خاموشی اور بوریت کے فائدے

تمہید

آج کی دنیا مسلسل مصروفیت اور ہمہ وقت connectivity سے عبارت ہے، مگر اس کے ساتھ ایک واضح تضاد بھی جنم لے رہا ہے۔ انسان پہلے سے کہیں زیادہ فعال جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے مربوط ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ ذہنی دباؤ، اضطراب اور پیشہ ورانہ حرکت و عمل کی وجہ سے تکان کی شرح میں خطرناک حد تک اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ اس مسئلے کا حل زندگی کی رفتار کو مزید تیز کرنے میں نہیں، بلکہ ایک بظاہر غیر متوقع مگر حکمت آمیز طرز عمل میں ہے: یعنی خاموشی اور بظاہر بوریت کو شعوری طور پر اپنی زندگی میں شامل کرنا۔ مختلف علوم جیسے نیورو سائینس، ادراکی نفسیات، اور عُمرانیات سے حاصل کردہ شواہد کو یکجا کر کے ہم پُرسکون اور ساکت لمحوں کے فوائد کو آپ کے سامنے پیش کرنے کی کوشش کریں گے۔

شعوری سکون اور ارادی طور پر دنیاوی مصروفیات سے کٹ جانا کوئی غیر ضروری ذہنی عیاشی نہیں، بلکہ ذہنی بحالی، Creative Problem-Solving اور فلاح و سکون کے لیے بنیادی ضرورت ہے۔ جب انسان مروجہ ثقافتی تصور کو چیلینج کرتا ہے جو مسلسل مصروف رہنے کو کامیابی کی علامت سمجھتا ہے، تو وہ اپنی ذہنی صلاحیتوں کو دوبارہ حاصل کر کے زیادہ پر سکون اور حقیقی معنوں میں کامیاب زندگی کی طرف پیش قدمی کرنے کے قابل ہوتا ہے۔ خاموشی دماغ کو نہ صرف فعلی طور پر بلکہ ساختی طور پر بھی نئی شکل دیتی ہے، نیوروجینیسس (اعصابی خلیوں کی افزائش) کو بڑھاتی ہے اور جسمانی سطح پر دباؤ کو کم کرتی ہے۔ اسی طرح بوریت، جسے عموماً منفی کیفیت خیال کیا جاتا ہے، دراصل تخلیقی صلاحیتوں کی افزائش اور خودنوشت منصوبہ بندی کے لیے ایک طاقتور محرک ہے، جو مؤثر ہدف سازی اور خود آگہی کے لیے نہایت ضروری ہے۔ دماغی نظام کا ایک بنیادی فریم ورک ”ڈی ایم این“ (Default Mode Network) ایسے ساکت لمحات میں اندرونی غور و فکر اور تخلیقی بصیرت کا مرکزی محرک بنتا ہے۔ اس کے برعکس، موجودہ Hustle Culture کو ایک سماجی فریم ورک کے طور پر دیکھا جاتا ہے جو بظاہر فائدہ مند دکھائی دیتا ہے، لیکن یہ درحقیقت ذہنی تکان اور ناکامی کو جنم دیتا ہے، نہ کہ کمال کو۔ آخر میں ہم نے ایک علمی فریم ورک بھی پیش کیا ہے جو روز مرہ، ہفتہ وار اور مخصوص حالات کے لیے ایسی حکمت عملی فراہم کرتا ہے جنہیں اپنا کر فرد ان انقلابی فوائد سے حقیقی معنوں میں فائدہ اٹھا سکتا ہے۔

