حدیث حَدَث سے ہے۔ لغت میں اس کے معنی ”کسی چیز کا رونما ہونا“ یا ”وجود میں آنا ہے“۔ دورِ جاہلیت میں مشہور تاریخی واقعات کو بھی ”احادیث“ سے تعبیر کرتے تھے۔ اصطلاح میں حدیث کہتے ہیں ان افعال، اقوال اور تقریرات کو جو اللہ کے آخری رسول محمدؐ بن عبد اللہ کی طرف منسوب ہوں۔
-
-
تقویٰ کا لغوي مفہوم تقوی ”وقی“ سے مشتق ہے۔ اس کے معنی اہل لغت نے ”بچاؤ، حفاظت، بچانا، صیانت، وقایت“ بتائے ہیں۔ ابن منظور نے لسان العرب میں لکھا ہے: ”وقاہ اللہ وقیاً و وقایتہً و واقیةً: صانہ“ یعنی اللہ نے اس کی حفاظت کی۔ سورة الدخان میں اسی معنی میں کہا گیا: ”و وقاہم عذاب الجحیم (آیت ۵۶)“ اسی طرح سورة انسان میں ہے: ”فوقاہم اللہ شرّ ذالک الیوم (آیت ۱۱)“ یعنی لغت میں تقویٰ کا مطلب ہے ”خود کو نقصاندہ چیز سے بچانا، کسی ضرر سے حفاظت کرنا، اور محطاط رہنا۔“ تقویٰ کا اصطلاحی مفہوم اسلاف نے تقویٰ…
-
عربی لغت میں اسلام کے کئی معنی ملتے ہیں۔ ۱۔ استسلام: سپردگی ۲۔ خضوع: جھک جانا ۳۔ النقیاد: اطاعت و فرمابرداری ۴۔ امن: صلح و آشتی، جنگ کی ضد، حفاظت ۵۔ براّت: نجات، بیزاری ابن منظور اور دیگر اہل لغت نے لکھا ہے کہ اسلام کا مطلب ہوتا ہے ”الخضوع لله على أي دين من الأَديان“۔ یعنی خدا کے سامنے سرِ تسلیم خم کردینا، چاہے کسی بھی مذہب میں ہو۔ (بحوالہ لسان العرب لابن منظور) گویا کہ اسلام کا مطلب ہوا اپنے آپ کو خدا کے سپرد کر دینا، اس کے سامنے بالکل جھک جانا، اس کی اطاعت و فرمابرداری…
-
ایمان کے لغوي معنیٰ عربی لغت میں ایمان کے معنی آتے ہیں تصدیق کرنے کے۔ یعنی کسی بات کو دل سے سچ ماننا۔ اسی طرح ایمان کے معنی اقرار کرنے کے اور اعتراف کرنے کے بھی ہوتے ہیں۔ جیسا کہ قرآنِ کریم میں حصرت یوسف علیہ السلام کے واقعے میں بھائیوں اپنے والد حضرت یعقوب علیہ السلام سے کہا: قَالُواْ يَٰٓأَبَانَآ إِنَّا ذَهَبۡنَا نَسۡتَبِقُ وَتَرَكۡنَا يُوسُفَ عِندَ مَتَٰعِنَا فَأَكَلَهُ ٱلذِّئۡبُ وَمَآ أَنتَ بِمُؤۡمِنٖ لَّنَا وَلَوۡ كُنَّا صَٰدِقِينَ (سورہ یوسف: ۱۷)ترجمہ: اور کہا "ابا جان، ہم دوڑ کا مقابلہ کرنے میں لگ گئے تھے اور یوسفؑ کو ہم نے اپنے سامان…
-
سنت کا لفظ عربی زبان میں خاص طور پر تین معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ ۱۔ طریقہ، چاہے اچھا ہو یا برا ۲۔ سیرت، چاہے اچھی ہو یا بری ۳۔ عادت اور مزاج، چاہے اچھے ہوں یا برے سنةُ اللہِ سنت اللہ سے مراد ہے اللہ تعالیٰ کے وہ قوانین و مقررات جو اس کائنات میں جاری و ساری ہیں۔ جامعیت، ثبات، ضابطہ مند ہونا اس کی اہم خصوصیات ہیں۔ سورة فاطر میں ہے: ٱسۡتِكۡبَارٗا فِي ٱلۡأَرۡضِ وَمَكۡرَ ٱلسَّيِّيِٕ وَلَا يَحِيقُ ٱلۡمَكۡرُ ٱلسَّيِّئُ إِلَّا بِأَهۡلِهِۦ فَهَلۡ يَنظُرُونَ إِلَّا سُنَّتَ ٱلۡأَوَّلِينَ فَلَن تَجِدَ لِسُنَّتِ ٱللَّهِ تَبۡدِيلٗا وَلَن تَجِدَ لِسُنَّتِ ٱللَّهِ تَحۡوِيلًا…