سنت کا لفظ عربی زبان میں خاص طور پر تین معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔
۱۔ طریقہ، چاہے اچھا ہو یا برا
۲۔ سیرت، چاہے اچھی ہو یا بری
۳۔ عادت اور مزاج، چاہے اچھے ہوں یا برے
سنةُ اللہِ
سنت اللہ سے مراد ہے اللہ تعالیٰ کے وہ قوانین و مقررات جو اس کائنات میں جاری و ساری ہیں۔ جامعیت، ثبات، ضابطہ مند ہونا اس کی اہم خصوصیات ہیں۔ سورة فاطر میں ہے:
ٱسۡتِكۡبَارٗا فِي ٱلۡأَرۡضِ وَمَكۡرَ ٱلسَّيِّيِٕ وَلَا يَحِيقُ ٱلۡمَكۡرُ ٱلسَّيِّئُ إِلَّا بِأَهۡلِهِۦ فَهَلۡ يَنظُرُونَ إِلَّا سُنَّتَ ٱلۡأَوَّلِينَ فَلَن تَجِدَ لِسُنَّتِ ٱللَّهِ تَبۡدِيلٗا وَلَن تَجِدَ لِسُنَّتِ ٱللَّهِ تَحۡوِيلًا (آیت: ۴۳)
ترجمہ : یہ زمین میں اور زیادہ استکبار کرنے لگے اور بُری بُری چالیں چلنے لگے، حالانکہ بُری چالیں اپنے چلنے والوں ہی کو لے بیٹھتی ہیں۔ اب کیا یہ لوگ اِس کا انتظار کر رہے ہیں کہ پچھلی قوموں کے ساتھ اللہ کو جو طریقہ رہا ہے وہی اِن کے ساتھ بھی برتا جائے؟ ہی بات ہے تو تم اللہ کے طریقے میں ہر گز کوئی تبدیلی نہ پاؤ گے اور تم کبھی نہ دیکھو گے کہ اللہ کی سُنّت کو اس کے مقرر راستے سے کوئی طاقت پھیر سکتی ہے۔
اس کے علاوہ یہ اصطلاح قرآن میں سورة الاحزاب کی ایت ۳۸ اور آیت ۶۲، سورة غافر کی آیت ۸۵ اور سورة الفتح کی آیت ۲۳ میں مذکور ہے۔
سنتِ ابراہیمی
جاوید احمد غامدی اپنی مایہ ناز کتاب المیزان میں لکھتے ہیں:
سنت سے ہماری مراد دینِ ابراہیمی کی وہ روایت ہے جسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تجدید و اصلاح کے بعد اور اس میں بعض اضافوں کے ساتھ اپنے ماننے والوں میں دین کی حیثیت سے جاری فرمایہ ہے۔ قرآن میں آپ کو ملتِ ابراہیمی کی اتباع کا حکم دیا گیا ہے۔ یہ روایت بھی اسی کا حصہ ہے۔ ارشاد فرمایہ ہے:
ثُمَّ أَوۡحَيۡنَآ إِلَيۡكَ أَنِ ٱتَّبِعۡ مِلَّةَ إِبۡرَٰهِيمَ حَنِيفٗاً وَمَا كَانَ مِنَ ٱلۡمُشۡرِكِينَ (سورة النحل، آیت: ۱۲۳)
ترجمہ : پھر ہم نے تمھیں وحی کی کہ ملت ابراہیم کی پیروی کرو جو بالکل یک سو تھا اور مشرکوں میں سے نہیں تھا۔
سنتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم
(الف) علماء حدیث کے نزدیک سنت کی تعریف اس طرح ہے:
”كل ما أثر عن النبيؐ من قول أو فعل أو تقرير أو سيرة أو صفة خَلقية أو خُلقية، سواء أكان ذلك قبل البعثة أم بعدها“
یعنی: ہر وہ چیز جو اللہ کے رسول کی نسبت سے ہم تک پہونچی ہے، جس میں ان کے اقوال، افعال، عادات، سیرت جسمانی یا اخلاقی خصوصیات شامل ہیں، چاہے ان کا تعلق نبی بنائے جانے سے پہلے کے دور سے ہو یا نبی بنائے جانے کے بعد کے دور سے ہو۔
قول کی مثال ہے: المَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ (مسلم)
ترجمہ : (قیامت میں) آدمی اس شخص کے ساتھ ہوگا جس سے وہ محبت کرتا ہے۔
فعل کی مثال ہے: كانَ رَسولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عليه وسلَّمَ يُصَلِّي علَى رَاحِلَتِهِ، حَيْثُ تَوَجَّهَتْ فَإِذَا أرَادَ الفَرِيضَةَ نَزَلَ فَاسْتَقْبَلَ القِبْلَةَ (بخاری)
ترجمہ : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر اسی رخ سے نماز ادا کرتے جس طرف سواری کا رخ ہوتا۔ پھر جب فرض نماز ادا کرنے کا ارادہ کرتے تو اتر کر قبلہ رخ ہو کر ادا کرتے۔
تقریر کی مثال ہے: سَافَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَصُومُ الصَّائِمُ، وَيُفْطِرُ الْمُفْطِرُ، فَلَا يَعِيبُ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ (مسلم)
ترجمہ: انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سفر کیا تو روزہ دار روزہ رکھتا اور چھوڑنے والا چھوڑتا، اس پر وہ ایک دوسرے پر عیب نہیں لگاتے تھے۔
سیرت کی مثال ہے:عن عبد الله بن الحارث بن جزء قال ما رأيت أحدا أكثر تبسما من رسول الله صلى الله عليه وسلم (مسند احمد)
ترجمہ: عبد اللہ بن حارث روایت کرتے ہیں کہ میں نے اللہ کے رسولؐ سے زیادہ کسی کو مسکراتے ہوئے نہیں دیکھا۔
صفتِ خَلقیہ کی مثال ہے: كانَ رَسولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عليه وسلَّمَ: أحْسَنَ النَّاسِ وجْهًا وأَحْسَنَهُ خَلْقًا، ليسَ بالطَّوِيلِ البَائِنِ، ولَا بالقَصِيرِ (بخاری و مسلم)
ترجمہ: اللہ کے رسول لوگوں میں سب سے زیادہ حسین اور بہترین اخلاق والے تھے۔ وہؐ نہ تو بہت زیادہ طویل القامت تھے اور نہ ہی پستہ قد۔
صفتِ خُلقیہ کی مثال ہے: عن انس بن مالک، خدمتُ رسولَ اللهِ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّم عشرَ سنينَ ، فما قال لي أُفٍّ قطُّ ، وما قال لي لشيٍء صنعتُه : لِمَ صنعتَه ، ولا لشيٍء تركتُه : لِمَ تركتَه (بخاری و مسلم)
ترجمہ: انس ابن مالک روایت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ میں دس سال رسول اللہؐ کی خدمت میں رہا، انہوں نے کبھی ”اف“ تک نہ کہا۔ اور نہ ہی کسی کام کے کرنے پر کہا کہ یہ کیوں کیا اور نہ کی کسی کام کے نہ کرنے پر یہ کہا کہ یہ کیوں نہ کیا؟
(ب) علماء اصولِ فقہ کے نزدیک سنت کی تعریف اس طرح ہے:
المصدر الثاني للتشريع. ويقصد بها الحديث نبوي من حيث أنه الأصل الثاني لتشريع الأحكام، وأيضا بمعنى: الحكم التكليفي المندوب غير الفرض.
یعنی: شریعت کا دوسرا ماخذ، یعنی اللہ کے رسول کی حدیثیں۔ بعض اوقات اس کے معنی ہوتے ہیں شریعت کے ایسے احکام جنہیں فرض کے درجے میں نہیں رکھا جا سکتا۔
(ج) فقہاء کے نزدیک سنت کی تعریف اس طرح ہے:
شریعت کے ایسے احکام جو فرض یا واجب نہ ہوں اور اس کے کرنے پر ثواب تو ہے، لیکن نہ کرنے کا کوئی گناہ نہیں۔
(ہ) حدیث کی اصطلاح میں سنت کی تعریف اس طرح ہے:
ما أضيف إلى النبيؐ من قول أو فعل أو تقرير
یعنی: اللہ کے رسول کی طرف منصوب اقوال، اعمال یا تقریر۔
سنت اور حدیث کا فرق
”سنت“ اور ”حدیث“ اگرچہ کئی بار ایک دوسرے کے معنی میں بھی استعمال ہوتے ہیں، لیکن اصطلاحاً ان دونوں کے معنی میں واضح فرق ہے۔
حدیث اللہ کے رسول کے اقوال، افعال اور تقریرات کی روایات یا بیانات ہیں۔ یہ ایک عام اصطلاح ہے جو ان تمام منقولات کو شامل ہے جن کی نسبت اللہ کے رسول کی طرف کر دی گئی ہے۔
اس کے مقابلے میں سنت اللہ کے رسول کا طریقہ زندگی، عملی نمونہ یا معیاری رواج ہے۔ یعنی ایک ایسا عمل ہے جو مسلمانوں کے درمیان نسلاً بعد نسلٍ منتقل ہوتا چلا آ رہا ہے۔
ہم کہہ سکتے ہیں حدیث سنت کی دستاویزات ہیں۔ حدیث وہ علمی ریکارڈ ہے جو اللہ کے رسول کے قائم کردہ عملی نمونہ کی نمائندگی کرتی ہے۔ گویا کہ حدیث وہ متنی وسیلہ ہے جس کے ذریعہ سنت کو محفوظ کیا جاتا ہے۔