عصرِ حاضر کی الجھن: شور اور مصروفیت کی لَت


تیز گامی کا عروج

جدید معاشرتی منظر نامہ ایک ایسے ثقافتی دباؤ کے زیر اثر ہے جو ہر وقت مصروف رہنے کی توقع رکھتا ہے۔ اب مصروفیت محض ایک کیفیت نہیں رہی بلکہ اسے اعزاز کی وجہ اور سماج میں مرتبے کی علامت بنا دیا گیا ہے۔ اس رجحان کو Hustle Culture یا زہریلی پیداواری سوچ کہا جا سکتا ہے، جو کامیابی کی مسلسل دوڑ کو عظمت گردانتا ہے اور ہر وقت کام میں لگے رہنے کو ذاتی قدر و جدوجہد کا پیمانہ سمجھتا ہے۔ نمایاں شخصیات بھی اس کبھی نہ ختم ہونے والی جدوجہد کی کھلے عام وکالت کرتی ہیں، وہ یہ باور کرانے کی کوشش کرتے ہیں کہ ہر وقت بہت مصروف رہنا ہی زندگی میں کامیابی کی ضمانت ہے۔ یہ کلچر صرف دفتر یا کاروباری زندگی تک محدود نہیں رہتا بلکہ زندگی کے دوسرے شعبوں میں بھی سرایت کر جاتی ہے، جہاں ہر وقت مختلف سرگرمیوں میں الجھے رہنے کا دباؤ فرد کو اس طرح جکڑ لیتا ہے کہ فارغ وقت اور سکون کی گنجائش ہی نہیں رہ پاتی۔ 


ہمہ وقت جڑاؤ (Connectivity) کی نفسیات

یہ ثقافتی توقعات آج کی حد سے زیادہ جڑی ہوئی (Hypeconnected) تکنیکی دنیا میں مزید شدت اختیار کر چکی ہے۔ اسمارٹ فونز اور صارفین کے لیے بنائی جانے والی نت نئی خدمات کے مسلسل ارتقاء نے متوجہ رہ پانے کی مدت (Attention Span) کو مختصر کر دیا ہے اور ہر خالی لمحے کو کسی بیرونی مصروفیت سے پُر کرنے کی عادت ڈال دی ہے۔ اس نفسیاتی دباؤ میں ایک بڑی قوت FOMO، یعنی کسی چیز سے محروم رہ جانے کا خوف، ہے جو فرد کو مجبور کرتی ہے کہ وہ ہر وقت دوسروں کے تجربات اور سرگرمیوں سے باخبر اور جُڑا ہوا رہے۔ اسی کے ساتھ ساتھ ایک نہ ختم ہونے والی جدت پسندی کی خواہش بھی کار فرما ہے، جسے یوں بیان کیا جا سکتا ہے کہ جیسے ہی کوئی نئی چیز آزمائی جاتی ہے، اس سے بھی زیادہ نئی نئی چیز کی طلب پیدا ہونے لگتی ہے۔ ان عوامل کے باعث ایک ایسا نفسیاتی ماحول وجود میں آیا ہے جہاں حقیقی سکون یا بظاہر بوریت کو بے کاری یا ذاتی ناکامیابی سمجھا جاتا ہے، اور یوں انسان ہر وقت کسی نہ کسی نئی توجہ بھٹکانے والی چیز کی تلاش میں رہتا ہے۔


 مسلسل مصروفیت کی قیمت

مسلسل تحریکی دباؤ اور دائمی مصروفیت کے سنگین نتائج سامنے آتے ہیں، جنہیں نظر انداز نہیں کیا جانا چاہئے۔ یہ کیفیت براہ راست کئی منفی صحت کے مسائل سے جڑی ہے، جن میں دائمی ذہنی دباؤ، اضطراب اور ڈیپریشن جیسے نفسیاتی امراض کے امکانات میں اضافہ شامل ہے۔ حد سے زیادہ طویل کام کا ایک نمایاں اور ناگزیر نتیجہ burnout ہے، جو جذباتی، جسمانی اور ذہنی تھکن کی کیفیت ہے۔ Burnout کی علامات میں جسمانی مسائل جیسے بے خوابی اور تھکن، اور ذہنی رکاوٹیں جیسے تخلیقی صلاحیت میں کمی اور توجہ مرکوز کرنے میں دشواری شامل ہیں۔

مصروفیت کو سماجی سطح پر کامیابی کی علامت سمجھنے کا رجحان دراصل ایک بڑا تضاد اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ بظاہر ایک مصروف شخص دوسروں کی نظر میں قابل اور پرکشش دکھائی دیتا ہے، لیکن یہ تاثر اکثر اس کے اندرونی جذباتی دباؤ اور ذہنی پریشانیوں پر پردہ ڈال دیتا ہے۔ تحقیق سے معلوم ہاتا ہے کہ روز مرہ کی سطح پر مصروف دکھنے کے سماجی دباؤ کا براہ راست تعلق جذباتی صحت کی خرابی ہے، جو بڑھتی ہوئی منفی کیفیات، اضطراب، اور ڈپریشن جیسی علامات کو جنم دیتا ہے۔ یہ دباؤ صرف بیرونی نہیں رہتا بلکہ اندرونی عقیدے کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ ہر لمحے کو کسی نہ کسی کام میں لگا دینے کی یہ مجبوری دراصل بوریت کے احساس سے بچنے کا ایک نفسیاتی دفاعی طریقہ ہے، کیونکہ معاشرت جو پیداواری صلاحیت کو ہی سب کچھ سمجھتی ہے، اس نے ہمیں بوریت کو منفی کیفیت کے طور پر دیکھنے کا عادی بنا دیا ہے۔

ڈیجیٹل آلات کے ذریعے بوریت سے وقتی طور پر نجات حاصل کرنے کی یہ عادت ہمارے دماغ کو اس احساس سے نمٹنے کا ہنر سیکھنے نہیں دیتی۔ نتیجتاً ایک ایسا دائرہ تشکیل پاتا ہے جس میں جتنا کم ہم بوریت کا تجربہ کرتے ہیں، اتنا ہی کم ہمارا دماغ اسے سنبھالنے کے قابل رہتا ہے، اور یوں ہم مزید توجہ بٹانے والے ذرائع کی تلاش میں لگ جاتے ہیں۔ خاموشی اور سکون سے اجتماعی سطح پر دوری اور مصروفیت کی لت دراصل Self-destruction کی ایک شکل ہے، جو ہماری تخلیقی صلاحیت، پیچیدہ مسائل حل کرنے کی اہلیت اور مجموعی ذہنی مضبوطی کو دیمک کی طرح کھا رہی ہے۔ یہ صرف ایک فرد کا ذاتی مسئلہ نہیں بلکہ ایک وسیع عوامی صحت اور معاشی بحران ہے۔


خاموشی کی اعصابی نفسیات: دماغ کی از سرِ نو تشکیل برائے عافیت


جسمانی بحالی

خاموشی محض آواز کی غیر موجودگی کا نام نہیں بلکہ ایک خاص شعوری اور جسمانی کیفیت ہے جس کے واضح اور فوائد ہیں۔ یہ بحالی کا ایک مؤثر حیاتیاتی ذریعہ ہے جو براہ راست قلبی اور ہارمونیاتی نظام پر اثر انداز ہوتی ہے۔ ۲۰۰۶ کی ایک تحقیق میں، جس میں مختلف قسم کی موسیقی کے دباؤ کو کم کرنے والے اثرات کا مطالعہ کیا گیا، غیر متوقع طور پر یہ انکشاف ہوا کہ صرف دو منٹ کی خاموشی دل کی دھڑکن اور بلڈ پریشر کو کم کرنے میں ہلکے سے ہلکے موسیقی سے زیادہ مؤثر ثابت ہوئی۔ یہ اثر تناؤ کے ہارمون cortisol کی تخفیف سے براہ راست مربوط ہے، جو اگر طویل عرصے تک بلند سطح پر برقرار رہے تو وزن میں اضافہ، نیند کے مسائل اور دیگر دائمی امراض کا باعث بنتا ہے۔


ذہنی بہتری

محض جسمانی اثرات سے بڑھ کر، خاموشی ذہنی بہتری کا ایک نہایت اہم محرک ہے۔ جب دماغ شور کی بیرونی محرکات سے آزاد ہو جاتا ہے تو وہ موجودہ کام پر بہتر طور پر توجہ مرکوز کر پاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سخت دماغی محنت طلب کام، جیسے امتحانات، ہمیشہ پُرسکون اور خاموش ماحول  میں منعقد کیے جاتے ہیں۔ ۲۰۲۱ کی ایک تحقیق سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ وہ افراد جو خاموشی میں ارتکاز پر مبنی کام سر انجام دیتے ہیں، ان پر سب سے کم ذہنی دباؤ اور سب سے کم تناؤ طاری ہوتا ہے، جو اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ خاموش ماحول اور توجہ میں بہتری کے درمیان ایک براہ راست تعلق موجود ہے۔ خاموشی ذہنی وضاحت کے لیے ایک طاقتور وسیلہ ہے۔ یہ ان ”بے قابو خیالات“ کو سکون دیتی ہے جو اضطراب کی نمایاں علامات ہوتے ہیں۔ جب انسان اپنے ذہن کو ان کے پیچ در پیچ خیالات کے جال سے الگ کر لیتا ہے تو وہ ذہنی سکوت کی اس کیفیت تک پہونچتا ہے جو حاضر کے لمحے کی آگاہی اور ذہنی یکسوئی (mindfulness) کا دروازہ کھولتی ہے۔

 
عقلی نشونما

خاموشی کے تعلق سے سب سے بڑا اور قابل غور سائنسی انکشاف یہ ہے کہ یہ دماغ میں نئے خلیات کی پیدائش، یعنی نیوروجینیسس، کو فروغ دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ۲۰۱۳ میں کی گئی ایک دلچسپ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ جن چوہوں کو روزانہ دو گھنٹے خاموشی کے ماحول میں رکھا گیا، ان کے hippocampus (دماغ کا وہ حصہ جو یادداشت اور جذبات کے لیے نہایت اہم ہے) میں نئے خلیات کی افزائش ہوئی۔ مزید یہ کہ صرف ایک ہفتے کے اندر یہ نئے وجود میں آنے والے ابتدائی خلیے فعال عصبی خلیات (neurons) میں تبدیل ہو گئے، اور یہ تبدیلی صرف ان چوہوں میں دیکھی گئی جو خاموشی کے دور سے گزرے تھے۔ باوجودیکہ ان نتائج کو براہ راست انسانوں پر فی الحال لاگو نہیں کیا جا سکتا، تاہم یہ اس بات کا مضبوط اشارہ ہیں کہ خاموشی دماغ کی neuroplasticity، یعنی اس کی ڈھلنے اور بدلنے کی صلاحیت، کو فروغ دیتی ہے۔ یہ حقیقت واضح کرتی ہے کہ خاموشی کوئی ساکت کیفیت نہیں بلکہ ایک فعال اور بحالی بخش عمل ہے جو دماغ کو مزید لچکدار اور چست بناتا ہے۔

خاموشی کے فوائد ایک سلسلہ وار اثرات کی صورت میں سامنے آتے ہیں جن کی بنیاد نہایت گہری physiolgical حقیقتوں پر قائم ہے۔ قدیم دماغ شورِ مسلسل کو ایک ممکنہ خطرے کے طور پر محسوس کرتا ہے، جس کی نتیجے میں حیاتیاتی دباؤ کا رد عمل پیدا ہوتا ہے، دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی ہے، بلڈ پریشر بڑھ جاتا ہے اور تناؤ کے ہارمونیاتی نظام متحرک ہو جاتے ہیں۔ اس کے برعکس خاموشی ایک امان کا پیغام دیتی ہے اور اعصابی نظام کو از سر نو متوازن ہونے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ یہ جسمانی سکون ذہنی قوتوں کو آزاد کرتا ہے۔ جب ذہنی دباؤ اور بوجھ کم ہو جاتا ہے تو توجہ اور ارتکاز کے لیے زیادہ ذہنی گنجائش پیدا ہوتی ہے، جو دماغ کو مزید پیچیدہ اور بحالی بخش عمل، جیسے نیوروجینیسس اور نیوروپلاسٹیسٹی، میں مشغول ہونے کے قابل بناتی ہے۔ یوں پورا نظام خطرے کی کیفیت میں کمی سے فائدہ اٹھاتا ہے، جو اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ خاموشی دراصل ذہنی اور جسمانی صحت کی ایک بڑی اور فعال معاون ہے۔


بوریت کی قوت: تخلیقی صلاحیت اور مقصدیت کے در وا کرنے کا عمل


بوریت کا ارتقائی مقصد

بوریت نہ تو کوئی ناپسندیدہ کیفیت ہے اور نہ ہی ذاتی ناکامی کی علامت، بلکہ یہ ایک بنیادی انسانی جذبہ ہے جس کا ارتقائی نقطۂ نظر سے نہایت اہم مقصد ہے۔ نفسیاتی اور جذباتی حالت کے طور پر بوریت عموماً یکسانیت، تکرار یا کم تحریکی ماحول سے جنم لیتی ہے۔ یہ ایک پیمانے کی مانند ہے جو ہمیں ہمارے ماحول کے ساتھ ہم آہنگی یا عدم مطابقت کا احساس دلاتی ہے، اور تبدیلی کی ضرورت کا اشارہ دیتی ہے۔ بوریت انسان کو اپنے گرد و پیش کی ہر چیز سے مستقل طور پر محظوظ ہونے سے روکتی ہے، تاکہ وہ بامعنی اور بے معنی سرگرمیوں میں فرق کر سکے اور اپنی توجہ کو ضروری سمت میں منتقل کر سکے۔ جب کوئی فرد بور ہوتا تو یہ دراصل دماغ کی طرف سے ایک پیغام ہوتا ہے کہ موجودہ ماحول میں نئی تحریک یا محرکات کی تلاش کی جائے۔


اندرونی دنیا کی بیداری

جب کوئی انسان بوریت محسوس کرتا ہے تو دماغ بیرونی توجہ کے نیٹ ورک سے ہٹ کر اندرونی نظام کو فعال کرتا ہے، جس میں سب سے نمایاں ڈی ایم این (Default Mode Network) ہے۔ یہ نیٹ ورک محض دماغ کے غیر فعال ہونے کی حالت نہیں، بلکہ ایک نہایت ورگرم اعصابی نظام ہے جو اس وقت متحرک ہوتا ہے جب ذہن کسی بیرونی یا مشکل کام پر مرکوز نہ ہو۔ یہ نیٹ ورک دماغ کی پیشانی (prefrontal)، جداری (parietal) اور صدغی (temporal) حصوں پر مشتمل ہے، اور ”اندرونی غور و فکر“ کا کام انجام دیتا ہے، جس میں تخیل، ماضی و مسقبل پر غور و فکر اور خود احستسابی جیسی سرگرمیاں شامل ہیں۔ گویا کہ یہی دراصل ہماری انددرونی دنیا کا اعصابی انجن ہے۔


تخلیقی تحریک

بوریت براہ راست ڈیفالٹ موڈ نیٹ ورک (DMN) کو فعال کرنے کا ذریعہ ہے، اور یہی عمل تخلیقی سوچ کو جنم دیتا ہے۔ بوریت کا ناگوار نظر آنے والا احساس ایک ذہنی الارم کی مانند ہے جو فرد کو اپنی موجودہ حالت پر دوبارہ غور کرنے اور کسی زیادہ پرکشش یا با معنی سرگرمی کی تلاش پر آمادہ کرتا ہے۔ یہ ”نئی تحریک کی جستجو“ ذہن کو بیرونی توجہ سے ہٹا کر وسیع طرز فکر (diffuse mode thinking) میں لے جاتی ہے۔ اس حالت میں دماغ مختلف اور بظاہر غیر متعلقہ خیالات و تصورات کے درمیان تعلق قائم کرنے لگتا ہے، جو creative problem solving اور غیر روایتی سوچ کی اصل بنیاد ہے۔ متعدد تحقیقات نے اس تعلق کو واضح کیا ہے کہ جو لوگ تخلیقی کام سے پہلے یکسانیت سے پُر اور بورنگ سرگرمیوں میں مشغول ہوئے، انہوں نے بعد میں زیادہ اعلیٰ معیار کے تصوراتی خیالات پیدا کئے۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر لوگ اعتراف کرتے ہیں کہ ان کے بہترین خیالات نہانے یا برتن دھونے جیسے ہلکے پھلکے کاموں کے دوران آتے ہیں، کیوں کہ ان لمحات میں DMN سب سے زیادہ سرگرم ہوتا ہے۔


بوریت: ایک دو دھاری تلوار

یہ تسلیم کرنا ضروری ہے کہ Default Mode Network بلاشبہ ایک طاقتور ذریعہ ہے، مگر یہ دو دھاری تلوات کی مانند ہے۔ ایک جانب یہ قیمتی تخلیقی بصیرت اور خود نوشت منصوبہ بندی (یعنی زندگی کے اہداف اور مستقبل کے منصوبہ بندی پر غور و فکر) کو جنم دیتا ہے، تو دوسری جانب یہ منفی سوچ اور رنجیدہ کر دینے والے خیالات خیالات کا باعث بھی بن سکتا ہے۔ جب ذہن کے سامنے کوئی واضح بیروبی ارتکاز نہ ہو تو DMN ماضی کی غلطیوں پر بار بار غور کرنے یا مستقبل کی کار کردگی کے بارے میں بے جا فکر اور اضطراب پیدا کرنے کا باعث بنتا ہے۔ یہی کمزوری اس بات کو واضح کرتی ہے کہ بوریت کو صرف قبول کرنا کافی نہیں ہے، بلکہ اپنی اندرونی سوچ کو مثبت اور تعمیری سمت میں رہنمائی فراہم کرنا بھی ضروری ہے، اور یہ مہارت عموماً mindfulness جیسے عمل سے پروان چڑھتا ہے۔

بوریت کے وقت جو بے چینی ہم محسوس کرتے ہیں، دراصل ایک نفسیاتی میکانزم ہے جو دماغ کو اس تلاش پر ابھارتا ہے کہ کوئی ایسی تحریک یا محرک ملے جو اس ماحول میں موجود نہیں ہے۔ یہی تلاش توجہ کو بیرونی محرکات سے ہٹا کر اندرونی غور و فکر کی جانب مبذول کرتی ہے، جس سے DMN متحرک ہو جاتا ہے۔ DMN کی یہ سرگرمی تخلیقی صلاحیت، مسئلہ حل کرنے کی اہلیت اور خود سوانحی منصوبہ بندی جیسے ذہنی عمل کے لیے بنیاد فراہم کرتی ہے۔ بوریت کی یہ نفسیاتی  تکلیف دراصل نئی سوچ اور نئے خیالات کو جنم دینے والی محرک قوت ہے۔

مگر آج کی دنیا میں جہاں اسکرین لمحوں میں تحریک کی یہ بھوک مٹا دیتی ہے، ہم اس اہم ارتقائی عمل کو نظر انداز کر رہے ہیں۔ بار بار یہ خود ساختہ مصروفیات ہمارے ان ذہنی عضلات کو کمزور کر رہی ہیں، یعنی DMN کی فعالیت اور وسعتِ فکری کی صلاحیت، جو طویل مدتی کامیابی، جدت اور خود آگہی کے لیے ناگزیر ہیں۔ الیکٹرانک آلات کا بے تحاشہ استعمال شاید اجتماعی طور پر ہماری جدتِ فکر اور مشکل مسائل حل کرنے کرنے کی صلاحیت میں زوال کا باعث بن رہا ہے۔

لائحۂ عمل: حکمت آمیز سکون اور شعوری لا تعلقی

خاموشی اور بوریت سے حقیقی معنوں میں فائدہ اٹھانے کے لیے صرف اتنا سمجھ لینا کافی نہیں، بلکہ ان تصورات کو شعوری طور اپنی روز مرہ کی زندگی میں برتنے کی عملی مشق بھی ضروری ہے۔ اس لیے لازمی ہے کہ ہم مستقل شور شرابے کے اصل منبع کا سامنا کریں اور وقت کے استعمال کو نئے زاوئے سے سوچ کر بامقصد انداز میں ترتیب دیں۔


ڈیجیٹل ڈیٹاکس کا فن

ڈیجیٹل ڈیٹاکس کا مطلب ٹیکنالوجی سے مکمل دوری نہیں ہے، کیونکہ یہ اکثر لوگوں کے لیے عملی طور پر ممکن ہی نہیں ہوتا۔ اس کا اصل مقصد حقیقت پسندانہ حدود قائم کرنا اور ان پر عمل درآمد کرنا ہے۔ یہ دراصل ایک حکمت عملی پر مبنی کوشش ہے تاکہ انسان اپنی توجہ اور وقت پر دوبارہ کنٹرول کر سکے۔ اس کے لیے چند عملی طریقے درج ذیل ہیں:

(۱) چھوٹے قدم سے آغاز کریں: روزانہ صرف پندرہ منٹ کے مختصر اور قابل حصول وقفے کے ساتھ ڈیجیٹل ذرائع سے لا تعلقی شروع کریں، پھر بتدریج اس دورانیے کو بڑھاتے جائیں۔ اس طرح رفتہ رفتہ آپ نصف دن یا پورے دن کو بھی ڈیجیٹل میڈیا سے آزاد ہو کر گزارنے کے قابل ہو جائیں گے۔

 (۲) نوٹیفیکیشن بند کریں: ای میلز، میسیجز، اور سوشل میڈیا کی مسلسل آنے والی نوٹیفیکیشن ایک ایسا ماحول پیدا کرتی ہیں جس میں ہم ہمیشہ دباؤ اور فوری جواب دینے کے تقاضے میں مبتلا رہتے ہیں۔ انہیں بند کرنے سے نہ صرف بار بار کی مداخلت کم ہوتی ہے بلکہ زیادہ کنٹرول اور سکون کا احساس بھی ہوتا ہے۔

 (۳) ٹیک فری مقامات یا اوقات بنائیں: دن کے کچھ حصوں کو، یا گھر کے کچھ حصوں کو ٹیک فری (Tech-Free) قرار دے دیں۔ مثلاً کھانے کے اوقات، سونے سے پہلے کا وقت، یا گھر کا کوئی حصہ ٹیک فری قرار دیے جا سکتے ہیں۔ اسی طرح سوتے وقت موبائل فون کو دوسرے کمرے میں رکھ دینا ایک نہایت مؤثر طریقہ ہے تاکہ بار بار چیک کرنے کی عادت سے چھٹکارا حاصل ہو۔

(۴) فون کے بغیر صبح کریں: دن کا آغاز روایتی الارم گھڑی سے کریں اور جاگنے کے بعد تیس منٹ تک فون استعمال کرنے سے گریز کریں۔ یہ دن کو پُرسکون انداز میں شروع کرنے میں مدد دیتا ہے۔ اس دوران آپ ہلکی پھلکی ورزش کر سکتے ہیں، یا مطالعہ کر سکتے ہیں۔


اپنے ذاتی سکون کا ضابطہ تیار کریں

حکمت عملی کے ساتھ فارغ وقت گزارنا ایک ایسی مہارت ہے جسے شعوری طور پر مشق کے ذریعے اپنانا اور معمولات زندگی میں شامل کرنا ضروری ہے۔ اسے دماغ کے لیے ایک تربیتی پروگرام کے طور پر دیکھنا چاہئے، جو اسے بیرونی محرکات کی غیر موجودگی میں بھی پر سکون رہنے کا عادی بناتا ہے۔

  • خاموشی کے لیے وقت مقرر کریں: خاموشی کو اپنی زندگی میں ایک نہایت اہم اور لازمی میٹنگ کی طرح اہمیت دیں اور اسے اپنے کیلینڈر میں واضح طور پر درج کریں۔ صبح کے وقت صرف دس سے پندرہ منٹ کا مختصر وقفہ بھی دن کے آغاز کو پرسکون بنا سکتا ہے اور آنے والے دن کے لیے ذہنی قوت اور قوت برداشت میں اضافہ کا سبب بن سکتا ہے۔
  • ذہنی سکون کے وقفے اختیار کریں: دن کے معمولات میں ”مقدس ٹھہراؤ“ یا مراقبے شامل کریں۔ Mindfullness کے ساتھ نمازوں کی ادائگی اس ضرورت کو پورا کر سکتا ہے۔ یہ اتنا سادہ بھی ہو سکتا ہے کہ آپ سکون کےساتھ بیٹھ کر چند گہری سانسیں لیں۔ اسی طرح انتظار اور خالی لمحات کو آرام اور غور و فکر کے مواقع میں بدلا جا سکتا ہے۔
  • ہلکے پھلکے کام کریں: دانستہ طور پر ایسے کاموں کے لیے وقت نکالیں جن میں زیادہ ذہنی محنت کی ضرورت نہ ہو، جیسے کپڑے دھونا، ٹہلنا، یا روز مرہ کے گھریلو کام۔ اس طرح کا ماحول DMN کو فعال کرتا ہے، جو تخلیقی سوچ پیدا کرنے میں مدد کرتا ہے۔ 

صرف Unplug یا ’وقفہ لیتے ہیں‘ کہہ دینا اکثر کافی نہیں ہوتا۔ کیوں کہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ دماغ کو بوریت یا سکون کی کیفیت برداشت کرنے کی تربیت نہیں ملی ہوتی ہے، جس کی وجہ سے انسان فوراً دوبارہ کسی توجہ بٹانے والے عمل کی طرف لوٹ جاتا ہے۔ اس مشق کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ ان عادات کو دماغی تربیت کے طور پر اپنایا جائے۔ بار بار حدود مقرر کرنا، ’ڈیجیٹل روزہ‘ رکھنا، اور ابتدا میں پیدا ہونے والی بے چینی کو برداشت کرنا وہ عوامل ہیں جو آزاد سوچ اور Creative Problem-Solving کے لیے ضروری عصبی طریقوں کو مضبوط کرتے ہیں۔ ”مصروف“ نہ ہونے کی وجہ سے جو احساس جرم یا دباؤ پیدا ہوتا ہے، اسے شعوری طور پر کنٹرول کرنا ضروری ہے۔ ہمیں یہ سوچنا چاہئے کہ مصروف نہ رہنا ذہنی اور جسمانی سطح پر کتنا فائدہ مند ہے۔ 


کامیابی کا نیا پیمانہ

مذکوورہ بالا تصریح اس رائج سماجی تصور کو چیلینج کرتی ہے جو کامیابی کو دائمی مصروفیت کا براہ راست نتیجہ سمجھتا ہے۔ پیش کردہ شواہد واضح کرتے ہیں کہ ایک پائیدار، گہری اور پرسکون کامیابی اس وقت حاصل ہوتی ہے جب انسان یکسوئی کے ساتھ کام اور شعوری طور پر اختیار کردہ آرام کے درمیان متوازن رشتہ قائم کرتا ہے۔ خاموشی اور بوریت کوئی خلا یا مسئلہ نہیں جنہیں پر کیا جائے یا حل کیا جائے، بلکہ یہ دراصل زرخیز زمین ہے جہاں حقیقی نشونما، تخلیقی بصیرت اور خود آگاہی کا اضافہ ممکن ہوتا ہے۔

یہ تجزیہ بالآخر کامیابی کی از سر نو تعریف کی دعوت دیتا ہے۔ حقیقی کامیابی کو نہ تو کاموں کی طویل فہرست سے ناپا جانا چاہئے اور نہ ہی طویل اوقاتِ کار سے، بلکہ اسے خیالات کے معیار، بصیرت اور قلبی سکون کی سطح پر پرکھا جانا چاہئے۔ اس کے لیے ایک بنیادی ثقافتی تبدیلی درکار ہے، ایک ایسی سوچ جو محض مصروفیت کے بجائے شعوری اور بامقصد طرز عمل پر مبنی ہو۔ وقت کو ایک ایسی شئ سمجھنے کے بجائے جسے صرف بھرنا ہے، اسے ایک محدود سرمایہ مانا جانا چاہئے جسے با معنی مشغولیت اور تعمیری غور و فکر کے لیے سنبھال کر استعمال کیا جائے۔ ان دونوں نقطہ ہائے نظر کا فرق نہایت گہرا اور فیصلہ کن ہے۔

دائمی مصروفیت اور تکان کا یہ سائیکل ایک نقصاندہ دائرہ ہے جو سماج کے دباؤ اور FOMO (کچھ کھو دینے کا خوف) کی وجہ سے جنم لیتا ہے۔ یہ سائیکل انسان کو ایک قسم کے دائمی تناؤ اور ذہنی بوجھ تلے رکھتا ہے جو بالآخر تکان کی وجہ سے تخلیقی صلاحیتوں میں کمی، توجہ کے دورانیہ کا اختصار، احساس مغلوبی پر منتج ہوتا ہے۔

اس کے بالکل برعکس، ”سکون اور کامیابی کا سائیکل“ ایک مثبت اور خود کو مضبوط کرنے والا دائرہ ہے جو شعوری ارادے اور خود آگاہی سے پروان چڑھتا ہے۔ یہ اس وقت شروع ہوتا ہے جب انسان اپنی زندگی میں حکمت عملی کے ساتھ خاموشی اور بوریت کو جگہ دیتا ہے، جو جسمانی دباؤ اور ذہنی بوجھ کو کم کر دیتی ہے۔ اس طرح دماغ کے لیے وہ ضروری فضا تیار ہوتی ہے جس میں ڈیفالٹ موڈ نیٹورک فعال ہوتا ہے، جو تخلیقی بصیرت، مسئلہ حل کرنے کی بہتر صلاحیت اور واضح اہداف طے کرنے کا محرک ہے۔ نتیجتاً زندگی زیادہ پرسکون، با مقصد اور حقیقی کامیابی سے لبریز ہو جاتی ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اصل کامیابی شور شرابے اور حد سے زیادہ connectivity والی مصروف دنیا میں نہیں، بلکہ ان خاموش وقفوں میں پوشیدہ ہے جو اس درمیان میسر آتے ہیں۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے