محمدؐ سے محبت کیوں؟ پچاس (۵۰) وجوہات!

یہ ایک جائز سوال ہے کہ کسی شخص کے اس دنیا سے گزر جانے کے ڈیڑھ ہزار سال بعد بھی اس سے کیوں بے پناہ محبت کی جائے؟
ہم ذیل میں اسی سوال کا جواب دے رہے ہیں۔ ہم یہ بتانا چاہتے ہیں کہ یہ کوئی بے جا جذباتی لگاؤ نہیں ہے جو ہمیں ”اپنے کلچر“ یا ”اپنے دھرم“ کے نام پر آبا و اجداد سے مل گیا ہے، اور ہم بنا سوچے سمجھے اسے اٹھائے پھر رہے ہیں۔ نہیں! ہماری ہی طرح سانس لینے والے، چلنے پھرنے والے محمد الرسول اللہ اپنے اندر محاسن کی ایک ایسی کائنات سموئے ہوئے تھے کہ رہتی دنیا تک ان کو یاد رکھا جائے، ان کی تعلیمات کو زندگی کا قانون بنا کر برتا جائے۔ ان کی شخصیت اور ان کی تعلیمات ہمیں مجبور کرتی ہے کہ ہم ان سے بے پناہ محبت کریں، ان کا سب انسانوں سے بڑھ کر احترام کریں، اور انہیں اپنا رہنما و پیشوا تسلیم کریں۔ صلی اللہ علیہ وسلم!
ذیل میں ہم انؐ کے چند محاسن کا تذکرہ کریں گے، تاکہ یہ ثابت ہو جائے کہ ان ؐ سے بے پناہ محبت کرنا، ان کا سب سے بڑھ کر احترام کرنا کیوں ضروری ہے؟ وما توفیقی الا باللہ!

پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرنے کی پچاس (۵۰) وجوہات


(۱) پہلی وجہ: ان کی سچائی اور راست گوئی

نبی اکرم ؐ کی سچائی ان کی شخصیت کا سب سے نمایاں وصف تھا، جسے دوست و دشمن سب تسلیم کرتے تھے۔ بعثت کے وقت جب آپ ؐ نے اہل مکہ سے فرمایا کہ اگر میں تمھیں خبردار کروں کہ دشمن تم پر حملہ کرنے والا ہے تو کیا تم میری بات کا یقین کروگے؟ تو سب نے یک زبان ہو کر کہا: ”ہاں! کیوں کہ ہم نے آپ کو کبھی جھوٹ بولتے نہیں سنا۔“ حتیٰ کہ آپ ؐ کا سخت مخالف ابو سفیان نے بھی قیصر روم ہرقل کے سامنے اس بات کا اعتراف کیا کہ محمد ؐ کو کبھی جھوٹ بولتے نہیں دیکھا گیا۔ یہ گواہی اس بات کا ثبوت ہے کہ آپ ؐ کی سچائی ایسی مسلم اور بے داغ تھی کہ اسے سخت ترین دشمن بھی جھٹلا نہ سکے۔ ﷺ


(۲) دوسری وجہ: تمام مخلوقات کے لیے انکی رحمت و شفقت

تمام مخلوقات کے لیے آپ کی بے پناہ رحمت و شفقت آپ کا بنیادی وصف تھا۔ قرآن کریم نے آپ ؐ کو ”تمام  جہانوں کے لیے رحمت“ (سورہ الانبیاء، ۱۰۷) قرار دیا، اور آپ ؐ نے اپنی پوری زندگی میں اس حقیقت کو عملی طور پر مجسم کر کے دکھایا۔ آپ کی رحمت صرف ان تک محدود نہ تھی جو آپ پر ایمان لاتے، بلکہ دشمنوں، اجنبیوں، بلکہ چرند و پرند تک ان کی اس رحمت و شفقت سے محروم نہ رہتے۔ آپ ؐ نماز کو مختصر کر دیتے اگر کسی بچے کے رونے کی آواز سن لیتے، تاکہ ماں کی پریشانی کم ہو۔ ایک مرتبہ ایک دیہاتی نے لاعلمی میں مسجد کے اندر پیشاب کر دیا تو آپ نے برہم ہونے کے بجائے نہایت نرمی اور حکمت کے ساتھ اسے سمجھایا۔ رحمة للعالمین کی ہر ادا، ہر عمل میں یہی اصول کار فرما تھا کہ زمین پر بسنے والی ہر مخلوق کے ساتھ رحمت کا معاملہ کیا جائے۔ ﷺ


(۳) تیسری وجہ: درگزر اور معافی، اپنے سخت ترین دشمنوں کے لیے بھی

شاید آپ ؐ کی سب سے حیرت انگیز صفت آپ کی بے مثال درگز اور معافی کی قوت تھی۔ مکہ کے مشرکین نے برسوں آپ ؐ پر ظلم و ستم ڈھائے، آپ کے ساتھیوںؓ کو سخت اذیتیں دیں، ان سے جنگ کی، مگر جب آپ ؐ مکہ میں فاتحانہ داخل ہوئے تو ان سب سے انتقام لینے کے بجائے عام معافی کا اعلان فرمایا۔ آپ ؐ نے اپنے سابق دشمنوں سے فرمایا ”جاؤ، تم سب آزاد ہو!“ آپ ؐ نے ان افراد کو بھی معاف کر دیا جنہوں نے آپ کو شدید اذیتیں دیں، حتیٰ کہ اس شخص کو بھی جس نے آپؐ کے پیارے چچا حضرت حمزہ ؓ کو شہید کیا۔ یہ عظیم ظرف اس بات کا ثبوت ہے کہ آپ ؐ کا کردار انا اور جذبۂ انتقام سے بالکل پاک تھا۔ ﷺ


(۴) چوتھی وجہ: ان ؐ کی سادگی اور انکساری 

اگرچہ آپ ؐ پورے عرب کے حاکم بن گئے تھے، لیکن آپ ؐ کی زندگی عاجزی اور سادہ مجازی کی مظہر تھی۔ آپ ؐ کا گھر کچی اینٹوں کا ایک سادہ سا مکان تھا، اور آپ ؐ کھجور کے پتوں سے بنی ہوئی ایک چٹائی پر سوتے تھے جس کے نشانات آپ کے جسم مبارک پر پڑ جاتے۔ آپ ؐ اپنے جوتے خود گانٹھ لیتے، کپڑوں میں خود پیوند لگا لیتے، اور گھر کے کاموں میں اہل خانہ کی مدد کر دیتے۔ ایک مرتبہ ایک شخص آپ ؐ کی بارگاہ میں آیا اور آپ کی ہیبت سے کانپنے لگا، تو آپ نے نہایت نرمی سے فرمایا ”اطمینان رکھو، میں کوئی بادشاہ نہیں ہوں، میں تو قریش کی ایک عورت کا بیٹا ہوں جو خشک گوشت کھایا کرتی تھی“ (ابن ماجہ)۔ یہ قول اور طرز عمل اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ آپ ؐ کی ذات تکبر، فخر اور غرور سے بالکل پاک تھی۔ ﷺ


(۵) پانچویں وجہ: ان ؐ کا بے مثال صبر اور ثابت قدمی

نبی اکرم ؐ کی پوری زندگی صبر و استقامت کا روشن نمونہ رہی۔ مکہ میں تیرہ برس تک آپ ؐ نے شدید تکالیف برداشت کیں، آپ کا مذاق اڑایا گیا، ظلم و تشدد کیے گئے، اور تین سال تک سخت معاشی بائیکاٹ کا سامنا رہا۔ ان آزمائشوں کے دوران آپ ؐ نے اپنی اہلیہ حضرت خدیجہؓ اور اپنے محافظ و سرپرست چچا ابو طالب کو بھی کھو دیا۔ ان سب کے باوجود آپ ؐ امید سے لبریز دل کے ساتھ طائف کو گئے تاکہ وہاں کچھ مدد حاصل ہو جائے، مگر وہاں کے لوگوں نے آپ کی پیش کش کر رد کر دیا اور اوباش لڑکوں نے پتھر مار کر آپ کو زخمی کر دیا، اور آپ لہو لہان ہو گئے۔ اس اذیت ناک حالت میں بھی آپ ؐ نے بددعا دینے کے بجائے دعا کی کہ: "اے اللہ ان کی آنے نسلوں کو ہدایت دے۔” یہ اور ایسے ہی سینکڑوں واقعات آپ ؐ کی بے مثال صبر و تحمل اور عظیم ظرف اور برے سے برے حالات میں بھی پُر امید رہنے کی صفت کو نمایاں کرتا ہے۔ ﷺ


(۶) چھٹی وجہ: جانوروں کے ساتھ رحم کا معاملہ

آپ ؐ نے جانوروں کے ساتھ ہمدردی اور نرمی کا ایک انقلابی معیار قائم کیا، اور انہیں ایسی مخلوق کے طور پر دیکھا جو رحمت اور نیکی کی مستحق ہے۔ آپ ؐ نے بیان فرمایا کہ ایک شخص کے گناہ صرف اس لیے بخش دیے گئے کہ اس نے ایک پیاسے کتے کو پانی پلایا۔ آپ نے جانوروں کو زد و کوب کرنے سے منع فرمایا اور ایک مرتبہ ایک شخص کو تنبیہ کی جب کہ اس کا اونٹ آنکھوں میں آنسو لیے آیا۔ آپ سمجھ گئے کہ اس اونٹ کو بھوکا رکھا گیا ہے اور اس پر سخت مشقت ڈالی جا رہی ہے۔ ﷺ

(۷) ساتویں وجہ: ان کی نرم خوئی اور خوش مزاجی

ایک سخت گیر معاشرے میں رسول اکرم ؐ نرمی اور شفقت کے چراغ تھے۔ حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ آپ ؐ کبھی بلند آواز میں گفتگو نہیں کرتے۔ ایک صحابی ؓ کا بیان ہے کہ ”میں نے رسول اللہ ؐ سے زیادہ کسی کو مسکراتے ہوئے نہیں دیکھا“۔ آپ ؐ کے اس خوشگوار اور ملنسار مزاج کی وجہ سے لوگ اطمینان کے ساتھ آپ ؐ کے سامنے اپنی مشکلات کا تذکرہ کرتے، اس یقین کے ساتھ کہ انہیں خلوص اور خیر خواہی پر مبنی نصیحت ملے گی۔ انہیں ڈانٹا یا پھٹکارا نہیں جائے گا۔ ﷺ

(۸) آٹھویں وجہ: ان ؐ کی بے پایاں سخاوت

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین آپ ؐ کی سخاوت کو اس طرح بیان کرتے کہ ”رسول اللہ ؐ تیز چلتی ہوئی ہوا سے زیادہ سخی تھے“۔ آپ ؐ نے کبھی کسی سائل کو خالی ہاتھ نہیں لوٹایا۔ وہ ؐ اکثر اپنا سب کچھ دوسروں پر لُٹا دیا کرتے، یہاں تک کہ اپنے اہل خانہ کی ضروریات پر بھی مانگنے والوں کو ترجیح دیتے۔ ایک مرتبہ ایک شخص نے چند بکریوں کا سوال کیا تو آپ ؐ نے اسے پورا کا پورا ریوڑ عطا فرما دیا۔ وہ شخص اپنی قوم کے پاس جا کر کہنے لگا: ”محمد ؐ اس قدر عطا فرماتے ہیں کہ گویا انہیں فقر و فاقہ کا کوئی اندیشہ ہی نہیں!“۔ آپ ؐ دولت کو اللہ کی امانت خیال کرتے اور اسے حاجت مندوں میں تقسیم کرنا ضروری سمجھتے۔ ﷺ

(۹) نویں وجہ: ان کی جرأت مندی اور بہادری

آپ ؐ عظیم اخلاقی صفات کے ساتھ ساتھ حوصلہ مندی اور جرأت مندی سے بھی متصف تھے۔ آپ اتنے جرأت مند تھے کہ مکہ کے جری سرداروں کے مقابلے میں کھڑے رہے اور حق کا پیغام پہنچاتے رہے۔ بدر اور اُحد کے میدان میں اپنے مٹھی بھر ساتھیوں کے ساتھ عظیم الشان لشکر کے سامنے سینہ تانے کھڑے رہے۔ نبوت کے اعلان سے لے کر اس دارِ فانی سے کوچ کرنے تک، ہر دم جان کے دشمنوں کا سامنا رہا، لیکن کبھی ماتھے پر اس وجہ سے شکن نہیں آیا۔ ہر حال میں پر سکون اور عزم و حوصلے کے ساتھ اپنے مشن میں لگے رہے۔ ﷺ

(۱۰) دسویں وجہ: حرص و لالچ کے مقابلے میں دیانت داری

آپ نے اپنے مشن کے مقابلے میں کسی بھی طرح کی حرص و لالچ کو خاطر میں نہیں لایا۔ سرادارنِ قریش نے ان کے سامنے بے پناہ دولت، پورے مکہ کی بادشاہت اور قریش کی بہترین خواتین سے نکاح کی پیش کش کی، بس یہ شرط رکھی کہ آپ اپنی دعوت و تبلیغ کا کام ترک کر دیں۔ رسول اللہ ؐ نے یہ کہہ کر منع کر دیا کہ ”اگر لوگ سورج کو میرے دائیں ہاتھ پر اور چاند کو بائیں ہاتھ پر رکھ دیں تب بھی اپنے مشن سے پیچھے نہیں ہٹوں گا۔“ ﷺ

(۱۱) گیارہویں وجہ: نسلی اور سماجی مساوات کے علمبردار

ایک ایسے دور میں جب کہ قبیلے اور نسل کی بنیاد پر ہی انسانوں کو پرکھا جاتا تھا، اور نسلی اور قبیلائی تفاخر ایک بڑا سرمایا ہوا کرتا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک انقلابی تصور پیش کیا۔ آپ نے حجة الوداع کے موقعے پر فرمایا ”کسی عرب کو کسی غیر عرب پر کوئی فضیلت نہیں، کسی گورے کو کسی کالے پر کوئی فضیلت نہیں، کسی کالے کو کسی گورے پر کوئی فضیلت نہیں، سوائے تقویٰ کے۔“ ﷺ

(۱۲) بارہویں وجہ: حقوقِ نسواں کے علمبردار

آپ ؐ نے خواتین کی سماجی حیثیت میں ایک نہایت اہم اور تاریخی انقلاب برپا کیا، اور انہیں وہ حقوق عطا فرمائے جو اس دور کے لوگوں کے حاشیۂ خیال میں نہیں آ سکتے تھے۔ عرب بعض اوقات پرورش کی ذمہ داری سے بچنے کے لیے پنی بچیوں کو اپنے ہاتھوں سے قتل کر دیتے تھے (جیسے آج کل جنس کی جانچ کر کے بچیوں کو ماں کے پیٹ میں ہی ختم کر دیا جاتا ہے)، آپ نے اس کی سخت ممانعت کی اور اس سماجی برائی کو بالکل مٹا دیا۔ آپ ؐ نے خواتین کو حق ملکیت سے سرفراز کیا اور انہیں وراثت میں حصہ دار بنایا۔ انہیں یہ حق دیا کہ اگر وہ اپنے شوہر کی معیت سے خوش نہیں ہیں تو طلاق کی درخواست عدالت میں پیش کریں۔ انہیں شادی میں رضا مندی کا حق دیا، مہر کی شکل میں ملکیت رکھنے کا حق دیا۔ علم کے حصول کو مرد و خواتین، دونوں پر واجب کیا۔ علم کے میدان میں دونوں کا مرتبہ اتنا مساوی کر دیا کہ دیگر مرد صحابہ کے مقابلے میں حضرت عائشہ ؓ کی روایت کو علماء ترجیح دیتے ہیں کہ وہ رسول اللہ ؐ کے زیادہ قریب تھیں۔ ﷺ

(۱۳) تیرہویں وجہ: یتیموں کے بے مثال سرپرست

آپ ؐ کا بچپن خود یتیمی میں گزرا تھا۔ انہوں نے یتیموں کی دیکھ بھال پر غیر معمولی طور پر زور دیا۔ آپ ؐ نے تعلیم دی کہ جو شخص یتیم کی کفالت کرتا ہے وہ قیامت کے دن میرے بہت قریب ہوگا۔ آپ نے یہ بھی فرمایا کہ ”مسلمانوں کے بہترین گھرانے وہ ہیں جہاں یتیم کے ساتھ حسن سلوک کا معاملہ کیا جائے۔“ انہوں نے یتیموں کے لیے ایک مضبوط سماجی حفاظتی نظام قائم کیا اور ان کی فلاح و بہبود کو براہ راست فرد کی اخروی فلاح و کامرانی سے مربوط کر دیا۔ ﷺ

(۱۴) چودہویں وجہ: صدقہ و خیرات کو ایمان کا بنیادی ستون قرار دینا

محمد ؐ نے ترحم اور ہمدردی کو منظم انداز میں معاشرت کا حصہ بنایا اور صدقہ و خیرات کو دین کا بنیادی ستون قرار دیا۔ آپ ؐ نے زکوٰة کا نظام قائم کیا، جو ایک خاص مقدار سے زائد مال پر سالانہ ڈھائی فیصد وجب الادا حق ہے۔ آپؐ نے اسے امیروں کے مال میں غریبوں کا حق قرار دیا۔ اس سے دولت کی منصفانہ تقسیم اور غربت کے خاتمے کا ایک منظم طریقہ وجود میں آیا۔ ساتھ ہی ساتھ آپ ؐ نے ہمیشہ صدقات کی ترغیب دی۔ اس طرح آپ ؐ نے سماجی انصاف کو عبادت کا لازمی حصہ بنا کر امت کے روز مرہ کے طرزِ عمل میں شامل کر دیا۔ ﷺ

(۱۵) پندرہویں وجہ: کمزوروں اور مظلوموں کے تحفظ کے لیے ان کی غیر معمولی سعی و ہمدردی

آپ ؐ مظلوموں کی حمایت اور ان کے حقوق کا دفاع کرنے والے تھے۔ آپ نے نبوت سے قبل مکہ میں ہونے والے معاہدے ”حلف الفضول“ کی تعریف کی، جو ظلم کے شکار ہر شخص کی مدد کے لیے قائم کیا گیا تھا، اور فرمایا کہ ”اگر آج بھی مجھے ایسے معاہدے کے لیے بلایا جائے تو میں بلا جھجھک شامل ہو جاؤں گا“۔ آپ ؐ نے اپنے پیروکاروں کو تعلیم دی: ”اپنے بھائی کی مدد کرو، چاہے وہ ظالم ہو یا مظلوم۔“ جب صحابہ ؓ نے پوچھا کہ ظالم کی مدد کیسے؟ تو آپ ؐ نے فرمایا کہ: ”اسے ظلم سے روکنا ہی اس کی مدد ہے۔“ یوں آپ نے عدل و انصاف کا وہ اصول قائم کیا جو ظلم کے خلاف کھڑے ہونا اور مظلوم کی حمایت کرنا، دونوں کو ایمان کا لازمی جزو قرار دیتا ہے۔ ﷺ

(۱۶) سولہویں وجہ: معاشی استحصال کا خاتمہ کرنے والے

محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی معاشی اصلاحات کا مقصد ایک منصفانہ اور عادلانہ بازار قائم کرنا تھا۔ اس لئے آپ ؐ نے سب سے پہلے سود کو قطعی طور پر حرام قرار دیا، کیوں کہ یہ نظام غریبوں کو قرض کے ظالمانہ جال میں جکڑ کر انہیں ہمیشہ کے لیے محتاج بنا دیتا ہے۔ سود کی ممانعت دراصل معاشی استحصال کے خاتمے کا ایک فیصلہ کن قدم تھا۔ آپ ؐ نے دیانتداری اور شفافیت پر مبنی تجارت کو فروغ دیا اور تعلیم دی کہ ”سچا اور امانت دار تاجر قیامت کے دن انبیاء اور صدیقین کے ساتھ ہوگا۔“ اس طرح آپ ؐ نے ایک ایسا معاشی نظام قائم کیا جو انصاف، خیر خواہی اور انسانی وقار پر مبنی تھا۔ ﷺ

(۱۷) سترہویں وجہ: محنت کشوں کے وقار کو بلند کرنے والے

نبی اکرم ؐ نے ہر جائز اور محنت کش کام کی عزت و وقار کو بلند مقام عطا فرمایا۔ خود آپ ؐ نے جوانی میں چرواہے اور تاجر کی حیثیت سے کام کیا، اور اپنی امت کو تعلیم دی کہ دوسروں سے مانگنے کے بجائے اپنے ہاتھ کی کمائی بہتر ہے۔ آپ ؐ نے مزدوروں کے واضح حقوق متعین کیے اور فرمایا: ”مزدوروں کو اس کی مزدوری اس کے پسینہ خشک ہونے سے پہلے ادا کرو“۔ آپ نے تاکید فرمائی کہ محنت کشوں کے ساتھ نرمی و احترام کا سلوک کیا جائے، انہیں مناسب کھانا اور لباس دیا جائے، اور ان پر ان کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہ ڈالا جائے۔  ﷺ

(۱۸) اٹھارہویں وجہ: مضبوط اور متحد امت کی تشکیل کرنے والے

محمد  ؐ کے سب سے عظیم کارناموں میں سے ایک اِس امت کی تشکیل تھی، ایک ایسی امت جو ایمان کے برادرانہ رشتے میں بندھی ہوئی تھی اور صدیوں پرانی قبائلی تقسیم سے بالاتر تھی۔ مدینہ منورہ پہنچنے کے بعد آپ ؐ نے مہاجرین (مکہ سے آئے ہوئے بے سروسامان مسلمان) اور انصار (مدینہ کے مددگار مسلمان) کے درمیان مواخات یعنی بھائی چارے کا رشتہ قائم فرمایا، جس کے تحت انصار نے نہ صرف اپنے گھر بلکہ اپنا مال و اسباب بھی مہاجرین کے ساتھ بانٹ لیا۔ یہ بے مثال عمل اخوت، قربانی اور یکجہتی کی بنیاد پر ایک مضبوط اور متحد معاشرہ وجود میں لایا، جو نسبی رشتوں کے بجائے ایمان اور باہمی خیر خواہی پر قائم تھا۔ ﷺ

(۱۹) انیسویں وجہ: انصاف کے اصولوں پر مبنی پہلی اسلامی ریاست کا قیام

۶۲۲ء میں جب محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کر کے مدینہ پہونچے تو مدینہ ایک ایسا شہر تھا جو مختلف قبائلی گروہوں میں منقسم تھا جن میں آئے دن جنگیں ہوتی رہتی تھیں۔ آپ ؐ نے انتشار کے شکار اس سماج کو ایک مستحکم اور منظم سیاسی ادارے میں تبدیل کر دیا۔ آپ ؐ نے خود اس ریاست کے اصولی قانون ساز، قاضی اور نگران کے طور پر خدمت انجام دیں، اور انتقام کے پرانے قانون کی جگہ متحدہ قانونی و اخلاقی ضابطہ قائم کیا۔ یہ واقعہ آپ ؐ کو سیاسی قیادت کے اعلی ترین معیار کا حامل ثابت کرتا ہے۔ ﷺ

(۲۰) بیسویں وجہ: مدینہ کے تکثیری سماج کے لیے پہلے آئین کے مدوِّن

مدینہ پہنچ کر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اولین اقدامات میں سے ایک تھا مدینہ کا آئین تیار کرنا، جو کہ اس تکثیری معاشرہ (Plural Society) کے لیے ایک انقلابی منشور تھا۔ یہ دستاویز، جسے اولین تحریری آئین مانا جاتا ہے، مختلف مسلم اور یہودی قبائل کو ایک متحدہ نظام سے مربوط کرتی تھی اور ہر گروہ کے لیے ایک مذہبی آزادی اور قانونی خودمختاری کی ضمانت دیتی تھی۔ اس آئین نے شہریت کے ایسے اصول قائم کیے جو باہمی رضامندی اور اجتماعی فلاح پر مبنی تھے، اور اس کے ذریعے رہتی دنیا تک کے لیے ایک ایسا ماڈل پیش کیا گیا جو اس دور میں بہت نادر اور بے مثال تھا۔ ﷺ

(۲۱) اکیسویں وجہ: قانون کے پاسدار اور اصولوں کے پابند

آپؐ قانون کی بہت زیادہ پاسداری کرنے والے اور اصولوں کے معاملے میں بالکل غیر متزلزل تھے۔ ایک مرتبہ لوگوں نے ایک اونچے خاندان کی عورت کے لیے سفارش کرنے کی کوشش کی جو چوری کے جرم میں گرفتار ہو کر آئی تھی، تو آپ برہم ہو گئے اور فرمایا کہ گزشتہ قومیں اس لیے تباہ ہو گئیں کیوں کہ وہ کمزوروں کو سزا دیتے اور اشراف کو معاف کر دیتے۔ اس کے بعد آپؐ نے وہ بات کہی جو تاریخ کے پنوں میں سونے کے پانی سے لکھی جاتی ہے۔ آپ نے فرمایا: ”قسم اللہ کی! اگر فاطمہ، محمد کی بیٹی، چوری کرے، تو میں اس کا ہاتھ بھی کاٹ دوں گا۔“ اس قول سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ان کے نزدیک کوئی بھی شخص قانون سے بالاتر نہیں تھا۔ ﷺ

(۲۲) بائیسویں وجہ: شوریٰ کے ذریعے حکمرانی کرنے والے

محمد ؐ نے ریاستی امور میں مسلسل باہمی مشاورت کا عملی نمونہ قائم رکھا، باوجودیکہ وہ ؐ خود صاحب وحی تھے۔ قرآن کریم کی ہدایت تھی ”شاوِرھم فی الاَمر“۔ ایک جنگ کے موقع پر آپ ؐ نے لوگوں کی رائے پر عمل کیا اور مدینہ کے گرد خندق کھودنے  کی حکمتِ عملی اپنائی۔ اس طرح آپ ؐ نے اپنی امت کے لیے مشاورتی قیادت کا نمونہ پیش کیا۔ ﷺ

(۲۳) تئیسویں وجہ: سفارت کاری کے ماہر اور امن قائم کرنے والے

محمد ؐ ایک نہایت ماہر سفارت کار تھے جن کی اولین ترجیح امن کا قیام ہوتا تھا۔ آپ ؐ کی اس مہارت کا بہترین مظاہرہ صلح حدیبیہ کے معاملے میں دیکھا جا سکتا ہے۔ اگرچہ معاہدے کے شرائط بظاہر مسلمانوں کے لیے ذلت آمیز نظر آتے تھے، لیکن بالآخر یہ دس سالہ جنگ بندی اسلام کے حق میں فتح مبین ثابت ہوئی۔ اس معاہدے نے تنازع کو کم کیا اور اسلام کے پیغام کو پرامن طریقے سے پھیلانے کا موقع فراہم کیا۔ اس کے بعد آنے والے دو سالوں میں اسلام قبول کرنے والوں کی تعداد پچھلے دو دہائیوں کی مجموعی تعداد سے بھی زیادہ رہی۔ یہ واقعہ آپ کی بصیرت اور امن پسندی پر دال ہے۔ ﷺ

(۲۴) چوبیسویں وجہ: جنگ کے موقع پر اخلاقی اور انسانی ضوابط کے پابند

محمد ؐ نے جنگوں کے لیے انسانیت پر مبنی اصول وضع فرمائے۔ آپ ؐ نے مجاہدین کو صاف ہدایت دی کہ وہ عورتوں، بچوں، بوڑھوں، اور مذہبی شخصیات جیسے راہبوں کو کوئی گزند نہ پہنچائیں۔ آپ لاشوں کی بے حرمتی، کھیتوں کی تباہی اور جانوروں کو نقصان پہنچانے سے منع فرماتے۔ اس طرح آپؐ نے میدانِ جنگ میں بھی اعلیٰ اخلاق اور رحمت کا ایک انقلابی تصور پیش کیا۔ ﷺ

(۲۵) پچیسویں وجہ: جزیرہ نما عرب کو متحد کرنے کا کارنامہ

آپ ؐ نے وہ کارنامہ انجام دیا جو آپ سے پہلے کوئی رہنما نہ کر سکا: عرب کے باہم برسر پیکار قبائل کو ایک لڑی میں پرو دینا۔ محمد ؐ نے قبیلے اور خاندان کی تنگ نظری پر مبنی وابستگیوں کو منہدم کر کے ایک آفاقی امت قائم کی۔ آپ کے وصال تک تقریباً پورا جزیرہ نما عرب ایک مشترکہ عقیدہ اور نظام کے تحت متحد ہو چکا تھا۔ ﷺ

(۲۶) چھبیسویں وجہ: امن و امان کا قیام

محمد ؐ کی قیادت کے نتیجے میں ایک ایسے خطے میں امن و امان قائم ہوا جو ہمیشہ سے بدامنی اور لاقانونیت کا شکار تھا۔ آپ ؐ نے ایک مرکزی ریاست قائم کر کے ایک منصفانہ عدالتی نظام رائج فرمایا، جس سے انتقام اور خونریزی کا بے قابو سلسلہ تھم گیا اور قانون کی حکمرانی قائم ہو گئی۔ عدل و انصاف کو ایک اجتماعی اور ریاستی معاملہ بنا دیا گیا، تاکہ تنازعات اور اختلافات پُر امن طریقے پر حل ہوں اور ہر فرد کے حقوق محفوظ رہیں۔ ﷺ

(۲۷) ستائیسویں وجہ: دیگر مذاہب اور ان کی عبادت گاہوں کا احترام

مذہبی آزادی محمد ؐ کی تعلیمات کا بنیادی اصول تھا۔ قرآن کا حکم تھا کہ خانقاہوں، گرجاؤں  اور یہودی عبادت گاہوں کو تحفظ فراہم کیا جائے۔ اس اصول کو عملی شکل دیتے ہوئے آپ ؐ نے کئی معاہدے کئے، مثلاً، طور سینا کے مقام پر واقع سینٹ کیتھرین کے راہبوں کو دیا گیا معاہدۂ تحفظ، جس میں آپ ؐ نے مسیحیوں کی سلامتی اور ان کے گرجاؤں کی حرمت کی ضمانت دی۔ اس طرح آپ نے بین المذاہب تعلقات کے لیے ایک بہت اعلیٰ معیار قائم کیا۔ ﷺ

(۲۸) اٹھائیسویں وجہ: اقلیتوں کے ساتھ منصفانہ سلوک

محمد ؐ نے اسلامی ریاست میں رہنے والے غیر مسلم اقلیتوں کے تحفظ کے لیے ایک واضح فریم ورک ترتیب دیا۔ آپ ؐ نے ان کی حفاظت کو ایک مقدس ذمہ داری قرار دیتے ہوئے فرمایا: ”جو شخص کسی غیر مسم اقلیت پر ظلم کرے گا… میں قیامت کے دن اس کے خلاف شکایت کروں گا۔“ اس آفاقی اصول نے ہر شہری، چاہے وہ کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتا ہو، کے حقوق اور عزت و وقار کی حفاظت کی ضمانت دی۔ ﷺ

(۲۹) انتیسویں وجہ: بہت محبت کرنے والے مشفق شوہر

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اعمال سے ثابت کیا کہ شادی کو محبت، رفاقت اور باہمی اعتماد کا رشتہ ہونا چاہئے۔ حضرت خدیجہ ؓ کے ساتھ ان کی پچیس سالہ رفاقت آپ ؐ کی وفاداری اور مودت کی مثال ہے۔ ان ؓ کے انتقال کے بعد بھی آپ ؐ کی محبت اور انسیت میں کمی نہیں آئی۔ حضرت عائشہ ؓ اور دیگر ازواجِ مطہرات کے ساتھ ان کا تعامل بہت شفقت بھرا ہوتا۔ آپ ؐ نے اپنی سنت سے واضح کیا کہ محبت، احترام، اور نرمی ہی خوشگوار ازدواجی زندگی کی بنیاد ہے۔ﷺ

(۳۰) تیسویں وجہ: گھر کے کاموں میں ان کی شرکت اور معاونت

محمد ؐ اپنے زمانے کے پدرشاہی تصورات کو چیلینج کرتے ہوئے گھر کے کاموں میں حصہ لیتے۔ حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ آپ ؐ اپنے اہل خانہ کی خدمت کرتے۔ آپ ؐ گھر میں جھاڑو لگاتے، بکریاں دوہتے، اپنے کپڑے اور جوتے خود مرمت کر لیتے تھے۔ آپ ؐ نے اپنی سنت کے ذریعے گھر کے ان کاموں کو عزت بخشی جنہیں کرتے ہوئے مرد عام طور پر عار محسوس کرتے ہیں۔ ﷺ

(۳۱) اکتیسویں وجہ: اپنی اولاد سے بے پناہ محبت کرنے والے مشفق باپ

ایک ایسے معاشرے میں جہاں بیٹوں کو بیٹیوں پر فوقیت دی جاتی تھی، آپ اپنی چاروں بیٹیوں کے لیے بے حد محبت کرنے والے والد تھے۔ آپ ؐ کی سب سے چھوٹی صاحبزادی حضرت فاطمہ ؓ آپ کے پاس آتیں تو آپ ؐ فرط محبت سے کھڑے ہو جاتے، ان کا بوسہ لیتے اور اپنی جگہ خالی کر کے انہیں بٹھاتے۔ آپ ؐ نے اپنے طرز عمل سے ہمیں تعلیم دی کہ اولاد اللہ کی رحمت اور نعمت ہیں، اور والدین کا فرض ہے کہ وہ ان کے پاس رہیں اور ان کے ساتھ محبت اور شفقت کا برتاؤ کریں۔ ﷺ

(۳۲) بتیسویں وجہ: بہت محبت کرنے والے مشفق نانا

محمد ؐ اپنے نواسوں حسن ؓ اور حسین ؓ کے ساتھ بہت زیادہ محبت و شفقت سے پیش آتے تھے۔ آپ ؐ انہیں کندھوں پر بٹھاتے، جب نماز کے دوران وہ آپ ؐ کی پیٹھ پر سوار ہو جاتے تو آپ سجدہ طویل کر دیتے۔ ایک موقع پر کسی قبیلے کے سردار نے فخر سے کہا کہ وہ کبھی اپنے بچوں کو نہیں چومتا، تو آپ ؐ نے فرمایا: ”جو رحم نہیں کرتا، اس پر رحم نہیں کیا جائے گا۔“ آپ ؐ نے گویا یہ تعلیم دی کہ بچوں کے ساتھ شفقت اور نرمی کا برتاؤ دراصل اللہ کی رحمت کا عکس ہے۔ ﷺ

(۳۳) تینتیسویں وجہ: نکاح میں باہمی احترام اور حقوق کے پاسدار

محمد ؐ نے شادی شدہ زندگی کو باہمی حقوق اور مشترک ذمہ داریوں کے طور پر پیش کیا۔ آپ ؐ نے خطبۂ حجة الوداع میں فرمایا: ”اے لوگو! تمھارے اپنی بیویوں پر کچھ حقوق ہیں، اور ان کے بھی تم پر حقوق ہیں۔“ اس تعلیم نے ازدواجی زندگی کو ایک دو طرفہ معاہدہ قرار دیا، جس میں دونوں فریقوں کو عزت، احترام اور حسن سلوک کےساتھ پیش آنے کا حکم دیا گیا۔ آپ ؐ کے اس تصور نے ایک متوازن اور منصفانہ خاندانی نظام کی بنیاد رکھی۔ ﷺ

(۳۴) چونتیسویں وجہ: اہل خانہ کے ساتھ صبر اور نرمی کا معاملہ کرنے والے

خانگی زندگی میں محمد ؐ کا طرز عمل غیر معمولی صبر اور نرم خوئی سے عبارت تھا۔ حضرت انس ؓ، جو دس سال تک آپ کی خدمت میں رہے، کہتے ہیں کہ آپ نے کبھی ان سے سخت کلامی نہیں کی، اور نہ ہی کسی کام پر کبھی ملامت فرمائی۔ آپ ؐ نے کبھی کسی زوجہ ؓ یا خادم پر ہاتھ نہیں اٹھایا، بلکہ ہر اختلاف کو دانائی اور حلم و بردباری سے حل فرماتے۔ آپ کی خانگی زندگی اُس تعلیم کی عملی تفسیر ہے جو آپ ؐ نے خود ارشاد فرمائی: ”تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنے اہل خانہ کے ساتھ بہتر سلوک کرے۔“ ﷺ

(۳۵) پینتیسویں وجہ: توحید خالص کے داعی

محمد ؐ کی تئیس سالہ نبوی جدوجہد کا مرکزی عنوان توحید کی دعوت تھا۔ یعنی اللہ کی وحدانیت پر کامل ایمان۔ یہ انقلابی پیغام انسان کو ہر قسم کی غلامی سے آزاد کرتا ہے، چاہے وہ بتوں کی ہو، آبا و اجداد کی ہو، یا کسی بھی مخلوق کی۔ توحید کے اس تصور نے انسان کو براہ راست اپنے خالق سے جوڑ دیا، جس کے بعد کسی واسطے یا شراکت کی گنجائش نہیں بچتی۔ یہ توحید خالص انسانی عقائد کا عروج ہے۔ ﷺ

(۳۶) چھتیسویں وجہ: حصول علم کو دینی فریضہ قرار دینا

آپ ؐ پر نازل ہونے والا پہلا کلمہ ”اقرا“، یعنی ”پڑھو“ تھا، جس سے علم و شعور کی ہمہ گیر تحریک کا آغاز ہوتا ہے۔ آپ نے فرمایا: ”علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے“، اور اس میں مرد و عورت کی کوئی تفریق روا نہیں رکھی۔ آپ ؐ نے علماء کو انبیاء کا وارث قرار دے کر علم کے حصول کو ایک دینی فریضہ بنا دیا۔ علم کے تعلق سے یہ تندہی بعد میں اسلام کے سنہری دور کی بنیاد بنی، جہاں علم، تحقیق اور فہم و ادراک کو عبادت کا درجہ حاصل ہوا۔ ﷺ

(۳۷) سینتیسویں وجہ: کلامِ الٰہی کے حامل اور مبلغ

محمد ؐ کی میراث کے مرکز میں قرآن کریم ہے، جو اس زمین پر خدا کا واحد خالص کلام ہے۔ یہ کلام آپ ؐ پر تیئیس برس کے عرصے میں نازل ہوا، جسے آپ ؐ نے پوری دیانت داری کے ساتھ ہم تک پہنچایا۔ آپ ؐ کی ذات ہی وہ برگزیدہ واسطہ ہے جن کے ذریعے ہم آخری اور کامل وحیِ الٰہی کو پاتے ہیں، جو اب بنی نوع انسان کی فلاح و کامرانی کا ضامن ہے۔ ﷺ

(۳۸) اڑتیسویں وجہ: کمال درجے کی مثالی اخلاقی و اقداری نظام فراہم کرنے والے

محمد ؐ نے نہ صرف یہ کہ خدا کا پیغام قرآن کی شکل میں ہم تک پہنچایا، بلکہ انہوں نے خود ان تعلیمات پر عمل پیرا ہو کر دکھایا۔ اُمّ المومنین حضرت عائشہ ؓ سے جب آپ ؐ کے اخلاق کے بارے میں دریافت کیا گیا تو انہوں نے جواب دیا: ”ان کا اخلاق تو قرآن ہی تھا۔“ آپ گویا چلتا پھرتا قرآن تھے، جنہوں نے خدائی اصولوں کو انسانی زندگی میں اس طرح ڈھالا کہ سچائی، رحمت، انصاف اور عفو میں اخلاقی کمال کی ایک جیتی جاگتی مثال بن گئے۔ ﷺ

(۳۹) انتالیسویں وجہ: شریعت کی بنیاد رکھنے والے

محمد ؐ نے قرآن اور اپنی سنت کے ذریعے شریعت اسلامی کی بنیاد رکھی، جو اسلام کا جامع قانونی اور اخلاقی نظام ہے۔ آپ ؐ  نے خود جج کے فرائض انجام دے کر خدائی اصولوں کو نافذ کیا، خود معلم بن کر ان اصولوں کی تشریح کی۔ آپ کے یہی فیصلے بعد میں فقہ اسلامی کی بنیاد بنے جو انسانی زندگی میں پیش آنے والے ہر ہر مسئلے کو خدائی اصولوں پر منظم کرتا ہے۔ ﷺ

(۴۰) چالیسویں وجہ: خطبۂ حجة الوداع کے موقع پر ابدی اور آفاقی اصولوں کا اجراء

اپنے آخری حج کے موقع پر رسول اکرم ؐ نے خطبة الوداع پیش کیا، جو آپ ؐ کے پورے مشن کا جامع اور بلیغ خلاصہ تھا۔ اس میں آپ ؐ نے جو اصول پیش کئے وہ حقوق انسانی کا ابدی منشور قرار پایا۔ آپ نے جان و مال کی حرمت کو واضح کیا، سود اور خون کے انتقام کے خاتمے کا اعلان فرمایا، رنگ و نسل سے بالاتر ہو کر انسانی مساوات کا پیغام دیا، زوجین کے حقوق اور ذمہ داریوں کی وضاحت کی۔ ﷺ

(۴۱) اکتالیسویں وجہ: ماحول کی حفاظت اور نگرانی کے اصول پیش کرنے والے پہلے انسان

صدیوں پہلے، جب کہ ماحولیات کی حفاظت کوئی موضوع نہیں تھا، محمد ؐ کی تعلیمات نے قدرت کی پیدا کی ہوئی چیزوں کی نگہبانی کو اہمیت بخشی۔ آپ ؐ نے فرمایا کہ زمین اللہ کی امانت ہے، اور انسان اس کے نگہبان۔ آپ نے اسراف کی مذمت فرمائی، درخت لگانے کی ترغیب دی اور اسے صدقۂ جاریہ کہہ کر نیک عمل میں شامل کیا، نیز محفوظ قدرتی مقامات (حمیٰ) قائم کئے۔ اس طرح آپ نے ماحولیات کے سلسلے میں ایسے جامع اور دور رس حکمت عملی پیش کی جو آج بھی بہت اہمیت کی حامل ہے۔ ﷺ

(۴۲) بیالیسویں وجہ: جسمانی اور ذہنی صحت کا فروغ

محمد ؐ کی تعلیمات میں انسان کی ہمہ جہت صحت، جسمانی، دماغی اور روحانی، سب کے لیے توشہ موجود ہے۔ آپ ؐ نے کھانے پینے میں اعتدال برتنے کی تعلیم دی، بالخصوص صفائی پر بہت زور دیا اور فرمایا: ”صفائی نصف ایمان ہے۔“ اسی طرح آپ ؐ نے غصے پر کنٹرول رکھنے اور مثبت طرز فکر کی ہدایت دی، جو ذہنی صحت مندی کے لیے ضروری ہے۔ اس طرح آپ نے جسم، عقل اور روح، تینوں کی فلاح کو یکجا کرتے ہوئے ایک مکمل اور متوازن طرز حیات کا نمونہ پیش فرمایا۔ ﷺ

(۴۳) تینتالیسویں وجہ: خاتم الانبیاء کے کردار میں

محمد ؐ ”خاتم النبیین“ ہیں، یعنی انبیاء کے سلسلے کی آخری کڑی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم، اللہ کے بھیجے ہوئے طویل سلسلۂ انبیاء، جن میں آدم، نوح، ابراہیم، موسیٰ اور عیسیٰ علیہم السلام شامل ہیں، کے آخری رسول ہیں۔ یہ سب ایک ہی پیغام لے کر آئے تھے۔ آپ ؐ کا مشن سابقہ وحیوں کی حقانیت کی تصدیق کرنا اور اللہ کا کامل اور جامع پیغام پوری انسانیت تک پہنچانا تھا، جو قیامت تک کے لیے ہدایت کا آخری سر چشمہ ہے۔ ﷺ

(۴۴) چونتالیسویں وجہ: ایک آفاقی مذہب اور علمی تہذیب کی بنیاد رکھنے میں ان کا کردار

محمد ؐ نے جب اس دین کی تبلیغ کا کام شروع کیا تو پہلے پہل چند نفوس پر مشتمل ایک چھوٹی سی جماعت آپؐ کے ساتھ آئی، اور آج یہ دنیا کا دوسرا سب سے بڑا مذہب ہے۔ آپ ؐ کی دعوت نے نہ صرف ایک دین کی بنیاد رکھی بلکہ ایک ایسی تہذیب کو جنم دیا جس نے سائنس، ریاضی، طب، فلسفہ اور دیگر شعبوں میں انقلابی کارنامے انجام دیے۔ اسلام کے سنہری دور میں ابھرنے والی یہ علمی و فکری تحریک انسانی تاریخ کے رخ کو بدل دینے والی ثابت ہوئی اور عالمی تمدن پر گہرے اثرات چھوڑ گئی۔ ﷺ

(۴۵) پینتالیسویں وجہ: ایک مکمل اور عملی نمونۂ زندگی فراہم کرنے والے

محمد ؐ کی زندگی تاریخِ انسانی میں سب سے زیادہ مستند اور مفصل طور پر محفوظ شدہ بایوگرافی ہے۔ سیرت اور احادیث کے ذخیرے کے ذریعے انسانوں کو زندگی کے ہر پہلو میں رہنمائی کے لیے ایک جامع، مکمل اور عملی دستورِ حیات میسر ہے۔ آپ ؐ تاریخ کے ایک روشن دور میں تشریف لائے اور اپنی حیات مبارکہ میں دیانت، وقار اور حسن اخلاق کے ساتھ جینے کا واضح اور قابل عمل نمونہ پیش کیا۔ ﷺ

(۴۶) چھیالیسویں وجہ: صدیوں تک اربوں انسانوں میں زندگی کی روح پھونکنے والے

تقریباً پندرہ صدیوں سے محمد ؐ کی زندگی، ایک ایسے یتیم کی داستان جو مصیبتوں پر صبر کرتا رہا، ایک مصلح جو عدل و انصاف کا علمبردار بنا، اور ایک رہنما جس نے ایک عظیم امت کی بنیاد رکھی، اربوں انسانوں کے لیے رہنمائی کا سرچشمہ بنی ہوئی ہے۔ آپ ؐ کا استقلال، رحمت اور انکساری ان تمام لوگوں کے لیے کامل نمونہ ہے جو زندگی میں مقصد و معنیٰ اور اخلاقی راہنمائی کے متلاشی ہیں۔ ﷺ

(۴۷) سینتالیسویں وجہ: صدیوں بعد بھی اپنی تعلیمات کی معنویت نہ کھونے والے

ساتویں صدی میں محمد ؐ نے ایک قبائلی سماج میں جو  پیغام پیش کیا، وہی پیغام من و عن آج کے اس دور میں بھی غیر معمولی طور پوری معنویت رکھتا ہے۔ یہ آفاقیت آپ ؐ کی تعلیمات کا حیرت انگیز پہلو ہے۔ نسلوں کی برابری، تکثیری سماج میں مذاہب کا احترام، ماحولیات کی حفاظت اور معاشی برابری کا جو پیغام آپ ؐ نے اس دور میں دیا تھا، وہ براہ راست اکیسویں صدی کے اہم ترین مسائل سے ہم آہنگ ہے۔ اس طرح آپ ؐ کی میراث محض تاریخ کا ایک ورق نہیں، بلکہ آج بھی رہنمائی کا زندہ و جاوید سرچشمہ ہے۔ ﷺ

(۴۸) اڑتالیسویں وجہ: قرآن میں اللہ رب العزت کی طرف سے تعریف و توصیف

محمد ؐ کے اعلیٰ ترین اخلاق کے حامل ہونے کا سب سے بڑا ثبوت قرآن کی وہ شہادت ہے جو سورة القلم کی چوتھی آیت میں مذکور ہے: ”وَ اِنّک لعلیٰ خُلُقٍ عظیم“ (یعنی: بے شک آپ بلند ترین اخلاق کے حامل ہیں)۔ قرآن کی یہ شہادت آپ ؐ کے اخلاقی نمونے کو ساری انسانیت کے لیے ایک ایسا معیار بنا دیتی جس کی تصدیق خود خدا نے کر دی ہے، اور یہ کافی ہے آپ کے احترام اور تعظیم کی وجہ بننے کے لیے۔ ﷺ

(۴۹) اننچاسویں وجہ: قیامت کے دن محمد ؐ کی شفاعت

قیامت کے دن اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو شفاعت کا اعلیٰ مقام عطا ہوگا۔ آپ ؐ اس اجازت سے سرفراز کیے جائیں گے کہ اپنے پیروؤں کے لیے رحمت و مغفرت کی دعا کریں۔ اس دن جب ہر شخص اپنی ہی فکر میں ہوگا، آپ ؐ اپنے پیروؤں کے لیے رحم کے طلبگار ہوں گے۔ یہ آپ ؐ کی اس شفقت کا مظہر ہے جو آپ ؐ اپنے پیروؤں سے رکھتے ہیں۔ ﷺ

(۵۰) پچاسویں وجہ: رحمتِ خداوندی کا مجسم نمونہ

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کی تمام وجوہات ایک ہی نکتے پر مجتمع ہو جاتی ہیں: آپ ؐ رحمت الٰہی کے جیتے جاگتے مظہر تھے۔ بچوں کے ساتھ آپ کی شفقت ہو یا سخت ترین دشمن کو معاف کر دینا، آپ کا ہر ہر عمل رحمتِ خداوندی کا آئینہ دار تھا۔ آپ وہ رہنما ہیں جو انسانیت کو شرک و کفر کی تاریکیوں سے نکال کر توحید کی روشنی کی طرف لائے، اسی وجہ سے آپ ؐ ہمیشہ ادب، احترام اور بے پناہ محبت کے ساتھ یاد کیے جاتے ہیں۔ صلی اللہ علیہ وسلم! ﷺ

انہی عظیم صفات اور بے مثال کردار کے باعث اللہ رب العزت نے تمام بنی نوع انسان کو یہ حکم دیا کہ وہ محمد ﷺ کے ساتھ سب سے بڑھ کر محبت رکھیں۔ بلکہ اس محبت کو ایمان کی بنیاد اور معیار قرار دیا گیا۔ چناچہ ارشاد نبوی ﷺ ہے:
”تم میں سے کوئی شخص (کامل) مؤمن نہیں ہو سکتا جب تک کہ میں اس کے نزدیک اس کے والد، اس کی اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں!“

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے