ ﷺ کی تئیس سالہ نبوی زندگی میں لگاتار دیکھنے کو ملتا ہے۔ مکہ میں آپ ؐ نے مسلسل ظلم وستم سہے، اپنی نوزائد اولادوں کو اپنے ہاتھوں سے دفن کیا، فقر و فاقہ کشی کے سخت ترین مراحل سے گزرے، مگر کبھی کوئی شکوہ ان کی زبان پر نہ تھا۔ اللہ کے رسول کی زندگی سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ محمد ﷺ کا صبر محض ایک جذبہ نہیں تھا بلکہ ایک حکمتِ عملی تھی، شخصیت کی ارتقاء کا طریقہ کار تھا۔ آپ ﷺ کا صبر امت کی اخلاقی تربیت کا اور دعوت اسلامی کا مؤثر ترین اسلوب تھا۔

صبر کے تین پہلو

۱۔ صبر علی طاعةِ اللہ: وہ صبر جو انسان اللہ کے حکامات پر عمل پیرا ہونے کے لیے کرتا ہے۔ مثلاً نماز، روزہ اور صدقہ۔ اس صبر کا تقاضا ہے کہ انسان اپنی نفس کی آسانی اور غفلت کی رغبت کے خلاف جہاد کرے اور عبادت میں تسلسل و اخلاص کو برقرار رکھے۔

۲۔ صبر عن معصیة اللہ: اپنے نفس پر وہ کنٹرول جو انسان کو گناہوں اور ممنوعہ اعمال سے باز رکھتا ہے۔ اس کے لیے خواہشات نفس اور مختلف فتنوں کے خلاف مسلسل جدوجہد درکار ہوتی ہے۔ اسے صبر کی سب سے دشوار صورت سمجھا جاتا ہے۔

۳۔ صبر علی اقدار اللہ: زندگی میں پیش آنے والی مصیبتوں اور آزمائشوں کو بنا شکوے شکایت کے سکون و ثبات کے ساتھ اللہ کی حکمت اور رحمت پر اعتماد کرتے ہوئے برداشت کرنا۔

صبر کی یہ تمام صورتیں آپس میں ایک دوسرے سے مربوط ہیں۔ کوئی شخص آزمائش کے وقت میں صبر جمیل (صبر علی اقدار اللہ) کا مظاہرہ نہیں کر سکتا جب تک کہ اس نے پہلے مرحلے میں صبر علی طاعة اللہ اور صبر عن معصیة اللہ کے ذریعے اپنے نفس کی مسلسل تربیت نہ کی ہو۔ روز مرہ کی یہی جدوجہد انسان کے اندر وہ باطنی قوت پیدا کرتی ہے جو بڑی آزمائشوں کے وقت صبر و ثبات کے لیے درکار ہوتی ہے۔

صبر کی نفسیات

یہ بات واضح رہنی چاہئے کہ صبر صرف جذبات کو دبانے کا سلبی عمل نہیں ہے۔ بلکہ یہ ایک اثباتی عمل ہے جس کی بنا self-discipline پر ہے۔ باریکی سے مطالعہ کیا جائے تو اس کا گہرا تعلق Emotional Intelligence کے جدید تصور سے بھی ہے۔ صبر کے مرکز میں تعلق باللہ ہے، جو کہ انسان کو Emotional Intelligence کے مقابلے میں کہیں زیادہ مؤثر اور مضبوط محرک فراہم کرتا ہے۔

صبر و استقامت کا داخلی نظام دو بنیادی اوصاف پر قائم رہتا ہے۔

۱۔شکر: اللہ کے رسول ﷺ نے صبر اور شکر کو ایمان کے دو نصف حصے قرار دیا ہے۔ اس سے مؤمن ہر حال میں سعادت سے سرشار رہتا ہے۔ وہ تنگی میں صبر کے ذریعے سے، اور آسانی میں شکر کے ذریعے سے سعادت حاصل کرتا ہے۔ شکر انسان کو اس بصیرت کا حامل بناتا ہے جو اسے آزمائشوں اور مصیبتوں کے وقت میں اطمینان اور صبر کے ساتھ راہِ حق پر قائم رہنے میں مدد کرتی ہے۔

۲۔ توکل: صبر کی اصل بنیاد اللہ کی حکمت، رحمت اور منصوبہ بندی پر کامل یقین ہے۔ توکل کے نتیجے میں انسان کی توجہ آزمائش کی شدت سے ہٹ کر اس حکیم و قدیر خدا کی طرف منتقل ہو جاتی ہے جو تمام امور کی تدبیر کرنے والا ہے۔ توکل کے نتیجے میں انسان کی نفسیات میں یہ بات بیٹھ جاتی ہے کہ جو کچھ بھی ہو رہا ہے، چاہے وہ آسانی ہو یا پریشانی، اللہ کی رحمت کے نتیجے میں ہو رہا ہے۔

صبر، شکر اور توکل مل ایک ایسا nexus بناتے ہیں جو باہم ایک دوسرے کو تقویت دیتے ہیں۔ گویا کہ توکل خوشحالی کے وقت شکر کی صورت میں اور آزمائش کے وقت صبر کی شکل میں ظاہر ہوتی ہے۔ جب انسان کسی آزمائش کا صبر کے ساتھ سامنا کرتا ہے تو اس سے روحانی ترقی حاصل ہوتی، جو مزید شکر کا سبب بنتی ہے، اور یوں توکل کی ابتدائی کیفیت مزید گہری اور مضبوط ہوتی جاتی ہے۔

صبر جمیل کے حامل کیسے بنیں؟

۱۔ تعلق باللہ: یہ صبر جمیل کی روحانی اساس ہے۔ اللہ سے تعلق مضبوط کرنے کے لیے ذکر اور نماز سب سے کار گر ہتھیار ہیں۔ (استعینوا بالصبر و الصلاة)۔ ہمیں آفاق و انفس پر غور کرنا چاہئے، کثرت سے قرآن کا مطالعہ کرنا چاہئے، مسنون دعاؤں کا اہتمام کرنا چاہئے۔ اس سے انسان تمام تر مصروفیتوں کے باوجود اللہ سے جڑا رہتا ہے۔

۲۔ زاویۂ نگاہ میں تبدیلی: جب ہم کسی پریشانی میں مبتلا ہوں تو صرف مادی وجوہات پر غور کرنے کے بجائے یہ بھی سوچنا چاہئے کہ یہ اللہ کی طرف سے ایک آزمائش ہے۔ اسے ایک ایسے موقع کے طور پر دیکھنا چاہئے جو اللہ نے تزکیۂ نفس اور گناہوں کی معافی کے لیے فراہم کرایا ہے۔ جب انسان تکلیف میں ہوتا ہے تو اس کے بدلے اس کے گناہ معاف ہوتے ہیں، اور اگر بندہ اس پر صبر کرتا ہے اور خدا کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے تو یہ مزید اجر کا سبب بن جاتا ہے۔

۳۔ جذبات پر قابو: آزمائش کے وقت جذباتی ہونے کے بجائے انسان کو رسول اللہ ﷺ کے اسوۂ حسنہ پر عمل کرتے ہوئے ہر غم اور تکلیف کو دعا کے ذریعے اللہ رب العزت کے حضور میں پیش کر دینا چاہئے، تاکہ آزمائش کا یہ لمحہ عبادت بن جائے۔

۴۔ مشق: دنیا کے دوسرے فنون کی طرح صبر بھی مشق کے ذریعے سیکھا جا سکتا ہے۔ ہمیں روزمرہ کی چھوٹی چھوٹی ناخوشگواریوں کے وقت صبر کی ’عادت‘ ڈالنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ اپنی زبان کو لوگوں کے سامنے کسی بھی طرح کے شکوے شکایات سے محفوظ رکھنا چاہئے۔ اپنی ساری تکلیفوں کو صرف اپنے اور اپنے خدا کے بیچ کا معاملہ سمجھنا ہی صبر اور صبر جمیل کے درمیان کا فرق ہے۔

۵۔ ماحول کی تعمیر: صبر جمیل کا حامل بننے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے گرد ایک supprotive ماحول کی تعمیر کریں۔ سب سے پہلے ہمیں ان لوگوں سے دوری اختیار کرنی چاہئے جو بات بات پر شکایت کے عادی ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس ان متقی لوگوں کی صحبت اختیار کرنی چاہئے جو آزمائشوں پر صبر کرتے ہیں۔ انبیاء کرام کی زندگی کا مطالعہ اور ان کے بارے میں غور فکر اور بات چیت اس قسم کا ایک غیر مرئی (virtual) ماحول تعمیر کر سکتا ہے۔ کثرت سے قرآن کا مطالعہ کرنا چاہئے جس سے ہمیں اللہ، فرشتے اور انبیاء کی صحبت میں ہونے کا احساس ہوتا ہے۔

صبر جمیل استقامت اور توکل کی وہ بلند ترین چوٹی ہے جس پر انبیاء کرام علیہم السلام فائز رہے۔ یہ صفت تقویٰ کی زندگی کے لیے ناگزیر ہے۔ اس کے ذریعے سے ہم آزمائش کے ہر لمحے کو عبادت اور قرب الٰہی کے موقع میں تبدیل کر سکتے ہیں۔ نیز یہ کہ مشق اور ذہنی تربیت کے ذریعے ہم اس صفت کے حامل بھی ہو سکتے ہیں۔ قرآن کا مطالعہ اور انبیاء کرام علیہم السلام کی زندگی کا مطالعہ ہمیں باطنی طور پر اس کے لیے تیار کرتا ہے۔ یہ ایک مشکل راہ ہے، لیکن کامیابی کی راہ یہی ہے!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے