تقویٰ

تقویٰ کا لغوي مفہوم

تقوی ”وقی“ سے مشتق ہے۔ اس کے معنی اہل لغت نے ”بچاؤ، حفاظت، بچانا، صیانت، وقایت“ بتائے ہیں۔ 

ابن منظور نے لسان العرب میں لکھا ہے:

”وقاہ اللہ وقیاً و وقایتہً و واقیةً: صانہ“

یعنی اللہ نے اس کی حفاظت کی۔ 

سورة الدخان میں اسی معنی میں کہا گیا:

”و وقاہم عذاب الجحیم (آیت ۵۶)“

اسی طرح سورة انسان میں ہے:

”فوقاہم اللہ شرّ ذالک الیوم (آیت ۱۱)“

یعنی لغت میں تقویٰ کا مطلب ہے ”خود کو نقصاندہ چیز سے بچانا، کسی ضرر سے حفاظت کرنا، اور محطاط رہنا۔“

تقویٰ کا اصطلاحی مفہوم

اسلاف نے تقویٰ کے معنیٰ اس طرح بیان کئے ہیں:

”فرائض کی ادائگی، محرمات سے اجتناب، اللہ اور اس کے رسول پر ایمان اور اس معاملے میں اخلاص کا رویہ، اللہ اور اس کے رسول نے جن باتوں کی خبر دی ہے، سب کو سچ ماننا، اللہ کے عذاب سے خوف کھانا، اور اللہ سے اجر کی امید رکھنا۔“


قرآنِ کریم میں تقویٰ احکامِ الٰہی کی پابندی سے عبارت ہے:

۱۔ سورة البقرہ میں ہے:

الٓمٓ . ذَٰلِكَ ٱلۡكِتَٰبُ لَا رَيۡبَ فِيهِ هُدٗى لِّلۡمُتَّقِينَ . ٱلَّذِينَ يُؤۡمِنُونَ بِٱلۡغَيۡبِ وَيُقِيمُونَ ٱلصَّلَوٰةَ وَمِمَّا رَزَقۡنَٰهُمۡ يُنفِقُونَ . وَٱلَّذِينَ يُؤۡمِنُونَ بِمَآ أُنزِلَ إِلَيۡكَ وَمَآ أُنزِلَ مِن قَبۡلِكَ وَبِٱلۡأٓخِرَةِ هُمۡ يُوقِنُونَ . (ایت: ا تا ۴)

ترجمہ: یہ اللہ کی کتاب ہے ،اس میں کوئی شک نہیں ہے۔ ہدایت ہے اُن پرہیزگاروں کے لئے جو غیب پر ایمان لاتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں، جو رزق ہم نے اُن کو دیا ہے، اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔ جو کتاب تم پر نازل کی گئی ہے (یعنی قرآن) اور جو کتابیں تم سے پہلے نازل کی گئی تھیں ان سب پر ایمان لاتے ہیں، اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔

یہاں پر تقویٰ کے ساتھ ایمان بالغیب، نماز کے قیام، اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنا اور آخرت کے یقین کا تذکرہ آیا ہے۔

۲۔ اسی سورت کی ایت ۱۹۶ میں حج و عمرے کے احکام صادر ہونے کے بعد مذکور ہے ”وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَ وَٱعۡلَمُوٓاْ أَنَّ ٱللَّهَ شَدِيدُ ٱلۡعِقَابِ“۔ یعنی: اور اللہ کے ان احکام کی خلاف ورزی سے بچو اور خوب جان لو کہ اللہ سخت سزا دینے والا ہے۔

۳۔ اسی طرح سود کی حرمت بیان کرتے ہوئے کہا گیا:

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ ٱتَّقُواْ ٱللَّهَ وَذَرُواْ مَا بَقِيَ مِنَ ٱلرِّبَوٰٓاْ إِن كُنتُم مُّؤۡمِنِينَ (آیت ۲۷۸)

ترجمہ : اے لوگو جو ایمان لائے ہو، خدا سے ڈرو اور جو کچھ تمہارا سود لوگوں پر باقی رہ گیا ہے، اسے چھوڑ دو، اگر واقعی تم ایمان لائے ہو۔

۴۔ آیتِ دَین کا اختتام کرتے ہوئے فرمایا:

وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَ وَيُعَلِّمُكُمُ ٱللَّهُ وَٱللَّهُ بِكُلِّ شَيۡءٍ عَلِيمٞ

ترجمہ:  اللہ کے غضب سے بچو۔ وہ تم کو صحیح طریقِ عمل کی تعلیم دیتا ہے اور اسے ہر چیز کا علم ہے۔

۵۔ سورة المائدہ میں ہے: يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ كُونُواْ قَوَّٰمِينَ لِلَّهِ شُهَدَآءَ بِٱلۡقِسۡطِ وَلَا يَجۡرِمَنَّكُمۡ شَنَـَٔانُ قَوۡمٍ عَلَىٰٓ أَلَّا تَعۡدِلُواْ ٱعۡدِلُواْ هُوَ أَقۡرَبُ لِلتَّقۡوَىٰ وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَ إِنَّ ٱللَّهَ خَبِيرُ بِمَا تَعۡمَلُونَ (آیت ۸)

ترجمہ : اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ کی خاطر راستی پر قائم رہنے والے اور انصاف کی گواہی دینے والے بنو۔ کسی گروہ کی دُشمنی تم کو اتنا مشتعل نہ کردے کہ انصاف سے پھر جاؤ۔ عدل کرو، یہ خدا ترسی سے زیادہ مناسبت رکھتا ہے۔ اللہ سے ڈرکر کام کرتے رہو، جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اُس سے پُوری طرح باخبر ہے۔

۶۔ اسی سورة میں آگے ہے:

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ ٱتَّقُواْ ٱللَّهَ وَٱبۡتَغُوٓاْ إِلَيۡهِ ٱلۡوَسِيلَةَ وَجَٰهِدُواْ فِي سَبِيلِهِ لَعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُونَ (آیت ۳۵)

ترجمہ : اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اللہ سے ڈرو اور اُس کی جناب میں بار یابی کا ذریعہ تلاش کرو اور اس کی راہ میں جدوجہد کرو، شاید کہ تمہیں کامیابی نصیب ہوجائے۔

۷۔ سورة البقرة میں ہے:

لَّيۡسَ ٱلۡبِرَّ أَن تُوَلُّواْ وُجُوهَكُمۡ قِبَلَ ٱلۡمَشۡرِقِ وَٱلۡمَغۡرِبِ وَلَٰكِنَّ ٱلۡبِرَّ مَنۡ ءَامَنَ بِٱللَّهِ وَٱلۡيَوۡمِ ٱلۡأٓخِرِ وَٱلۡمَلَٰٓئِكَةِ وَٱلۡكِتَٰبِ وَٱلنَّبِيِّـینَ وَءَاتَى ٱلۡمَالَ عَلَىٰ حُبِّهِ ذَوِي ٱلۡقُرۡبَىٰ وَٱلۡيَتَٰمَىٰ وَٱلۡمَسَٰكِينَ وَٱبۡنَ ٱلسَّبِيلِ وَٱلسَّآئِلِينَ وَفِي ٱلرِّقَابِ وَأَقَامَ ٱلصَّلَوٰةَ وَءَاتَى ٱلزَّكَوٰةَ وَٱلۡمُوفُونَ بِعَهۡدِهِمۡ إِذَا عَٰهَدُواْ وَٱلصَّٰبِرِينَ فِي ٱلۡبَأۡسَآءِ وَٱلضَّرَّآءِ وَحِينَ ٱلۡبَأۡسِ أُوْلَٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ صَدَقُواْ وَأُوْلَٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡمُتَّقُونَ۔ (آیت:۱۷۷)

ترجمہ : نیکی یہ نہیں ہے کہ تم نے اپنے چہرے مشرق کی طرف کر لیے یا مغرب کی طرف، بلکہ نیکی یہ ہے کہ آدمی اللہ کو اور یومِ آخر اور ملائکہ کو اور اللہ کی نازل کی ہوئی کتاب اور اس کے پیغمبروں کو دل سے مانے اور اللہ کی محبت میں اپنا دل پسند مال رشتے داروں اور یتیموں پر ، مسکینوں اور مسافروں پر، مدد کے لیے ہاتھ پھیلانے والوں پر اور غلاموں کی رہائی پر خرچ کرے، نماز قائم کرے اور زکوٰة دے۔ اور نیک وہ لوگ ہیں کہ جب عہد کریں تو اسے وفا کریں، اور تنگدستی و مصیبت کے وقت میں اور حق و باطل کی جنگ میں صبر کریں۔ یہ ہیں راستباز لوگ اور یہی لوگ متقی ہیں۔

۸۔ سورة آلِ عمران میں ہے:

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ ٱتَّقُواْ ٱللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِۦ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنتُم مُّسۡلِمُونَ . وَٱعۡتَصِمُواْ بِحَبۡلِ ٱللَّهِ جَمِيعٗا وَلَا تَفَرَّقُواْۚ وَٱذۡكُرُواْ نِعۡمَتَ ٱللَّهِ عَلَيۡكُمۡ إِذۡ كُنتُمۡ أَعۡدَآءٗ فَأَلَّفَ بَيۡنَ قُلُوبِكُمۡ فَأَصۡبَحۡتُم بِنِعۡمَتِهِۦٓ إِخۡوَٰنٗا وَكُنتُمۡ عَلَىٰ شَفَا حُفۡرَةٖ مِّنَ ٱلنَّارِ فَأَنقَذَكُم مِّنۡهَاۗ كَذَٰلِكَ يُبَيِّنُ ٱللَّهُ لَكُمۡ ءَايَٰتِهِۦ لَعَلَّكُمۡ تَهۡتَدُونَ . (آیت ۱۰۲ و ۱۰۳)

ترجمہ: اے لوگوں جو ایمان لائے ہو ، اللہ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے۔ تم کو موت نہ آئے مگر اس حال میں کہ تم مسلم ہو۔ سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوط پکڑ لو اور تفرقہ میں نہ پڑو۔ اللہ کے اس احسان کو یاد رکھو جو اس نے تم پر کیا ہے۔ تم ایک دوسرے کے دشمن تھے، اس نے تمہارے دل جوڑ دیے اور اس کے فضل و کرم سے تم بھائی بھائی بن گئے۔ تم آگ سے بھرے ہوئے ایک گڑھے کے کنارے کھڑے تھے،اللہ نے تم کو اس سے بچالیا۔ اس طرح اللہ اپنی نشانیاں تمہارے سامنے روشن کرتا ہے شاید کہ ان علامتوں سے تمہیں اپنی فلاح کا سیدھا راستہ نظر آجائے۔

امام السیوطی نے ”الدرر المثور“ میں لکھا ہے کہ حضرت ابو ہریرہ سے کسی نے پوچھا:

”تقویٰ کیا ہے؟“

ابو ہریرہ نے کہا ”کیا تم کبھی کانٹوں کے راستے سے گزرے ہو؟“

اس نے کہا ”ہاں“

ابوہریرہ نے پوچھا ”پھر کیا کرتے تھے؟“

اس نے کہا ”ان سے بچ کر چلتا، کبھی ایک طرف ہٹ جاتا، کبھی چھوٹے قدم رکھتا۔“

ابوہریرہ نے کہا ”بس یہی تقویٰ ہے۔“

ابو نعیم نے ”حلیة الاولیاء“ میں لکھا ہے کہ امام حسن بصری نے اہلِ تقویٰ کی علامتیں بیان کی ہیں جو درج ذیل ہیں:

۱۔ سچ بولنا

۲۔ عہد کی پاسداری

۳۔ صلہ رحمی

۴۔ کمزوروں کے ساتھ نرم خوئی

۵۔ غرور و فخر سے اجتناب

۶۔ نیکی کا فروغ

۷۔ لوگوں کے سامنے شیخی نہ بگھارنا

۸۔ خوش اخلاقی

ابن الاثیر نے جامع الاصول میں لکھا ہے کہ مالک بن انس ذکر کرتے ہیں کہ ایک فقیہ نے ابن زبیر کو لکھا کہ اہل تقویٰ کی کچھ نشانیاں ہیں جن کے ذریعے سے وہ پہچانے جاتے:

۱۔ وہ اللہ کے فیصلوں سے راضی ہوتے ہیں۔

۲۔ وہ مصیبتوں پر صبر کرتے ہیں۔

۳۔ وہ نعمتوں پر شکر گزار ہوتے ہیں۔

۴۔ وہ بات کرتے ہیں تو سچ بولتے ہیں۔

۵۔ عہد و پیمان کی پاسداری کرتے ہیں۔ 

۶۔ احکامِ قرآن کی تلاوت کرتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے