حدیث


۱۔ معنی اور تعریف

حدیث حَدَث سے ہے۔ لغت میں اس کے معنی ”کسی چیز کا رونما ہونا“ یا ”وجود میں آنا ہے“۔ اس کے معنی ”بات چیت“، ”گفتگو“، ”بیان“، ”ذکر“، ”قصہ“، ”کہانی“، ”تاریخ“، اور ”تازہ“ یا ”نیا“ بھی آتے ہے۔ اس کی ضد ”قدیم“ آتی ہے اور اس کی جمع ”احادیث“ ہے۔
دورِ جاہلیت میں مشہور تاریخی واقعات کو بھی ”احادیث“ سے تعبیر کرتے تھے۔

اصطلاح میں حدیث کہتے ہیں ان افعال، اقوال اور تقریرات کو جو اللہ کے آخری رسول محمدؐ بن عبد اللہ کی طرف منسوب ہوں۔ اقوال یعنی انہوں نے جو کچھ کہا، افعال یعنی جو کچھ انہوں نے کیا، اور تقریرات یعنی ایسے اعمال جو کسی صحابی نے ان کی موجودگی میں کیا، اور اللہ کے رسولؐ نے خاموشی اختیار کی ہو، اور منع نہیں فرمایا۔ 

عام طور پر محدثین نے مذکورہ بالا طور پر ہی حدیث کی تعریف کی ہے۔ لیکن علامہ سیوطی اور کچھ دیگر اہل علم نے صحابہ کرام کے اقوال، افعال اور تقریرات کو بھی حدیث کی تعریف میں شامل رکھا ہے۔ لیکن یہ رائے شاذ ہے۔ 

اسی طرح شیعہ علماء رسول اللہؐ کے علاوہ ائمہ معصومین کے اقوال، افعال اور تقریرات کو بھی حدیث کی تعریف میں شامل رکھتے ہیں۔ شیعہ علماء کے نزدیک صحابہ کرام کے اقوال، افعال اور تقریرات کو بھی حدیث کہا جا سکتا ہے بشرطیکہ اس کی تائید میں رسول اللہ یا ائمہ معصومین کی کوئی حدیث موجود ہو۔

۲۔ حدیث اور سنت کا فرق

”حدیث“ اور ”سنت“ اگرچہ کئی بار ایک دوسرے کے معنی میں بھی استعمال ہوتے ہیں، لیکن اصطلاحاً ان دونوں کے معنی میں واضح فرق ہے۔

حدیث اللہ کے رسول کے اقوال، افعال اور تقریرات کی روایات یا بیانات ہیں۔ یہ ایک عام اصطلاح ہے جو ان تمام منقولات کو شامل ہے جن کی نسبت اللہ کے رسول کی طرف کر دی گئی ہے۔
اس کے مقابلے میں سنت اللہ کے رسول کا طریقہ زندگی، عملی نمونہ یا معیاری رواج ہے۔ یعنی ایک ایسا عمل ہے جو مسلمانوں کے درمیان نسلاً بعد نسلٍ منتقل ہوتا چلا آ رہا ہے۔

ہم کہہ سکتے ہیں حدیث سنت کی دستاویزات ہیں۔ حدیث وہ علمی ریکارڈ ہے جو اللہ کے رسول کے قائم کردہ عملی نمونہ کی نمائندگی کرتی ہے۔ گویا کہ حدیث وہ متنی وسیلہ ہے جس کے ذریعہ سنت کو محفوظ کیا جاتا ہے۔

۳۔ اہمیت اور مقام

علمِ حدیث اسلامی شریعت اور عقائد کی تفہیم میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ قرآنِ کریم شریعت کا بنیادی سرچشمہ ہے اور علمِ حدیث اس کی تشریح، تبیین، تصریح اور تجسیم کرتا ہے۔
مثلاً نماز اور اس کے اوقات کا تعین قرآن نے کر دیا۔ لیکن، قیام، رکوع، سجود اور قعدہ کے طریقے اور رکعات کی تعداد وغیرہ کا علم ہمیں احادیث میں ملتا ہے۔ اگر ہم علمِ حدیث سے بے اعتنائی برتیں تو قرآن میں مذکور ڈھیروں احکام مبہم رہ جایئں گے، اور مسلمان کئی معملات میں غلط فہمی کا شکار ہو جایئں گے۔ مثلاً قرآن زکوٰة کی فرضیت کا اعلان تو کرتا ہے، لیکن اس کا نصاب اور دور متعین نہیں کرتا۔ اس بات کا علم ہمیں حدیث سے ہی ہوتا ہے۔ لہٰذا علم حدیث کوئی اضافی علم نہیں بلکہ ناگزیر علوم میں سے ہے، جس کے بغیر نہ تو دین کا فہم حاصل کیا جا سکتا ہے، اور نہ ہی دین پر صحیح ڈھنگ سے عمل کیا جا سکتا ہے۔

۴۔ حدیث کے اقسام

احادیث کی درجہ بندی کے تین معیارات ہیں۔

۱۔ راویوں کی تعداد کے اعتبار سے۔ اس معیار کے مطابق حدیث کی دو قسمیں ہوتی ہیں۔

الف) متواتر: یعنی ایسی حدیث جسے راویوں کی اتنی بڑی تعداد نے ہر طبقے میں روایت کیا ہو کہ ان سب کا کسی جھوٹ پر اس طرح متفق ہو جانا خلافِ عقل اور ناممکن ہو۔

ب) آحاد: وہ حدیث جو متواتر کے شرائط پر پورا نہ اترے، جسے گنتی کے چند راویوں نے روایت کیا ہو۔

۲۔ مسند الیہ کے اعتبار سے۔ اس اعتبار سے حدیث کی تین قسمیں ہوتی ہیں۔

الف) مرفوع: وہ حدیث جس کا سلسلہ اللہ کے رسولؐ تک پہونچتا ہو۔

ب) موقف: وہ حدیث جس کا سلسلہ کسی صحابی تک پہونچ کر رک جاتا ہو۔ 

ج) مقطوع: وہ حدیث جس کا سلسلہ صحابہ تک بھی نہ پہونچتا ہو۔

۳۔ صحت و ضعف کے اعتبار سے۔ اس اعتبار سے حدیث کی کم از کم چار قسمیں ہوتی ہیں۔

الف) صحیح: وہ حدیث جو سند اور متن کے لحاظ سے تمام عیوب سے پاک ہو اور اعتبار کی اعلی ترین معیار رکھتی ہو۔

ب) حسن: وہ حدیث جو صحیح کے تمام شروط پر کھری اترتی ہو لیکن راوی کے حافظے میں معمولی کمی ہو۔

ج) ضعیف: وہ حدیث جو صحیح یا حسن کی شرائط پر پورا نہ اترے۔

د) موضوع: وہ حدیث جو گھڑی ہوئی ہو، جھوٹ ہو اور اللہ کے رسول کی طرف منسوب کر دی گئی ہو۔

۴۔ سند کے اتصال کے لحاظ سے۔ اس اعتبار سے حدیث کو دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:

الف: متصل: جس کی سند مکمل ہو۔

ب: منقطع: جس میں کوئی راوی محذوف ہو۔

۵۔ اقسامِ حدیث پر تفصیلی نظر


👈 راویوں کی تعداد کے حساب سے حدیث کی پہلی قسم ہوتی ہے متواتر۔

متواتر حدیثیں دو قسم کی ہو سکتی ہیں۔

۱۔ متواتر لفظی: وہ حدیث جس کے الفاظ اور معنیٰ دونوں بڑی تعداد میں راویوں نے یکساں طور پر بیان کیا ہو۔ یہ قسم بہت کم پائی جاتی ہے۔

۲۔ متواتر معنوی: وہ حدیث جس کے الفاظ مختلف ہوں، لیکن اس کا بنیادی مفہوم یا مضمون متعدد روایات میں مستقل طور پر بڑی تعداد میں راویوں نے بیان کیا ہو۔ یہ قسم زیادہ عام ہے۔

👈 راویوں کی تعداد کے حساب سے حدیث کی دوسری قسم ہوتی ہے اخبارِ آحاد۔ 

اخبارِ آحاد ایسی حدیث کو کہتے ہیں جو متواتر کی شرائط پر پوری نہ اترے۔ اسے گنتی کے چند راویوں نے روایت کیا ہو۔

راویوں کی تعداد کے لحاظ سے اخبارِ آحاد کی تین قسمیں ہیں:

۱۔ مشہور: وہ حیث جسے سند کے ہر طبقے میں تین یا اس سے زیادہ راویوں نے نقل کیا ہو۔ لیکن ان کی تعداد اتنی نہیں کہ اسے متواتر کہا جا سکے۔ بعض اوقات اسے مستفیض بھی کہتے ہیں۔

۲۔ عزیز: ایسی حدیث جس کی سند کے ہر طبقے میں کم از کم دو راوی ہوں۔

۳: غریب: ایسی حدیث جس کی سند کے کسی طبقے میں صرف ایک ہی راوی ہو۔

👈 مسند الیہ کے لحاظ سے حدیث کی تین قسمیں ہیں۔ اس درجہ بندی کا انحصار اس بات پر ہے کہ سند کی اخری کڑی کس شخصیت سے جا کر ملتی ہے۔ یعنی راویت کی کڑی جا کر اللہ کے رسولؐ سے ملتی ہے، یا کسی صحابی سے یا پھر تابعی پر جا کر رک جاتی ہے۔

۱۔ حدیثِ مرفوع: وہ حدیث جو براہِ راست رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب ہو۔ خواہ وہ آپ کا قول ہو، فعل ہو، تقریر ہو یا وصف۔ اس کی سند متصل ہو یا منقطع۔

۲۔  حدیثِ موقوف: ایسی حدیث جو کسی صحابی کے قول یا فعل سے منسوب ہو۔ یعنی اس کی سند کسی صحابی پر رک جاتی ہو۔

۳۔ حدیث مقطوع: ایسی حدیث جو کسی تابعی کے قول یا فعل سے منسوب ہو۔ بعض علماء کی رائے ہے کہ ایسی روایتوں کو حدیث میں شمار نہیں کرنا چاہئے۔

👈 ایک حدیث کے صحیح ہونے کے لیے ایک بنیادی شرط ہے سند کا اتصال۔ اس لحاظ سے حدیث کی دو قسمیں ہیں۔

۱۔ حدیثِ متصل: ایسی حدیث جس کی سند کا سلسلہ مکمل ہو اور اس میں کوئی انقطاع نہ ہو۔ یعنی سند میں موجود ہر راوی نے اپنے سے پہلے والے راوی سے براہِ راست حدیث سنی ہو۔ سند کے اتصال کی تحقیق اس بات کویقینی بناتی ہے کہ روایت کا تسلسل رسول اللہ ﷺ تک بلا واسطہ پہونچتا ہے۔

۲۔ حدیث منقطع: ایسی حدیث جس کی سند میں کسی بھی جگہ کوئی راوی حذف ہو گیا ہو اور سند کا تسلسل ٹوٹ گیا ہو۔ منقطع حدیث کو بھی محدثین نے کئی قسموں میں بانٹا ہے، جیسے معلق، مرسل، معضل۔ سند کا منقطع ہونا حدیث کو ضعیف کر دیتا ہے۔

۵۔ صحتِ حدیث

ایک حدیث کے صحیح ہونے کے لیے اس کا پانچ شرائط پر کھرا اترنا ضروری ہے۔

۱۔ اتصالِ سند: یعنی سند میں موجود ہر راوی نے اپنے سے پہلے والے راوی سے وہ حدیث براہِ راست سنی ہو۔

۲۔ عدالتِ راوی: یعنی راوی عادل ہو۔ عادل راوی اسے کہتے ہیں جو (۱) مسلمان ہو، (۲) سچا ہو، (۳) گناہِ کبیرہ سے بچنے والا ہو، (۴) صغیرہ گناہوں پر اصرار کرنے والا نہ ہو، (۵) اور با اخلاق ہو۔

۳۔ ضبطِ راوی: یعنی راوی کی یادداشت بہت اچھی ہو۔ وہ حدیث کو کما حقہ محفوظ کر کے آگے تک پہونچائے، خواہ تحریری شکل میں یا حافظے کے ذریعے۔

۴۔ عدمِ شذوذ: یعنی حدیث کسی زیادہ مضبوط یا زیادہ قابلِ اعتماد روایت کے خلاف نہ ہو۔

۵۔ عدمِ علت: حدیث ان خامیوں سے پاک ہو جو اس کی صداقت کو متاثر کرتی ہو، اگرچہ وہ بظاہر صحیح معلوم ہوتی ہو۔

👈 صحت و ضعف کے اعتبار سے حدیث کی چار قسمیں ہوتی ہیں۔

۱۔ صحیح

صحیح حدیث کی دو قسمیں ہیں۔

الف: صحیح لذاتہٖ: ایسی حدیث جو مذکورہ بالا تمام پانچ شرائط پر پوری اترتی ہو اور اس طرح اپنی ذاتی خوبیوں کی وجہ سے صحیح قرار پاتی ہوں۔

ب: صحیح لغیرہٖ: ایسی حسن حدیث جو متعدد اسناد یا خارجی قرائن کی بنا پر صحیح کے درجے تک پہونچ جائے۔

۲۔ حسن

حسن ایسی حدیث کو کہتے ہیں جو صحیح حدیث کی طرح سارے شرائط پر کھری اترتی ہے لیکن اس کی سند میں ایک یا اس سے زیادہ راویوں کے ”ضبط“ میں معمولی کمی ہوتی ہے۔ سند کا کوئی راوی نیک ہو، لیکن صحیح حدیث کے راوی کی طرح ”معروف“ نہ ہو تو بھی ایسی حدیث کو حسن کے درجے میں رکھتے ہیں۔ 

حسن کی بھی دو قسمیں ہیں۔

الف: حسن لذاتہٖ: ایسی حدیث جو اپنی ذاتی خوبیوں کی بنا پر حسن کے درجے میں ہو۔ یعنی حسن کی تمام شرائط پوری کرتی ہو۔

ب: حسن لغیرہٖ: وہ ضعیف حدیث جو متعدد ضعیف اسناد کی بنا پر حسن کے درجے تک پہونچ جائے بشرطیکہ ضعف شدید نہ ہو۔

۳۔ ضعیف

ضعیف حدیث وہ ہے جو صحیح یا حسن کے درجے کے شرائط پر پوری نہ اترے۔ اس کے اسباب میں سند کا منقطع ہونا، راوی میں کوئی عیب (مثلاً جھوٹا ہونا، کثیر الغلط ہونا، یا حافظہ کمزور ہونا) شامل ہیں۔ ضعیف حدیث اگرچہ مکمل طور پر رد نہیں کر دی جاتی ہیں، لیکن احتیاط کا تقاضہ کرتی ہیں، اور تحقیقِ مزید کی محتاج ہوتی ہیں۔

۴۔ موضوع

ایسی حدیث جو گھڑی ہوئی ہو، جھوٹی ہو، اور غلطی سے یا جان بوجھ کر رسول اللہ ﷺ کی طرف منسوب کر دی گئی ہو۔ یہ حدیث کا سب سے نچلا درجہ ہے۔ اس کی پہچان یہ ہے کہ راوی جھوٹا ہو، یا حدیث گھڑنے والا ہو، اس کا متن اکثر مسلمہ اصولوں کے، قرآن کے، یا معروف تاریخی حقائق کے خلاف ہو۔

موضوع حدیث اور ضعیف حدیث میں فرق یہ ہے کہ موضوع ایک من گھڑت حدیث ہے، اس لئے قابلِ رد ہے۔بلکہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ حدیث ہے ہی نہیں۔ اس کے مقابلے میں ضعیف حدیث ایسی حدیث ہے جو حدیث ہو سکتی ہے۔ لیکن اس کی سند ناقابلِ اعتبار ہے۔

موضوع حدیث گھڑنے کی کئی وجہیں ہو سکتی ہیں۔ مثلاً سیاسی، ذاتی، حتی کہ بعض اوقات نیک نیتی بھی۔

 احادیث کی مزید کچھ اہم قسمیں ہیں جنہیں جاننا چاہئے۔

حدیث قدسی

ایسی حدیث جس کے معنیٰ اللہ کی جانب سے ہوں، لیکن الفاظ رسول اللہ ﷺ کی طرف سے ہوں۔ یہ قرآن سے اس طرح مختلف ہے کہ قرآن کے الفاظ اور معنی دونوں اللہ کی طرف سے ہیں۔

مدلس

ایسی حدیث جس میں راوی سند میں کسی عیب کو چھپائے اور اسے مضبوط ظاہر کرنے کی کوشش کرے۔

معلل

ایسی حدیث جو بظاہر تو صحیح معلوم ہو، لیکن اس میں کوئی پوشیدہ عیب ہو اور اس کی صداقت کو متاثر کرتا ہو۔ یہ عیب سند یا متن، یا دونوں میں ہو سکتا ہے۔

شاذ

ایسی حدیث جس کے راوی تو ثقہ ہوں لیکن اس کا سند یا متن زیادہ قابلِ اعتماد یا کثیر راویوں کی روایت کے خلاف ہو۔

منکر

ایسی حدیث جسے ضعیف راوی روایت کرے اور وہ ثقہ راوی کی روایت کے خلاف ہو۔

مضطرب

ایسی حدیث جس کی سند یا متن مختلف، متضاد طریقوں سے روایت کی گئی ہو، اور ان میں تطبیق دینا یا صحیح نسخہ کا تعین کرنا ناممکن ہو۔

مقلوب

ایسی حدیث جس کے متن کے الفاظ یا سند میں راویوں کے ناموں کی ترتیب الٹ دی گئی ہو۔


۶۔ سند اور متن کی تحقیق

حدیث کی تنقید بنیادی طور پر دو اہم حصوں کی تحقیق پر مشتمل ہے۔ ایک سند (راویوں کا سلسلہ)، دوسرے متن (اصل عبارت)۔

(الف) علم اسماء الرجال

علمِ اسماء الرجال، جس کا لفظی معنیٰ ”لوگوں کا علم ہے“، لیکن یہ دراصل راویوں کا علم ہے۔ یہ علمِ حدیث کا وہ شعبہ ہے جس میں راویوں کا جائزہ لیا جاتا ہے تاکہ یہ طے کیا جا سکے کہ زیرِ بحث حدیث قابلِ اعتبار ہے یا نہیں۔ اس میں راویوں کے بارے میں تفصیلی معلومات جمع کی جاتی ہیں، ان کی تاریخِ پیدائش و وفات، ان کے اسفار، رہائش، تعلیم وغیرہ کی چھان بین کی جاتی ہے تاکہ اس بات کی تصدیق ہو کہ آیا وہ اگلے راوی یا استاد سے مل سکا یا نہیں۔
ایک تخمینے کے مطابق علماء اسماء الرجال نے تقريباً پانچ لاکھ افراد کے حالات جمع کیے تاکہ ان کے ذریعے سے ملنے والی روایات کا جائزہ لیا جا سکے۔ یہ ساری معلومات اسماء الرجال کی کتابوں میں محفوظ ہیں۔ اگر ہم آج بھی چاہیں تو کسی حدیث میں مذکور راوی کے حالات کی تحقیق کر سکتے ہیں۔ الکامل فی اسماء الرجال لعبد الغنی المقدسی، تہذیب الکمال فی اسماء الرجال لجمال الدین المزی، تدریب التہذیب لابن حجر العسقلانی وغیرہ اس کی مشہور کتابیں ہیں۔

(ب) علمِ الجرح و التعدیل

علمِ حدیث کی یہ شق راویوں کے ثقاہت (قابلِ اعتبار ہونا) یا ضعف (کمزور ہونا) کا جائزہ لیتا ہے۔

  • جرح کے ذریعے کسی راوی کی کمزوری کو ظاہر کیا جاتا ہے۔ جرح کے اسباب میں جان بوجھ کر جھوٹ بولنا، جعل سازی کا الزام، کثرتِ غلطی، ضبط میں کمی، کبیرہ گناہوں کا ارتکاب، غلط فہمی، دوسرے ثقہ راویوں کی مخالفت، مجہول الحال ہونا، بدعت میں ملوث ہونا وغیرہ شامل ہے۔ 
  • تعدیل کا مطلب ہوتا ہے کسی راوی کو مذکورہ بالا عیوب سے پاک قرار دینا۔ یہ راوی کے بااعتبار ہونے کی تصدیق کرتا ہے۔ 

جرح و تعدیل کو سمجھنے کے لیے اس فن میں استعمال ہونے والے الفاظ اور ان کے درجات کو سمجھنا ضروری ہے:

(۱) اعلی ترین درجے پر فائز راویوں کے لیے علماء حدیث درج ذیل الفاظ استعمال کرتے ہیں۔
(۱) ثقة ثقة (۲) ثقة ثبت (۳) ثقة حجة (۴) امام حجة (۵) حافظ حجة (۶) ثقہ مامون
یہ الفاظ بتاتے ہیں کہ راوی بہت سچے، مضبوط، اور حفظ و ضبط میں کمال رکھتے ہیں۔ ایسے راوی سے روایت قبول کرنے میں کوئی ہچکچایٹ نہیں ہوتی۔ یہ الفاظ راوی کے علم، فہم، اور حافظے کی پختگی کو بھی بیان کرتے ہیں۔

(۲) اس کے بعد کا درجہ اعلیٰ راویوں کا ہے۔ ان کے لیے علماء حدیث درج ذیل الفاظ استعمال کرتے ہیں۔
(۱) ثقة (۲) صدوق (۳) لا بأس بہ (۴) ثبت (۵) مامون
یہ الفاظ راوی کے سچے اور قابلِ اعتماد ہونے کو بتاتے ہیں۔ ان کی روایت کو قابلِ قبول سمجھا جاتا ہے۔ لیکن ان کی روایتیں تب محلِّ نظر ہو جاتی ہیں جب اعلی ترین راویوں کے خلاف پڑتی ہوں۔

(۳) اس کے بعد متوسط درجے کے راوی آتے ہیں۔ ان کے لیے علماء حدیث درج ذیل الفاظ استعمال کرتے ہیں۔
(۱) صدوق یخطئ (۲) صدوق لہ اوہام (۳) شیخ 
یہ الفاظ بتاتے ہیں کہ راوی بنیادی طور پر سچا ہے، لیکن کبھی کبھار غلطیاں کرتا ہے، یا اسے غلط فہمی ہو جاتی ہے۔ ایسے راوی کی روایت قبول کرنے میں تھوڑی احتیاط برتی جاتی ہے۔ بعض اوقات یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ آیا دوسری مضبوط روایت ان کی تصدیق میں ہیں یا ان کے خلاف۔

(۴) اس کے بعد کا درجہ کمزور راویوں کا ہے۔ ان کے لیے علماء حدیث یہ الفاظ استعمال کرتے ہیں۔
(۱) ضعیف (۲) فیہ ضعف (۳) لیس بقوی (۴) لا یحتاج بہ (۵) منکر الحديث
یہ الفاظ بتاتے ہیں کہ راوی پختہ نہیں ہے، اور اس کی یادداشت کمزور ہے۔ ایسے راوی کی روایت کو عام طور پر قابلِ قبول نہیں سمجھا جاتا ہے، الا یہ کہ اسے کسی دوسری مضبوط روایت سے تقویت ملتی ہو۔ منکر الحديث کا مطلب ہے کہ اس کی روایت معروف احادیث کے خلاف ہے۔

(۵) سب سے آخر میں انتہائی کمزور راوی آتے ہیں۔ ان کے لیے علماء حدیث یہ الفاظ استعمال کرتے ہیں۔
(۱) متروک (۲) وضّاع (۳) ساقط (۴) رمواہ بالکذب
یہ الفاظ ظاہر کرتے ہیں کہ راوی نہایت غیر معتبر ہے۔ ایسے راوی کی روایتیں قطعی طور پر ناقابلِ قبول ہوتی ہیں۔ ان کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ جھوٹے اور حدیث گھڑنے والے ہیں۔ ان کی روایات کو بالکل ترک کر دیا جاتا ہے۔

(ج) سند کا اتصال

صحیح حدیث کے لیے ایک بنیادی شرط ہے کہ سند متصل ہو۔ یعنی راویوں کا سلسلہ بغیر کسی انقطاع یا گمشدہ راوی کے مکمل ہو۔ علماء اس کی تصدیق اس بات سے کرتے ہیں کہ آیا ہر راوی اپنے فوری پیش رو سے مل سکا یا نہیں، اور اس سے حدیث سن سکا یا نہیں۔ جن احادیث کی سند میں انقطاع ہو انہیں عام طور پر ضعیف قرار دے دیا جاتا ہے۔ معلق، مرسل، معضل اور منقطع اس کی قسمیں ہیں۔ سند کے تسلسل پر یہ اصرار ایک بنیادی منہجی ضرورت ہے تاکہ اصل ماخذ سے براہ راست اور قابل تصدیق روابط قائم کئے جا سکیں۔ اس طرح کسی بھی اضافے یا غلط انتساب کا خطرہ کم سے کم ہو جاتا ہے۔

(د) شذوذ اور علت سے پاک ہونا

۱) شذوذ: ایک ایسی حدیث جو کسی زیادہ قابلِ اعتماد حدیث کے خلاف ہو، اسے شاذ کہا جاتا ہے، خواہ اس حدیث کے راوی ثقہ ہی کیوں نہ ہوں۔ شذوذ کو حدیث کا معمولی سقم سمجھا جاتا ہے۔ 

۲) علت: یہ حدیث میں ایک پوشیدہ اور باریک خامی ہوتی ہےجو اس کی صداقت کو متاثر کرتی ہے، اگرچہ بظاہر وہ صحیح معلوم ہو۔ یہ عیوب سند یا متن میں ہو سکتے ہیں۔ علتوں کی نشاندہی کے لیے کافی مہارت چاہئے ہوتی ہے۔

شذوذ اور علت سے پاک ہونے کا معیار حدیث کی تنقید کی انتہا کو ظاہر کرتا ہے، جو محض سند کی تصدیق سے ہٹ کر متنی اور سیاق و سباق کے تجزیے کی ایک انتہائی اعلیٰ سطح کی نشاندہی کرتا ہے۔ 

(ہ) متن کی جانچ پڑتال

حدیث کی تحقیق میں سند کی جانچ کے ساتھ ہی متن (حدیث کی اصل عبارت) کا بھی گہرائی س جائزہ لیا جاتا ہے۔

۱) قرآن و سنت سے مطابقت: حدیث کے متن کا قرآن اور مسلمہ اور معروف سنت کے مطابق ہونا ضروری سمجھا جاتا ہے۔ اگر یہ ان سے متصادم ہو تو عام طور پر اسے رد کر دیا جاتا ہے۔

۲) عقل و منطق سے ہم آہنگی: اسی طرح حدیث کو منطقی اور معقول ہونا چاہئے۔ ایسی روایتیں جو ناممکنات میں سے ہوں یا خلافِ عقل ہوں، ان کو محل نظر سمجھا جاتا ہے۔

(و) اسناد اور متن کا باہمی تجزیہ

اسناد و متن کا باہمی تجزیہ علمِ حدیث میں ایک جدید طریقہ کار ہے جو ایک ہی روایت کے متعدد نسخوں کے متن اور راویوں کے سلسلے میں پیدا ہونے والے تغیرات کے تعلق کو شناخت کر کے حدیث کو تاریخ وار ترتیب دینے کی کوشش ہے۔ اس کا مقصد حدیث کے پرانے نسخوں کو دوبارہ تشکیل دینا اور انہیں ابتدائی راویوں کے فعال دور کی بنیاد پر ترتیب دینا ہے۔ اسے مطالعہ حدیث کا انتہائی قابلِ اعتماد طریقہ سمجھا جاتا ہے۔ اس طریقہ کار کا وسیع پیمانے پر استعمال تنقیدی منہجیات کے مسلسل ارتقاء کی عکاسی کرتا ہے، جو توثیق کو مزید بہتر بنانے کے لیے عصری تجزیاتی آلات کو روایتی طریقوں کے ساتھ مربوط کرتا ہے۔  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے