قرآن کریم وہ جامع الہامی رہنمائی ہے جو انسان کے تزکیۂ نفس، یعنی باطنی پاکیزگی اور روحانی ارتقاء کا مکمل نظام فراہم کرتا ہے۔ شخصیت کی ارتقاء کا یہ قرآنی فریم ورک انسان کی خود آگہی اور اصلاحِ نفس کے ایک شاندار اور منظم سفر کی تصویر پیش کرتا ہے، جس میں انسان اپنے پست جذبات اور نفسانی خوہشات سے بلند ہو کر اس مقام تک پہنچتا ہے جہاں اس کا نفس سکونِ قلب اور رضائے الٰہی کو حاصل کرلیتا ہے۔
اس روحانی سفر کا اعلیٰ ترین مقصد ایک ایسی شخصیت کی تشکیل ہے جو اپنی روحانی صلاحیتوں کو کمال تک پہنچائے، یہاں تک کہ وہ اس مقام پر فائز ہو جائے جسے قرآن نے ”رَاضِیةً مَرضِیةً“ (الفجر: ۲۸) کہا ہے۔ یہی انسانی ارتقاء کی معراج ہے۔
۱۔ قرآن کا تصورِ نفس
شخصیت کی اصلاح اور تزکیۂ کے قرآنی نظام کی بنیاد ”نفس“ کے تصور پر قائم ہے، جس کی حقیقت اور اس کے محرکات کی تفہیم ضروری ہے۔ یہ خود شناسی اور باطنی سفر ارتقاء کا پہلا زینہ ہے۔
نفس: شعور اور اختیار کا مرکز
قرآن کریم میں نفس کا لفظ انسان کے باطنی وجود، شعور، روح یا اندرونی خودی کے لیے استعمال ہوا ہے، یعنی وہ مرکز جہاں انسان کی آگہی، خواہشات، جذبات اور اخلاقی شعور یکجا ہوتے ہیں۔ یہ دراصل انسان کی ہستی کا جوہر ہے، وہ عقلی و شعوری ذات جو اس کی انفرادیت اور شناخت کو تشکیل دیتی ہے۔
قرآن، نفس کو فطری طور پر گناہ گار نہیں بلکہ ایک متحرک اور قابلِ تربیت قوت کے طور پر پیش کرتا ہے، جسے سنوارنا، تربیت دینا اور نظم و ضبط میں لانا ضروری ہے۔ اس کی تعمیر و تزکیہ کی ذمہ داری خود انسان پر ڈالی گئی ہے، کیونکہ اللہ نے اسے اختیار اور عقل عطا کی ہے، یہی دو صلاحیتیں اسے جوابدہی کے قابل بناتی ہیں۔
قرآن کریم نے اس اصول کی ان الفاظ میں بیان کیا ہے:
یٰاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا عَلَیۡکُمۡ اَنۡفُسَکُمۡ (سورة المائدہ: ۱۰۵)
ترجمہ: ”اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اپنی فکر کرو۔“
یہ آیت اس بات کو واضح کرتی ہے کہ نفس کی اصلاح اور تزکیہ کی ذمہ داری ہر شخص کو سونپی گئی ہے۔ یہی تصور اس روحانی سفر کی بنیاد ہے۔
نفس کی سہ جہتی ساخت: ایک متحرک نظام
قرآن مجید میں نفس کی تصویر ایک متحرک اور تدریجی نفسیاتی و روحانی نظام کے طور پر پیش کی گئی ہے۔ یہ انسان کی شخصیت کو ایک تعمیری منصوبہ کے طور پر دیکھتا ہے، جسے قرآن نے تزکیہ کا عمل کہا ہے۔ اس کا ایک واضح ارتقائی راستہ ہے۔
قرآن اس ارتقائی سفر کو تین بنیادی مدارجِ نفس کے ذریعے بیان کرتا ہے، یہ دراصل انسانی شخصیت کی بلوغت اور روحانی پختگی کے مختلف مراحل ہیں۔
۱۔ النفس الامارة: خواہشات کی غلامی
یہ نفس کی سب سے نچلی اور ابتدائی حالت ہے، جہاں انسان کی شخصیت نفسانی خواہشات، فوری لذت، اور بے لگام جذبات کے تابع ہو جاتی ہے۔ قرآن کریم میں اس کیفیت کا ذکر حضرت یوسف کے قول سے ہوتا ہے: ”إِنَّ النَّفْسَ لَأَمَّارَةٌ بِالسُّوءِ“، یعنی ”نفس تو برائی پر اکساتا ہی ہے۔“ (سورة یوسف: ۵۳)
یہ وہ درجہ ہے جہاں انسان کے اعمال اور فیصلے تکبر (غرور)، طمع (لالچ)، حسد (جلن)، شہوت (خواہش نفس) اور کینہ (بدنیتی) جیسے منفی اوصاف کے زیر اثر ہوتے ہیں۔ اس کیفیت میں انسان اخلاق اور عدل کے بجائے دنیاوی لذتوں کا اسیر بن جاتا ہے، اور انا پرستی، خود غرضی اور سرکشی اس کی فطرت پر حاوی ہو جاتی ہے۔
بعض علماء نے اس درجے کی مزید دو صورتیں بیان کی ہیں:
نفس حیوانیہ: جو محض حسی خواہشات اور جسمانی لذتوں کی زیر اثر ہوتا ہے۔
نفس ابلیسیہ: جو انتہائی تکبر اور سرکشی میں مبتلا ہو کر اپنے آپ کو خدائی کے درجہ تک بلند کرنے کی جسارت کرتا ہے۔
اس طرح نفس امارہ انسانی ذات کا وہ پہلو ہے جو اگر قابو میں نہ آئے تو انسان کو اس کی بلند روحانی منزل سے گرا کر خوہشات نفس کا اسیر بنا کر رکھ دیتا ہے۔
۲۔ النفس اللوامة: بیدار ضمیر کی نمود
یہ نفس کا درمیانی اور نہایت اہم مرحلہ ہے، جہاں انسان کا اخلاقی ضمیر بیدار ہوتا ہے، اور یہی دراصل خود شناسی کے سفر کا نقطۂ آغاز ہے۔ قرآن کریم اس کو ایک الٰہی قسم کے ذریعے بیان کرتا ہے: ”ولا أُقْسِمُ بِالنَّفْسِ اللَّوَّامَةِ“ یعنی ”اور نہیں، میں قسم کھاتا ہوں ملامت کرنے والے نفس کی“ (سورة القیامة: ۲) نفس لوّامہ انسان کے اندر موجود تنقیدی شعور کی طرح عمل کرتا ہے اور توبہ و اصلاح کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں انسان کے اندر ایک داخلی کشمکش جنم لیتی ہے۔ ایک طرف پست خواہشات کی کشش، اور دوسری جانب نیکی، اطاعت اور پاکیزگی کی تمنا۔ انسان کبھی خطا کرتا ہے، کبھی رجوع کرتا ہے؛ مگر یہی جدوجہد اس کے اندر روحانی بیداری کی علامت ہے۔
اس طرح نفس لوامہ دراصل نجات اور تزکیہ نفس کی راہ میں پہلا شعوری قدم ہے، یعنی وہ مرحلہ جہاں انسان اپنے باطن کی اصلاح کے لیے اپنے آپ سے سوال کرنا اور اپنے اعمال کا محاسبہ کرنا سیکھتا ہے۔
۳۔ النفس المطمئنّة: سکون و رضا کی منزل
یہ نفس کا اعلی ترین درجہ اور روحانی سفر کا منتہائے مقصود ہے، یعنی وہ مقام جہاں انسان کا باطن گہرے سکون، اطمینان اور قلبی رضا سے معمور ہو جاتا ہے۔ یہ وہ روح ہے جو اپنے رب سے مضبوط تعلق کے باعث کامل سکینت اور روحانی توازن حاصل کر چکی ہوتی ہے۔
قرآن کریم میں اس مقامِ رضا پر اللہ تعالیٰ براہ راست مخاطب فرما کر کہتا ہے: ”يَا أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ * ارْجِعِي إِلَى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَرْضِيَّةً * فَادْخُلِي فِي عِبَادِي * وَادْخُلِي جَنَّتِي“۔ یعنی ”اے نفس مطمئن، چل اپنے رب کی طرف اس حال میں کہ تو (اپنے انجامِ نیک سے) خوش (اور اپنے رب کے نزدیک) پسندیدہ ہے۔ شامل ہو جا میرے (نیک) بندوں میں اور داخل ہو جا میری جنت میں۔“ (سورة الفجر: ۲۷ تا ۳۰)
یہ وہ نفس ہے جس نے اپنی خوہشات، تکبر، حرص، اور اقتدار کی خوہش پر قابو پا لیا۔ مجاہدے اور ضبط نفس کے نتیجے میں یہ نفس مطمئنّہ ایثار، عاجزی اور بے غرضی کا پیکر بن جاتا ہے۔ اس کی زندگی کا محرک اب اللہ کی رضا کے سوا کچھ نہیں رہتا۔ گویا کہ اس کی مرضی اللہ کی مرضی میں پوری طرح ڈھل چکی ہوتی ہے۔
اس طرح نفس مطمئنہ انسانی وجود کی وہ آخری منزل ہے جہاں روح کو اپنے اصل مرکز، یعنی اللہ کی رضا، سے کامل اتصال نصیب ہوتا ہے۔
۲۔ تفکر و تدبر: آگہی کا ذریعہ
قرآن کریم کا تزکیۂ نفس کا طریقہ ایک عقلی و روحانی عمل ہے، جو کائنات اور وحی، دونوں کے ساتھ فکری تعلق سے شروع ہوتا ہے، اور اسی سے قائم رہتا ہے۔ یہ ایک شعوری سفر ہے جو تفکر، تدبر اور مشاہدے کے ذریعے انسان کے باطن میں ایک بیداری پیدا کرتا ہے۔ قرآن کریم شعور کے اس جوہر کو طاقت دینے کے لیے مخصوص عقلی و فکری آلہ تجویز کرتا ہے، جن کے ذریعے انسان اپنے نفس کی اصلاح، اپنی حقیقت کی معرفت، اور اپنے رب سے قرب کا راستہ پاتا ہے۔
تفکر: کائنات میں اللہ کی آیات کے ادراک کا فن
تفکر دراصل ایک شعوری اور ارادی عمل ہے، جس میں انسان اللہ کی نشانیوں پر غور کرتا ہے، یعنی آسمان و زمین کی وسعتوں پر، رات اور دن کی گردش پر، اور حیات کی دقیق ساخت پر۔ قرآن مجید بار بار انسان کو اسی غور و فکر کی دعوت دیتا ہے۔ مثلاً: اِنَّ فِی اخْتِلَافِ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ مَا خَلَقَ اللّٰهُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَّقُوْنَ (سورة یونس: ۶)۔ یعنی ”یقیناً رات اور دن کے الٹ پھیر میں اور ہر اس چیز میں جو اللہ نے زمین اور آسمانوں میں پیدا کی ہے، نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو (غلط بینی وغلط روی سے) بچنا چاہتے ہیں۔“
آفاق و انفس پر تفکر کا ایک نفسیاتی اثر یہ ہوتا ہے کہ انسان خود پرستی کے بجائے خدا پرستی کا خوگر بن جاتا ہے۔ یہ عمل انسان کے اندر خالق کے تعلق سے عظمت کا احساس اور اپنے نفس کے تعلق سے عاجزی کا احساس پیدا کرتا ہے، جو کہ نفسِ امارہ کے تکبر کا بہترین علاج ہے۔
اس طرح آفاق و انفس پر تفکر ایک ایسی عقلی مشق ہے جو انسان کے لیے روحانی انکشاف کا ذریعہ بنتا ہے؛ یہ انسان کو مخلوق سے خالق کی طرف لے جاتا ہے، اور عالَم کی معرفت کو خدا کی معرفت میں بدل دیتا ہے۔
تدبر: کلامِ الٰہی سے قلبی تعلق
جس طرح تفکر کائنات کی نشانیوں پر غور کرنے کا عمل ہے، اسی طرح تدبر قرآنِ کریم کی آیات پر غور و خوض کرنے کا عمل ہے۔ یہ اللہ کے کلام سے عقلی و قلبی وابستگی کا نام ہے۔ قرآن کریم اس کی دعوت ان الفاظ میں دیتا ہے: كِتَٰبٌ أَنزَلۡنَٰهُ إِلَيۡكَ مُبَٰرَكٞ لِّيَدَّبَّرُوٓاْ ءَايَٰتِهِۦ وَلِيَتَذَكَّرَ أُوْلُواْ ٱلۡأَلۡبَٰبِ (سورة ص: ۲۹) یعنی ”یہ ایک بڑی برکت والی کتاب ہے جو (اے محمدؐ) ہم نے تمھاری طرف نازل کی ہے تاکہ یہ لوگ اس کی آیات پر غور کریں اور عقل و فکر رکھنے والے اس سے سبق لیں۔“
تدبر نفس کے لیے ایک آئنہ کی مانند ہے جس میں انسان اپنے باطن کی کیفیات کا مشاہدہ کر سکتا ہے، اپنے روحانی امراض کی پہچان کر سکتا ہے، اور انہی آیات الٰہی سے ان امراض کا علاج بھی معلوم کر سکتا ہے۔
اس طرح تدبر کے ذریعہ نفس قرآن کے ساتھ ایک زندہ تعلق قائم کرتا ہے، جو انسان کے علم کو بصیرت میں، اور اس کی تلاوت کو تزکیہ و اصلاح نفس کے عملی سفر میں بدل دیتا ہے۔
خود احتسابی: تدبر و تفکر کا عملی مظہر
آفاق و انفس پر تفکر اور آیات قرآنی پر تدبر سے حاصل ہونے والی بصیرتیں تب ہی اپنا عملی تاثر چھوڑتی ہیں جب کہ وہ خود احتسابی کے ذریعے عمل میں ڈھل جاتی ہیں۔ محاسبہ نفس یا خود احتسابی یہ ہے کہ انسان اپنے خیالات، ارادوں اور اعمال کا باریک بینی سے جائزہ لے، اس سے پہلے کہ اللہ تعالیٰ کے حضور اس کا حساب لیا جائے۔ قرآن کریم اس اصول کو ان الفاظ میں بیان کرتا ہے:
يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ ٱتَّقُواْ ٱللَّهَ وَلۡتَنظُرۡ نَفۡسٞ مَّا قَدَّمَتۡ لِغدٍ (سورة الحشر: ۱۸) یعنی ”اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اللہ سے ڈرو، اور ہر شخص یہ دیکھے کہ اس نے کل کے لیے کیا سامان کیا ہے۔“
گویا کہ خود احتسابی نفس لوامہ کی قوت محرکہ ہے، وہ داخلی نظام جو انسان کو اپنے اعمال پر غور و فکر کرنے، اپنی خطاؤں اور خامیوں پر نادم ہونے، اور اصلاح کی طرف متوجہ ہونے پر آمادہ کرتا ہے۔ امام غزالیؒ نے اس عمل کی گیرائی کو یوں بیان کیا ہے: ”فکر سے حاصل ہونے والا علم دل میں داخل ہوتا ہے، اس سے دل کی کیفیت میں تبدیلی ہوتی ہے، اور پھر یہ اعمال میں تبدیلی پیدا کرتا ہے۔“
اس طرح ہم دیکھتے ہیں کہ فکر تمام نیکیوں کی کنجی ہے، اور محاسبہ وہ راستہ ہے جس سے یہ فکر کردار اور عمل میں متشکل ہوتا ہے۔
۳۔ اعلی کردار کی تعمیر: قرآنی اخلاقیات کے ستون
تزکیۂ نفس کا اصل پیمانہ اعلیٰ اخلاق و کردار کی عملی تشکیل ہے جو انسان کی شخصیت کو سنوارتا ہے۔ قرآنِ کریم ایک پاکیزہ اور متوازن انسانی شخصیت کی تعمیر کے لیے ایسے اخلاقی اوصاف بیان کرتا ہے جو ایک مہذب، صالح اور مضبوط شخصیت کی بنیاد بنتے ہیں۔
صبر و شکر:
صبر محض برداشت اور خاموشی جیسی سلبی کیفیات کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک اثباتی اور فعال روحانی کیفیت ہے۔ تغیر پذیر حالات میں ثبات، مشکل حالات میں حوصلہ مندی اور مخالفتوں کے درمیان ثابت قدمی، اللہ کے احکام پر استقامت کے ساتھ عمل پیرا رہنا، یہ سب صبر کے مظہر ہیں۔
اس کے مقابلے میں شکر اللہ کی نعمتوں کے سلسلے میں شعوری بیداری کا نام ہے۔ اس میں اللہ کی نعمتوں کی پہچان، ان پر خوشی کا احساس، اور انہیں خیر کے لیے استعمال کرنا شامل ہیں۔ قرآن میں ہے:
لَئِن شَكَرۡتُمۡ لَأَزِيدَنَّكُمۡ (سورة ابراہیم: ۷) یعنی ”اگر شکرگزار بنو گے تو میں تم کو اور زیادہ نوازوں گا۔“
اس طرح صبر انسان کو داخلی طور پر مضبوط بناتا ہے، اور شکر اس کے دل میں اطمینان اور مثبت سوچ کو پروان چڑھاتا ہے، اور دونوں مل کر ایک متوازن اور پُر سکون شخصیت کی بنیاد بنتے ہیں۔
تواضع بمقابلہ کِبر:
قرآن کریم کے مطابق کبر یا تکبر انسان کی شخصیت کا سب سے بڑا مرض ہے۔ اس کی نمایاں ترین مثال ابلیس کی سرکشی ہے۔ اس کے غرور نے اسے اللہ کے حکم کے مقابل لا کھڑا کیا۔ اس مہلک مرض کا علاج انکساری ہے، جو اس وقت پیدا ہوتی ہے جب انسان اپنی کمزوری اور اللہ پر مکمل انحصاری کا ادراک کر لیتا ہے۔
قرآن کریم نے اہل تواضع کی تعریف بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے:
وَعِبَادُ ٱلرَّحۡمَٰنِ ٱلَّذِينَ يَمۡشُونَ عَلَى ٱلۡأَرۡضِ هَوۡنٗا (سورة الفرقان: ۶۳) یعنی ”رحمٰن کے (اصلی) بندے وہ ہیں جو زمین پر نرم چال چلتے ہیں“۔
تکبر انسان کو اپنے رب سے دور کرتا ہے اور تواضع انسان کو اپنے رب کے قریب کرتی ہے اور اس طرح بندگی کے حقیقی شعور تک پہنچاتی ہے، اور یہی روحانی ارتقاء کی بنیاد ہے۔
عدل و انصاف اور رحمت
نفس کی پاکیزگی کے ثمرات انسان کے اعمال اور سماجی رویوں میں ظاہر ہوتے ہیں۔ قرآن کریم میں عدل و انصاف کو غیر مشروط حکم الٰہی کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ یہ ایک ایسا اصول ہے جسے ہر حال میں، یہاں تک کہ دشمنی کی حالت میں بھی قائم رکھنا ضروری ہے۔ چنانچہ ارشاد خداوندی ہے:
يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ كُونُواْ قَوَّٰمِينَ لِلَّهِ شُهَدَآءَ بِٱلۡقِسۡطِ وَلَا يَجۡرِمَنَّكُمۡ شَنَـَٔانُ قَوۡمٍ عَلَىٰٓ أَلَّا تَعۡدِلُواْ ٱعۡدِلُواْ هُوَ أَقۡرَبُ لِلتَّقۡوَىٰ وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَ إِنَّ ٱللَّهَ خَبِيرُ بِمَا تَعۡمَلُونَ. (سورة المائدہ: ۸)یعنی ”اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ کی خاطر راستی پر قائم رہنے والے اور انصاف کی گواہی دینے والے بنو۔ کسی گروہ کی دشمنی تم کو اتنا مشتعل نہ کر دے کہ انصاف سے پھر جاؤ۔ عدل کرو، یہ خدا ترسی سے زیادہ مناسبت رکھتا ہے۔ اللہ سے ڈر کر کام کرتے رہو، جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے پوری طرح با خبر ہے۔“
عدل کا حسن رحمت سے مکمل ہوتا ہے، جو کہ اللہ رب العزت کی صفت ہے۔ نبی اکرم ﷺ کو قرآن نے رحمة للعالمین کے خطاب سے نوازا ہے، جو کہ انؐ کی تمام انسانیت کے لیے محبت، درگزر اور خیر خواہی کے بالکل مصداق ہے۔
گویا کہ ایک پاکیزہ نفس وہ ہے جس کا عدل سختی کے بجائے رحمت پر استوار ہوتا ہے، جو انصاف کا علمبردار ہوتا ہے مگر اس کا دل نرمی، بخشش اور خیر خواہی سے سرشار ہوتا ہے۔ یہی وہ اجتماعی اخلاق ہیں جو ایک فرد کی روحانی پاکیزگی کو عملی کردار اور سماجی عدل میں ڈھالتے ہیں۔
۴۔ مناسکِ عبادت اور کردار کی تشکیل
قرآن کریم جو عبادات کا نظام فراہم کرتا ہے وہ اپنے اندر روحانی اور نفسیاتی تربیتی نظام کی خصوصیات بھی رکھتا ہے۔ عبادت کا یہ نظام انسان کے اندر ایک متوازن، باشعور اور باکردار شخصیت کی ارتقاء میں اہم رول ادا کرتا ہے۔
نماز: پنج گانہ نمازیں انسان کے اندر نظم و ضبط اور یکسوئی پیدا کرتی ہیں اور اللہ کی یاد کو دلوں میں راسخ کرتی ہے۔ سجدے کی حالت عاجزی اور انکساری کا بلند ترین اظہار ہے، جو انسان کے اندر تکبر کا زہر پنپنے نہیں دیتا۔
زکوٰة: زکوٰة انسان کے نفس کو لالچ، بخل اور مادہ پرستی کی بیماریوں سے محفوظ رکھتا ہے۔ اس سے ہمدردی کا جذبہ پروان چڑھتا ہے اور سماجی ذمہ داری کا احساس پیدا ہوتا ہے۔
روزہ: رمضان المبارک کا مہینہ نفس امارہ پر قابو پانے کا ایک اہم پروگرام ہے۔ انسان جب اپنی خوہشات اور جسمانی ضروریات سے رضاکارانہ طور پر باز رہتا ہے تو اسے ضبط نفس کا سلیقہ آتا ہے، صبر کی عادت پڑتی ہے اور نعمتوں کے تعلق سے شکر کا جذبہ پروان چڑھتا ہے۔
زندگی کے سفر کے لیے انبیاء کرام علیہم السلام کا بہترین اسوہ
انسان کی شخصیت کی تربیت کے لیے قرآن کریم انبیاء ؑ کی سرگزشت کو واقعاتی اور نفسیاتی نمونوں کے طور پر پیش کرتا ہے، جو قرآنی ہدایات کے مطابق زندگی کو گزارنے کے تصور کو ایک واضح، قابل فہم اور قابل عمل حقیقت بنا دیتا ہے۔ اس کی چند مثالیں ذیل میں مذکور ہیں۔
صبر و استقامت کا نمونہ: حضرت ایوب ؑ کی داستان صبر کی عظیم مثال ہے، جنہوں نے جسمانی صحت، مال اور اہل خانہ کی بڑی آزمائشوں کے باوجود ایمان میں ذرہ برابر کمی نہیں آنے دی۔ اسی طرح یوسف ؑ کی زندگی اخلاقی پاکیزگی اور ثابت قدمی کا روشن نمونہ ہے، جنہوں نے غداری، غلامی اور قید و بند کے سخت ترین مرحل میں بھی اپنی اخلاقی بلندی کو برقرار رکھا۔
توبہ اور رحمت کا نمونہ: حضرت یونس ؑ کا واقعہ نفس لوامہ کی بیداری کا مؤثر مظہر ہے۔ جب وہ کامل بے بسی کے عالم میں پہنچے تو ان کا ضمیر جاگ اٹھا، اور ان کی زبان سے بے ساختہ نکلا: ”لا إِلَٰهَ إِلَّآ أَنتَ سُبۡحَٰنَكَ إِنِّي كُنتُ مِنَ ٱلظَّٰلِمِينَ“ (سورة الانبیاء: ۸۷) یعنی ”نہیں ہے کوئی خدا مگر تو، پاک ہے تیری ذات، بے شک میں نے قصور کیا۔“۔ ان کی سرگزشت انسانی خطا، ضمیر کی ملامت، سچی توبہ اور اللہ کی بے کراں رحمت کا نمونہ ہے۔
توبہ اور رحمت کا نمونہ: حضرت یونس ؑ کا واقعہ نفس لوامہ کی بیداری کا مؤثر مظہر ہے۔ جب وہ کامل بے بسی کے عالم میں پہنچے تو ان کا ضمیر جاگ اٹھا، اور ان کی زبان سے بے ساختہ نکلا: ”لا إِلَٰهَ إِلَّآ أَنتَ سُبۡحَٰنَكَ إِنِّي كُنتُ مِنَ ٱلظَّٰلِمِينَ“ (سورة الانبیاء: ۸۷) یعنی ”نہیں ہے کوئی خدا مگر تو، پاک ہے تیری ذات، بے شک میں نے قصور کیا۔“۔ ان کی سرگزشت انسانی خطا، ضمیر کی ملامت، سچی توبہ اور اللہ کی بے کراں رحمت کا نمونہ ہے۔
قرآن کریم کے مطابق خود شناسی کا سفر ایک ہمہ گیر، مربوط اور عمر بھر جاری رہنے والا عمل ہے، جس کا مقصد انسانی شخصیت کی تطہیر اور تکمیل ہے۔ یہ سفر نفس کی صلاحیتوں کو سمجھنے سے آغاز پاتا ہے اور غور و فکر اور تدبر جیسے عقلی و روحانی آلہ جات سے قوت حاصل کرتا ہے، جو انسان میں خود احتسابی کا شعور بیدار کرتے ہیں۔ اس تبدیلی کی بنیاد ان بنیادی اخلاقی صفات کی پرورش پر ہے، جیسے صبر، شکر، تواضع، عدل اور رحمت ، جو زندگی کی روزمرہ آزمائشوں میں نکھرتی اور عبادات کے روحانی تجربات سے مزید تقویت حاصل کرتی ہے۔
اس روحانی سفر کا آخری مرحلہ نفس مطمئنہ کا حصول ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں انسان اپنی حقیقی صلاحیت کو پا لیتا ہے، اور اس کی روح اس اعلیٰ حالت میں پہنچ جاتی کہ وہ اپنے رب کی اس پکار پر لببیک کہنے کے لیے تیار ہو جاتی ہے: ”يَٰٓأَيَّتُهَا ٱلنَّفۡسُ ٱلۡمُطۡمَئِنَّةُ . ٱرۡجِعِيٓ إِلَىٰ رَبِّكِ رَاضِيَةٗ مَّرۡضِيَّةٗ . فَٱدۡخُلِي فِي عِبَٰدِي . وَٱدۡخُلِي جَنَّتِي .“ (سورة الفجر: ۲۷ تا ۳۰) یعنی ”اے نفس مطمئن، چل اپنے رب کی طرف اس حال میں کہ تو (اپنے انجامِ نیک سے) خوش (اور اپنے رب کے نزدیک) پسندیدہ ہے۔ شامل ہو جا میرے (نیک) بندوں میں اور داخل ہو جا میری جنت میں۔“



