ایمان کے لغوي معنیٰ
عربی لغت میں ایمان کے معنی آتے ہیں تصدیق کرنے کے۔ یعنی کسی بات کو دل سے سچ ماننا۔ اسی طرح ایمان کے معنی اقرار کرنے کے اور اعتراف کرنے کے بھی ہوتے ہیں۔
جیسا کہ قرآنِ کریم میں حصرت یوسف علیہ السلام کے واقعے میں بھائیوں اپنے والد حضرت یعقوب علیہ السلام سے کہا:
قَالُواْ يَٰٓأَبَانَآ إِنَّا ذَهَبۡنَا نَسۡتَبِقُ وَتَرَكۡنَا يُوسُفَ عِندَ مَتَٰعِنَا فَأَكَلَهُ ٱلذِّئۡبُ وَمَآ أَنتَ بِمُؤۡمِنٖ لَّنَا وَلَوۡ كُنَّا صَٰدِقِينَ (سورہ یوسف: ۱۷)
ترجمہ: اور کہا "ابا جان، ہم دوڑ کا مقابلہ کرنے میں لگ گئے تھے اور یوسفؑ کو ہم نے اپنے سامان کے پاس چھوڑ دیا تھا کہ اتنے میں بھیڑیا آ کر اُسے کھا گیا آپ ہماری بات کا یقین نہ کریں گے چاہے ہم سچے ہی ہوں“۔
یہاں مؤمن کا مطلب ہے یقین کرنے والا۔
اسی طرح لسان العرب میں ابن منظور نے لکھا ہے:
الایمان ضد الکفر، الایمان بمعنی تصدیق ضدّہ تکذیب۔
ترجمہ: ایمان ضد ہے انکار کرنے کا۔ ایمان جب تصدیق کرنے کے معنی میں آتا ہے تو اس کی ضد ہوتی ہے تکذیب۔
اس سے معلوم ہوا کہ ایمان کا لغوی مفہوم کسی بات کی تصدیق اور سچے دل سے اس کا اقرار کرنا ہے۔
ایمان کے اصطلاحی معنیٰ
شریعت میں ایمان کا مطلب ہوتا ہے: اللہ اور اس کے رسول کو دل سے سچ ماننا اور زبان سے اس بات کا اقرار کرنا۔
فقہاء کے نزدیک ایمان کا مطلب ہے: اللہ اور محمد رسول اللہ پر دل سے اعتقاد رکھنا، زبان سے اقرار کرنا، اور ایسا عمل کرنا جو اس کے متناقض نہ ہوں۔ (تصدیق بالقلب، و قول باللسان، و عمل بالجوارح)
عبد اللہ بن سلیمان الغفیلی اپنی کتاب ابن رجب الحنبلی و اثرہ فی توضیح عقیدة السلف میں لکھتے ہیں:
”اہل السنة والجماعة کے اصول کے مطابق ایمان کا مطلب ہے دل سے سچ ماننا، زبان سے اس کا اقرار کرنا، اور ارکان پر عمل کرنا۔“
امام احمد بن حنبل کہتے ہیں، ”الایمان قول و عمل، یزید و ینقص۔“ یعنی ایمان قول و عمل ہے، اور یہ بڑھتا اور گھٹتا ہے۔
ایمان کے ارکان
دینِ اسلام میں ایمان کے چھہ (۶) ارکان ہیں۔
۱۔ ایمان باللہ
اللہ پر ایمان میں خاص طور پر تین چیزیں شامل ہیں۔
الف: توحید الوہیت۔ یعنی اللہ کے وجود پر ایمان۔ یعنی اس بات پر ایمان کہ اللہ کے سوا کوئی خدا نہیں ہے، وہ ایک ہے اور وہی اکیلا لائقِ عبادت ہے۔
سورة الانبیاء میں اللہ رب العزت کا ارشاد ہے:
ترجمہ : وَمَآ أَرۡسَلۡنَا مِن قَبۡلِكَ مِن رَّسُولٍ إِلَّا نُوحِيٓ إِلَيۡهِ أَنَّهُۥ لَآ إِلَٰهَ إِلَّآ أَنَا۠ فَٱعۡبُدُونِ (آیت ۲۵)
ب: توحیدِ ربوبیت۔ یعنی اللہ سارے جہانوں کا پالنہار ہے۔
جیسا کہ ہم روزانہ نماز میں پڑھتے ہیں: ٱلۡحَمۡدُ لِلَّهِ رَبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ (سورة الفاتحہ:۱)
ترجمہ: تعریف اللہ ہی کے لیے ہے جو تمام کائنات کا رب ہے۔
ج۔ توحیدِ اسماء و صفات۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کے مختلف نام اور صفات کا ذکر ہے۔ اللہ پر ایمان میں یہ بھی شامل ہے کہ ان سارے اسماء و صفات پر ایمان لایا جائے۔
سورة الاعراف میں ارشاد ہے:
وللَّهِ ٱلۡأَسۡمَآءُ ٱلۡحُسۡنَىٰ فَٱدۡعُوهُ بِهَا (الاعراف: ۱۸۰)
ترجمہ : اللہ اچھے ناموں کا مستحق ہے، اس کو اچھے ہی ناموں سے پکارو۔
۲۔ ایمان بالرسل
ایمان بالرسل میں خاص طور پر چار چیزیں شامل ہیں۔
الف: اس بات پر ایمان کہ اللہ تعالیٰ نے ہر امت میں رسول بھیجے جو انہیں ایک اللہ کی عبادت کرنے کی دعوت دیتے تھے، اور اس کے علاوہ جو خدا لوگوں نے بنا رکھے تھے ان کا انکار کرنے کی دعوت کرتے تھے۔ جیسا کہ قرآن میں ہے:
وَلَقَدۡ بَعَثۡنَا فِي كُلِّ أُمَّةٖ رَّسُولًا أَنِ ٱعۡبُدُواْ ٱللَّهَ وَٱجۡتَنِبُواْ ٱلطَّٰغُوتَ (سورة النحل: ۳۶)
ترجمہ : ہم نے ہر اُمّت میں ایک رسُول بھیج دیا، اور اُس کے ذریعہ سے سب کو خبر دار کر دیا کہ ”اللہ کی بندگی کرو اور طاغوت کی بندگی سے بچو۔“
ب: ان انبیاء پر ایمان جن کا ذکر قرآن میں ہوا ہے، اور جن کی خبر اللہ کے رسول نے دی ہے۔
ج: اس بات پر ایمان کہ محمدؐ بن عبدللہ آخری پیغمبر ہیں، ان کے بعد کوئی نبی یا رسول نہیں آئیں گے۔ اور اب اللہ کے دین کا ماخذ ان کی ہی ذاتِ عالی ہے۔ قرآن میں ہے:
مَّا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَآ أَحَدٖ مِّن رِّجَالِكُمۡ وَلَٰكِن رَّسُولَ ٱللَّهِ وَخَاتَمَ ٱلنَّبِيِّـنَ وَكَانَ ٱللَّهُ بِكُلِّ شَيۡءٍ عَلِيمٗا (الاحزاب: ۴۰)
ترجمہ: (لوگو) محمدؐ تمہارے مَردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں ، مگر وہ اللہ کے رسول اور خاتم النبین ہیں ، اور اللہ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔
د: اس بات پر اعتقاد کہ سارے پیغمبروں نے اللہ کا پیغام بے کم و کاست ہم تک پہونچایا۔ نہ تو انہوں نے اللہ کے پیغام کا ایک حرف ہم سے چھپایا، اور نہ ہی اس میں کوئی تحریف کی، نہ اس میں اپنی طرف سے کوئی اضافہ کیا، اور نہ ہی اس میں کوئی کمی کی۔ قرآن میں ہے:
فَهَلۡ عَلَى ٱلرُّسُلِ إِلَّا ٱلۡبَلَٰغُ ٱلۡمُبِينُ (النحل: ۳۵)
ترجمہ : تو کیا رسُولوں پر صاف صاف بات پہنچا دینے کے سوا اور بھی کوئی ذمّہ داری ہے؟
۳: ایمان بالملائکہ یعنی فرشتوں پر ایمان
اس بات پر ایمان کہ فرشتے موجود ہیں۔ اللہ نے انہیں نور سے بنایا ہے۔ ان کے خاص نام ہیں۔ اللہ نے انہیں الگ الگ کاموں پر مامور کر رکھا ہے۔
۴۔ ایمان بالكتب
اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو انبیاء رسل کے علاوہ کتابیں بھی نازل کیں۔ تورات، زبور، انجیل اور قرآن ایسی ہی کتابیں ہیں۔ قرآن پچھلی ساری کتابوں کا ناسخ ہے اور ان میں سب میں افضل ہے۔ یہ ساری کتابیں خدائے وحدہ لاشریک کا کلام ہیں۔ قرآن کے علاوہ ساری پچھلی کتابیں تحریف کا شکار ہو گئیں، یعنی انسانوں نے ان کتابوں کو بدل دیا، ان کے بعض حصوں کو حذف کر دیا، ان میں اپنی طرف سے بعض اضافے کر دیئے اور ان کی آیتوں کے معنی کو بھی محفوظ نہیں رکھ پائے۔
ان ساری تحریفات سے اللہ کا آخری کلام یعنی قرآن کریم بالکل محفوظ ہے۔ آج ہمارے پاس جو قرآن کریم ہے یہ من و عن، حرف بہ حرف وہی ہے جو اللہ کے آخری رسول محمدؐ بن عبداللہ کے اوپر نازل ہوا تھا۔ اس کی آیتیں، الفاظ اور معانی سب محفوظ ہیں۔ یہ جس توتر کے ساتھ ہم تک پہونچا ہے کہ اس میں ادنیٰ درجے میں کسی شک کی گنجائش نہیں ہو سکتی۔
إِنَّا نَحۡنُ نَزَّلۡنَا ٱلذِّكۡرَ وَإِنَّا لَهُۥ لَحَٰفِظُونَ (الحجر : ۹)
ترجمہ: رہا یہ ذکر ، تو اِس کو ہم نے نازل کیا ہے اور ہم خود اِس کے نگہبان ہیں۔
۵۔ ایمان بالآخرت
ایمان بالآخرت کا مطلب ہے ایک ایسے دن کے آنے پر یقین رکھنا جب کہ اس دنیا کی بساط لپیٹ دی جائے گی۔ پھر سارے انسانوں سبھی اعمال کا حساب ہوگا اور ان کے اعمال کے مطابق اللہ تعالیٰ ہر ایک کے لیے جنت یا جہنم کا فیصلہ سنائے گا۔ وہ جنت یا جہنم ابدی ہوگی اور اس سے کسی کو فرار نہیں۔
آخرت پر ایمان میں خاص طور پر یہ چیزیں شامل ہے۔
الف: قیامت اس وقت برپا ہوگی جب اللہ کے ایک برگزیدہ فرشتے جن کا نام اسرافیل ہے صور پھونکیں گے، اور زمین و آسمان جتنی مخلوقات ہیں سب کی موت واقع ہو جائے گی۔ یہ وقت انسانوں پر اچانک آئے گا اور جب یہ وقت آئے گا تو لوگ حواس باختہ ہو کر اِدھر ادھر بھاگیں گے، لیکن بچنے یا چھپنے کی کوئی جگہ نہیں ہوگی۔
ب: اس کے بعد اللہ رب العزت سارے انسانوں کو ان کی قبروں سے اٹھائے گا اور حشر پرپا کریگا۔
ج: پھر اس کے بعد اللہ رب العزت سب کے اعمال کا سختی سے حساب لے گا اور جنت اور جہنم کا فیصلہ سنائے گا۔
۶۔ ایمان بالقضا و القدر
ایمان بالقضا و القدر میں خاص طور پر چار چیزیں شامل ہیں۔
الف: اللہ کے علمِ قدیم پر ایمان۔ یعنی اس بات پر ایمان کہ اللہ تعالیٰ کو اس بات کا علم ہے کہ مستقبل میں کس مخلوقات کے ساتھ کیا ہوگا۔
ب: اس بات پر ایمان کہ اللہ تعالیٰ نے ان ساری چیزوں کو لوحِ محفوظ میں لکھ رکھا ہے۔
ج: اس بات پر ایمان کہ اللہ اپنی مشیئت کو نافذ کرنے کی قوت رکھتا ہے اور اس کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈال سکتا، اور اس بات پر ایمان کہ وہ ہر کام کر کرنے کی قدرت رکھتا ہے۔
د: اس بات پر ایمان کہ اللہ نے سب کا خالق ہے، اور اللہ کے ما سوا جو کچھ ہے سب اللہ کی مخلوق ہے۔


