یوگانڈا کے شہر کمپالہ میں ایک ہندوستانی جوڑے کے گھر جنمے ۳۴ سالہ ظہران ممداني (Zohran Mamdani) نے نیویورک کے میئر کے الیکشن میں واضح کامیابی حاصل کی اور موجودہ میئر و سابق گورنر، جن دونوں کے پیچھے کافی دولت خرچ کی گئی تھی، کو بری طرح شکست دی۔ ممدانی کا ووٹ شیئر دیگر سارے امیدواروں کے مجموعی ووٹ شیئر سے بھی زیادہ رہا۔
ظہران ممدانی کی اس انتخاب میں جیت کوئی سیاسی اتفاق نہیں تھا۔ بلکہ یہ ان کے انتخابی کیمپیننگ کے ماڈل کا نتیجہ تھا جو اپنے آپ میں بہت نیا اور قابل تقلید ہے۔ ان کی کیمپیننگ کے اس ماڈل نے سابق گورنر اینڈریو کومو (Andrew Cuomo) اور موجودہ میئر ایرک ایڈمز (Eric Adams) کی سیاسی مشینری اور رسوخ کو بڑے مؤثر طریقے سے مات دے دی۔
اس کیمپیننگ کی کامیابی دو بنیادی عناصر پر مبنی تھی:
۱۔ انتخابی مدعے کی نوعیت: ووٹرز کے سب سے بڑے خدشے، یعنی زندگی کے بڑھتے ہوئے اخراجات، کی درست شناخت۔
۲۔ کیمپیننگ کا ہائبرڈ (Hybrid) ماڈل: کیمپینگ کا ایسا نظام جو براہ راست عوامی رابطے اور جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کو ایک ساتھ سے کام میں لاتا تھا۔
ممدانی کی حکمت عملی خاص طور پر زندگی کی گزر بسر کی استطاعت (Affordability) کے ایجنڈے پر مبنی تھی۔ انہوں نے ایک بیانیاتی جنگ (Narrative Warfare) کا ماحول تیار کیا جو اس انتخاب کو ’عوام بمقابلہ ارب پتی‘ کے طور پر پیش کرتا تھا۔ یہ حکمتِ عملی اتنی کامیاب تھی کہ مخالفین کے طرز عمل نے خود اسے درست ثابت کرنے کا کام کیا۔ خاص طور پر اس تناظر میں کہ اینڈریو کومو خود ۲۶ میلین ڈالر کے Super PAC فنڈنگ پر منحصر تھے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ممدانی کا بیانیہ مزید مضبوط ہوتا چلا گیا۔
نظام اقتدار کی بنیادیں ہلا دینے والی غیر متوقع فتح
ممدانی کی فتح اس لحاظ سے غیر متوقع تھی کہ انہوں نے اپنی سیاست کے آغاز میں صرف ایک فیصد ووٹ حاصل کیا تھا۔ اس وقت انہیں Protest Candidate کہا گیا۔ یہاں پر ان کی شناخت کو بھی پیشِ نظر رکھنا چاہئے کہ وہ افریقہ کے ملک یوگانڈا میں ایک ہندوستانی جوڑے کے گھر پیدا ہوئے تھے، اور مذہباً مسلمان ہیں۔
ممدانی نے ڈیموکریٹک پرائمری انتخابات میں اینڈریو کومو کو واضح برتری کے ساتھ شکست دی اور 56 فیصد ووٹ حاصل کئے۔ بعد ازاں، جنرل الیکشن میں انہوں نے اینڈریو کومو، جو کہ آزاد امیدوار کے طور پر لڑ رہے تھے، اور ریپبلکن امیدوار کرٹس سلیوا کو شکست دیتے ہوئے 50.04 فیصد ووٹ حاصل کیے۔ ممدانی کی اس فتح کو ایک نظریاتی انقلاب کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
اس انتخاب میں دو متضاد نظریات کی ہی طرح دو متضاد انتخابی کیمپیننگ کے ماڈل بھی آمنے سامنے تھے۔ کومو ایک بیسویں صدی کے روایتی سیاسی ماڈل کی نمائندگی کر رہے تھے، جو ناگزیریت، تجربہ، سرمایہ اور رسوخ جیسے پرانے اصول پر قائم تھا۔ اس کے برعکس، ممدانی نے ایک اکیسویں صدی کی جدید انتخابی کیمپیننگ کے ماڈل کو اپنایا، جو نہایت باریک بینی سے عوام کے اصلی اور حقیقی مسئلے ”affordability“ پر مرکوز تھا۔ ایگزٹ پولز نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ آدھے سے زیادہ ووٹرس کے لیے affordability سب سے زیادہ اہم مدعا تھا، جب کہ جرائم اور ایمیگریشن جیسے مدعے ان کی نظر میں ثانوی حیثیت رکھتے تھے۔
کومو کی انتخابی مہم ان کی شخصیت کے گرد گھومتی رہی۔ ان کی اپنی شخصیت، ان کا تجربہ، ان کے سابقہ عہدے وغیرہ ان کے ہاں اہمیت کی حامل رہے۔ جب کہ ممدانی کی تحریک عوام کے ان چیلنجز کے گرد گھوم رہی تھی جو روز مرہ کے مسائل تھے، جس نے ان کی تحریک کو زندہ اور حقیقت کی عکاس تحریک میں بدل دیا۔
انتخابی منشور: Affordability کا ایجینڈا
ممدانی کی انتخابی مہم کی اصل قوت اس کا حقیقت پر مبنی اور عملی منشور تھا۔ یہ کسی مبہم نظریاتی دعوؤں کا غیر مربوط مجموعہ نہیں تھا، بلکہ ایک واضح اور منظم و مربوط چار نکاتی ایجینڈا تھا، جس کا مقصد روزمرہ کے معاشی مسائل کا براہ راست حل پیش کرنا تھا۔
وہ چار بنیادی نکات درج ذیل تھے:
۱۔رہائش: ممدانی نے وعدہ کیا کہ وہ بڑھتے ہوئے کرائے کو روکنے کے لیے ”Freeze the rent“ کی پالیسی لے کر آئیں گے۔ ساتھ ہی انہوں نے نئی اور سستی رہائش گاہوں کی تعمیر کا عزم بھی ظاہر کیا، تاکہ ہر شخص کے لیے گھر کا حصول ممکن ہو سکے۔
۲۔عوامی نقل و حمل: ممدانی نے وعدہ کیا کہ شہر کی بسوں کا کرایہ مکمل طور پر ختم کر دیا جائے گا، تاکہ محنت کش طبقے کے روز مرہ کے اخراجات میں فوری کمی واقع ہو جائے۔ ”Fare-free city buses“ عوام کے کندھوں سے معاشی بوجھ کو کافی کم کر دے گا جس سے affordability میں اضافہ ہوگا۔
۳۔ بچوں کی نگہداشت: ممدانی نے ایک جامع ”Public Childcare“ کا منصوبہ پیش کیا جس کے مطابق چھہ ہفتے سے لے کر پانچ سال تک کی عمر کے تمام بچوں کے لیے سرکاری سطح پر Childcare کی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ اس منصوبے کا مقصد محنت کش والدین پر سے مالی بوجھ کو کم کرنا ہے۔
۴۔ خوراک: ممدانی نے ایک تجرباتی منصوبہ (Pilot Program) کا اعلان کیا جس کے تحت ”City-owned Grocery Stores“ کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔ اس کا مقصد ”Public Competition“ کے ذریعے مارکیٹ میں توازن پیدا کرنا کہا گیا، تاکہ عوام کو بنیادی غذائی اشیاء affordable داموں پر حاصل ہو سکیں۔
اس منشور کو مزید طاقتور بنانے کے لیے اس عہد کا بھی ذکر کیا گیا کہ ۲۰۳۰ تک کم از کم اجر کو ۳۰ ڈالر فی گھنٹہ تک بڑھایا جائے گا۔ اس کا مقصد محنت کش طبقے کے لیے معاشی تحفظ، باوقار زندگی، اور محنت کے مطابق اجرت کو یقینی بنانا بتایا گیا۔
ممدانی نے ”Tax the rich“ کے ماڈل پر مبنی فنڈنگ کے نظام کی تجویز بھی پیش کی۔ اس منصوبے کے تحت کارپوریشنز اور سالانہ ایک ملین ڈالر سے زیادہ آمدنی رکھنے والے افراد پر دو فیصد اضافی ٹیکس عائد کرنے کی تجویز پیش کی گئی، جس سے اندازاً دس ارب ڈلر کی آمدنی متوقع ہے۔
اس تجویز کی وکالت ترقی پسند ماہرین معاشیات نے بھی کی اور مخالفین کے اس دعوے کو مسترد کر دیا کہ اس سے ”Capital Flight“ یعنی سرمایہ کا انخلاء ہونے لگے گا۔ معاشی ماہرین نے بدلائل ثابت کیا کہ اس نوعیت کے ٹیکس نے میساچوسٹس اور واشنگٹن میں سرمایہ کاری کو نقصان پہنچانے کے بجائے مزید مستحکم کیا اور دونوں ہی ریاستوں میں ارب پتیوں اور کروڑ پتیوں کی تعداد میں اضافہ دیکھا گیا۔
اس منشور کی حکمت عملی کی اصل خوبی اس کی حقیقت پسندی اور عملی وضاحت میں مضمر تھی۔ ممدانی نے روایتی اور مبہم قومی بحثوں، جیسے Woke بماقبلہ Centrist ، کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے ٹھوس، واضح اور عملی نوعیت کے حل پیش کئے۔
حقائق پر مبنی معاشی مدعوں پر توجہ نے ممدانی کو ایک وسیع، کثیر الثقافتی اور کثیر الطبقاتی اتحاد قائم کرنے میں مدد دی، اور لوگوں کو نظریاتی خیموں سے نکال کر مشترکہ مفادات کے گرد متحد ہونے کے لیے تیار کیا جہاں نسلی یا لسانی شناختیں بے اثر ہوتی چلی گئیں۔
اپنے وعدوں میں ممدانی کس حد تک کامیاب ہوں گے، اس بارے میں فی الحال کچھ نہیں کہا جا سکتا ہے۔ کیوں کہ ان کے منشور میں پیش کئے گئے اصلاحات اور تجاویز میں سے کئی کا تعلق ریاستی قانون ساز اسمبلی کی ذمہ داریوں سے ہے، اور وہاں سے منظوری ملے گی یا نہیں، ظاہر ہے، اس بارے میں کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہوگا۔
انتخابی مہم کی پہلی مشینری: زمینی جدوجہد
ماہرین کے مطابق ظہران ممدانی کی انتخابی مہم میں زمینی جدوجہد غیر معمولی اور نیویورک شہر کی تاریخ میں سب سے بڑی تھی۔
اس زمینی جدوجہد کی عمارت ان بنیادوں پر تعمیر ہوئی جو نیو یورک سٹی ڈیموکریٹک سوشلسٹ آف امریکہ (NYC – DSA) نے رکھی تھی۔ مہم کے دوران اس تنظیم کی رکنیت 6600 سے بڑھ کر 10,000 کو پار کر گئی، جسے اس تنظیم کی بڑھتی ہوئی مقبولیت پر محمول کرنا چاہئے۔
اس سوشلسٹ بنیاد کو مزید مضبوط کرنے کے لیے ایک باضابطہ کثیر النسلی اتحاد تشکیل دیا گیا، جس میں مختلف سماجی اور سرگرم کارکن تنظیموں نے شمولیت اختیار کی، تاکہ مہم کو عوامی سطح پر زیادہ وسعت اور گہرائی حاصل ہو۔ اس میں درج ذیل تنظیمیں شامل تھیں:
- این وائی سی سی (NY Communities for Change): ان کی توجہ خاص طور پر سیاہ فام اور ہسپانوی زبان بولنے والے لوگوں پر رہی۔
- سی وی (CAAAV Voice): ان کی توجہ مشرقی ایشیائی کرایہ داروں پر مرکوز تھی۔
- ڈی بی (DRUM Beats): ان کی توجہ جنوبی ایشیائی اور انڈو کیریبین باشندگار پر تھی۔
- جے وی پی (Jewish Voice for Peace): انہوں نے فلسطین کے حمایتیوں کو mobilise کیا۔
مذکورہ بالا تنظیموں نے بہت منظم طریقے سے کام کیا اور ان کے رضاکاروں نے، جن کی مجموعی تعداد پچاس ہزار (50000) تک پہنچتی ہے، اس مہم کے دوران پندرہ لاکھ (1500000) گھروں کے دروازوں پر دستک دی اور بیس لاکھ (2000000) سے زیادہ لوگوں سے بذریعہ فون رابطہ کیا۔
زمینی جدوجہد کی اس حکمت عملی نے طبقاتی اور شناختی سیاست کی ایک بہت مربوط مثال پیش کی جس نے ”پہلے طبقہ یا پہلے شناخت“ کے بیانیے کو مکمل طور پر مسترد کر دیا۔ اس کے برعکس، شناخت پر مبنی تنظیم سازی کو ایک عالمی اور طبقاتی ایجینڈے تک پہنچانے کے مؤثر ذریعہ کے طور پر استعمال کیا گیا۔
جس بیانیے کو چنا گیا وہ تو عالمی تھا، مثلاً ”Freeze the rent“، مگر اس پیغام کو پہنچانے کے طریقے مقامی شناختوں کے مطابق ڈھالے گئے۔ مثال کے طور پر، کچھ جلسے Contanese زبان میں ترجمے کے ساتھ منعقد کیے گئے، جب کہ خود ممدانی نے اردو، ہندی اور ہسپانوی میں عوام سے خطاب کر کے مختلف برادریوں کو ’قریبی‘ ہونے کا احساس دلایا۔ گویا کہ بڑی کامیابی کے ساتھ مختلف ثقافتی اور لسانی شناختوں کو مشترکہ طبقاتی جدوجہد کے ساتھ مربوط کر دیا گیا۔
ایک تنظیمی حکمت عملی انتخاب کے بعد بھی جاری رکھنے کے لیے بنائی گئی جسے ”Plan Z“ کا نام دیا گیا۔ اس منصوبے کا مقصد صرف انتخاب جیتنا نہیں بلکہ عوامی قوت کو مستقل بنیادوں پر مضبوط کرنا ہے، یعنی ایک ایسی عوامی اور زمینی سطح کی منظم تحریک جو ایک غیر سرکاری مگر بااثر ”Proto-Party“ کے طور پر کام کرے۔ اس کا کام اقتدار سے باہر رہ کر عوامی مفادات کی نمائندگی کرنا ہے۔
انتخابی مہم کی دوسری مشینری: بیانیہ (Narrative)
ممدانی نے جدید ترین ڈیجیٹل میڈیا اسٹریٹجی کو بروئے کار لا کر عوامی رابطے کے لیے زمینی سطح پر کام کیا۔ اس حکمت عملی کے تحت جدید ٹیکنالوجی اور سوشیل میڈیا کو بھر پر طریقے سے استعمال میں لایا گیا اور عوام میں امید، سب کی شمولیت اور مثبتیت کے احساس کو پیدا کیا گیا، جو کہ روایتی انتخابی مہم سے مختلف تھی۔
ظہران ممدانی، جنہیں سوشیل میڈیا کا حقیقی مقامی باشندہ (Truly Native to Social Media) قرار دیا گیا، نے ایک ایسی حکمت عملی اپنائی جس میں مسلسل پیغام رسانی کے ساتھ ساتھ پیغام کے دلچسپ اور پر کشش ہونے کو بھی اولیت حاصل تھی۔ نیویورک سٹی میراتھن دوڑتے ہوئے ٹک ٹاک ویڈیو بنانا اس کی ایک مثال ہے، جس میں انہوں نے پیغام دیا کہ وہ ایک ایسے میئر ہوں گے جنہیں لوگ دیکھ سکیں گے، جنہیں وہ سن سکیں گے، یہاں تک کہ ان کے اوپر چیخ سکیں گے۔ ان سب کے ذریعے انہوں نے یہ بیانیہ تخلیق کیا کہ وہ اپنے مقابل کومو سے بالکل مختلف ہیں جو عوام سے فاصلہ بنائے رکھنے کی ایمیج رکھتے ہیں۔
اس پوری میڈیائی مہم کے رہنمائی ایک ہی مرکزی بیانیہ (Meta-Narrative) کر رہا تھا، یعنی یہ جنگ ”عوام بمقابلہ ارب پتی“ ہے۔ اس پوری کیمپیننگ کا سب سے بڑا ہتھیار دراصل مخالفین کا رد عمل تھا۔ ممدانی کے اقدامات نے ارب پتیوں کے درمیان پریشانی کا ماحول پیدا کر دیا، اور رد عمل کے طور پر انہوں نے Super PAC میں کروڑوں ڈالر جھونک دئے، جس میں مائکل بلومبرگ کے 8.3 ملین ڈالر تھے، اور بل ایکمین کے 1.75 ملین ڈالر شامل تھے۔ مخالفین کے اس قدم نے ممدانی کے بیانیے کو مزید مضبوط کیا۔
یہاں پر مخالفین کے لیے ایک Narrative Trap تیار ہو گیا۔ مخالفین کا سب سے بڑا ہتھیار ان کی دولتمندی تھی، اور مخالفین کی یہی ’مالی طاقت‘ ممدانی کے لیے اس لحاظ سے فائدہ مند ثابت ہوئی کہ وہ جتنی دولت خرچ کرتے، ممدانی کی بات اتنی ہی زیادہ سچی ثابت ہوتی۔
مقابل کی ناکامی
ظہران ممدانی کی کامیابی میں اہل اقتدار کی تنظیمی ناکامی کا بھی بڑا رول رہا۔
- اینڈریو کومو: کومو کی پوری انتخابی مہم، جو کہ ان کے ’تجربے‘ اور ’resume‘ پر مرکوز تھی، تین بنیادی وجوہات کی بنا پر ناکام ہوئی: اول، وہ ممدانی کے بر خلاف عوام سے ’دور‘ رہ کر کیمپیننگ کر رہے تھے، جبکہ ممدانی عوام کے ’قریب‘ رہ کر کیمپیننگ کر رہے تھے۔ دوم، وہ جنسی ہراسانی کے ان الزامات سے خود کو الگ نہیں کر پائے، جس کی وجہ سے ماضی میں ان سے گورنری چھِن چکی تھی۔ اور آخر میں، ارباب دولت کی پشت پناہی ممدانی کے بیانیے میں انہیں ایک مثالی منفی کردار (antagonist) کے طور پر مزید واضح کر رہی تھی۔
- ایرک ایڈمز: ان پر پچھلے سال ہی federal charges ثابت ہوئے تھے، جس کے بعد وہ انتخابات سے دستبردار ہو گئے، جس سے سیاسی منظر نامے میں ایک خلا پیدا ہو گیا۔ اس خلا کو پُر کرنے کے لیے جلد بازی میں اینڈریو کومو کو آگے بڑھایا گیا۔ جبکہ ووٹرز کے سامنے یہ منطق بالکل واضح تھی: ”اگر آپ ایڈمز جیسوں کے کرپشن سے تنگ آ چکے ہیں تو پھر کومو کو کیوں ووٹ دیں، جو کہ خود اپنے ہی اسکینڈل کی وجہ سے مستعفیٰ ہو چکا ہے۔“
- کرٹس سلیوا: یہ اس انتخاب میں ایک طرح سے irrelevant رہے۔ کیوں کہ ان کا ووٹ شئر صرف 7.1 فیصد رہا۔ یہاں پر ”Spoiler“ بھی خارج از بحث ہے، کیوں کہ ممدانی کا ووٹ شئر باقی تمام امیدواروں کے کل ووٹ سے بھی زیادہ ہے۔ جہاں باقی تمام امیدواروں کے ووٹ ملا کر دس لاکھ چودہ ہزار (1014000) ہوتے ہیں، وہیں ممدانی نے اکیلے دس لاکھ تیس ہزار (1030000) ووٹ حاصل کئے۔
تنازعات کے سلسلے میں حکمت عملی
اس انتخابی مہم میں threats کو بڑی خوبی کے ساتھ neutralize کیا گیا:
۱۔ آر سی وی (RCV) کی حکمت عملی: ڈیموکریٹک پرائمری کے دوران ترقی پسند امیدوار براڈ لینڈر کو آئی سی ای (U.S. Immigration and Customs Enforcement) والوں نے گرفتار کر لیا تو ان کا گیارہ فیصد ووٹ ممدانی کی طرف منتقل ہو گیا۔ کیوں کہ براڈ لینڈر اور ظہران ممدانی کے درمیان RCV میں باہمی حمایت کا معاہدہ ہو چکا تھا۔
۲۔ دیانت داری بمقابلہ تجربہ کی بحث: ایک انتخابی مباحثے کے دوران کومو نے ممدانی پر ناتجربہ کار ہونے کا الزام لگایا تو ممدانی نے جواباً کہا کہ میرے تجربے کی کمی کو میری دیانت داری پورا کر دے گی، مگر آپ کی دیانت داری کی کمی کو کوئی تجربہ پورا نہیں کر سکتا۔
۳۔ صدر ڈونالڈ ٹرمپ: ٹرمپ نے ممدانی پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ کمیونسٹ ہے۔ ان کا یہ الزام ممدانی کے لیے گویا ’نیک شگون‘ ہی ثابت ہوا، اور ان کا قد مزید بڑھ گیا۔ اور جب ٹرمپ نے آخری لمحے میں اینڈریو کومو کی کھل کر حمایت کر دی تو گویا کہ کومو کی سیاست کا خاتمہ ہی ہو گیا۔
۴۔ شناخت پر حملے: نیو یورک ٹائمز نے ممدانی کے ۲۰۰۹ کی ایک اسکولی دستاویز کو عام کرنے کی کوشش جس میں ممدانی کے نام کے آگے اشیائی اور افریقی و امریکی، دونوں چیک مارک کئے گئے تھے۔ اس واقعے نے ممدانی کی شناخت پر سوال کھڑا کرنے کے بجائے میڈیا کے غیر اخلاقی رویے پر ہی سوالات کھڑے کر دیے، کیوں کہ وہ دستاویز غیر قانونی طور پر ہیکنگ کے ذریعے حاصل کئے گئے تھے۔ اسی طرح جب انہیں ”جہادی“ اور ”اسلامی انتہا پسند“ جیسے القاب دے کر زیر کرنے کی کوشش کی گئی تو انہوں نے دفاع کے بجائے انکا سامنا کیا۔ انہوں نے اسلاموفوبیا پر تقریر کرتے ہوئے اپنی آنٹی کا قصہ لوگوں کے سامنے رکھا کہ گیارہ ستمبر کے حملے کے بعد وہ کس طرح حجاب پہن کر نکلنے سے ڈرتی تھیں۔
The Mamdani Effect
ظہران ممدانی کی یہ فتح امریکی سیاسی منظرنامے میں ایک ہنگامہ خیز واقعہ ہے، جسے Mamdani Effect کا نام دیا جا رہا ہے۔ ترقی پسند امیدواروں کی بھرتی میں تاریخی اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ Run for Something نام کی تنظیم، جو کہ نوجوان ترقی پسند امیدواروں کو انتخاب کے میدان میں جگہ بنانے کے لیے مدد کرتی ہے، میں دس ہزار سے زائد لوگوں نے رجسٹریشن کرایا ہے۔
نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی کو بھی ممدانی کی کامیابی نے Centrism کی پالیسی پر نئے سرے سے غور و خوض کرنے کے لیے مجبور کر دیا ہے۔ اس کامیابی نے ثابت کیا کہ ایک ایسے شہری ماحول میں جو معاشی غیر برابری سے جوجھ رہا ہو، Centrism کے بجائے Democratic Socialist ایجینڈا زیادہ کارگر رہے گا۔
باوجودیکہ ’عوامی طاقت‘ کی تحریک سے ظہران ممدانی نے انتخاب میں بڑی کامیابی حاصل کر لی ہے، انہیں کئی چیلنجز کا سامنا رہے گا۔ ان کے سامنے شہر کے business elites ہوں گے، البانی کے سیاسی ایوان میں بھی ان کے حمایتی کم ہوں گے، اور Federal Administration بھی غالباً ان کے خلاف رہے گا۔ لیکن ان سب کے باوجود ان کی یہ کامیابی امریکہ کی سیاست میں ایک نئے باب کا آغاز مانی جائے گی۔



