اسلام

عربی لغت میں اسلام کے کئی معنی ملتے ہیں۔

۱۔ استسلام:  سپردگی

۲۔ خضوع: جھک جانا 

۳۔ النقیاد: اطاعت و فرمابرداری

۴۔ امن: صلح و آشتی، جنگ کی ضد، حفاظت

۵۔ براّت: نجات، بیزاری

ابن منظور اور دیگر اہل لغت نے لکھا ہے کہ اسلام کا مطلب ہوتا ہے ”الخضوع لله على أي دين من الأَديان“۔

یعنی خدا کے سامنے سرِ تسلیم خم کردینا، چاہے کسی بھی مذہب میں ہو۔ (بحوالہ لسان العرب لابن منظور)

گویا کہ اسلام کا مطلب ہوا اپنے آپ کو خدا کے سپرد کر دینا، اس کے سامنے بالکل جھک جانا، اس کی اطاعت و فرمابرداری کرنا، اور خدا کی پناہ میں آجانا، اور اس طرح سارے دوسرے خداؤں سے بیزار ہو کر خدا کے ہو کر رہ جانا۔

اصطلاح میں اسلام اس دین کا نام ہے جو اللہ رب العزت نے اپنے آخری نبی محمدؐ بن عبداللہ پر نازل فرمایا۔

قرآنِ کریم میں اللہ ربّ العزت فرماتا ہے: 

۱۔ إِنَّ ٱلدِّينَ عِندَ ٱللَّهِ ٱلْإِسْلَٰمُ (آلِ عمران: ۱۹)
ترجمہ : اللہ کے نزدیک دین صرف اسلام ہے۔

۲۔ وَمَن يَبْتَغِ غَيْرَ ٱلْإِسْلَٰمِ دِينًا فَلَن يُقْبَلَ مِنْهُ  (آلِ عمران: ۸۵)
ترجمہ : اس فرماں برداری (اسلام) کے سوا جو شخص کوئی اور طریقہ اختیار کرنا چاہے اس کا وہ طریقہ ہرگز قبول نہ کیا جائے گا۔

۳۔ ٱلْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِى وَرَضِيتُ لَكُمُ ٱلْإِسْلَٰمَ دِينًا ۚ (المائدہ:۳)
ترجمہ : آج میں نے تمہارے دین کو تمہارے لیے مکمل کردیا ہے اور اپنی نعمت تم پر تمام کردی ہے اور تمہارے لیے اسلام کو تمہارے دین کی حیثیت سے قبول کرلیا ہے۔

۴۔  فَمَن يُرِدِ ٱللَّهُ أَن يَهْدِيَهُۥ يَشْرَحْ صَدْرَهُۥ لِلْإِسْلَٰمِ (الانعام: ۱۲۵)
ترجمہ : پس (یہ حقیقت ہے کہ) جسے اللہ ہدایت بخشنے کا ارادہ کرتا ہے اُس کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیتا ہے۔

۵۔ أَفَمَن شَرَحَ ٱللَّهُ صَدْرَهُۥ لِلْإِسْلَٰمِ فَهُوَ عَلَىٰ نُورٍ مِّن رَّبِّهِ (الزمر: ۲۲)
ترجمہ : اب کیا وہ شخص جس کا سینہ اللہ نے اسلام کے لیے کھول دیا  اور وہ اپنے ربّ کی طرف سے ایک روشنی پر چل رہا ہے (اُس شخص کی طرح ہو سکتا ہے جس نے اِن باتوں سے کوئی سبق نہ لیا ؟)

۶۔ وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ ٱفْتَرَىٰ عَلَى ٱللَّهِ ٱلْكَذِبَ وَهُوَ يُدْعَىٰٓ إِلَى ٱلْإِسْلَٰمِ (الصف: ۷)
ترجمہ : اب بھلا اُس شخص سے بڑا ظالم اور کون ہوگا جو اللہ پر جُھوٹے بہتان باندھے حالانکہ اسے اسلام (اللہ کے آگے سرِ اطاعت جھکا دینے) کی دعوت دی جا رہی ہو؟

اللہ کے رسول نے فرمایا:
بُنِيَ الإِسْلَامُ عَلٰی خَمْسٍ : شَهَادَةِ أنْ لَّا إِلٰهَ إِلَّا اﷲُ وَأنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اﷲِ، وَإِقَامِ الصَّلَاةِ، وَإِيْتَاءِ الزَّکَاةِ، وَالْحَجِّ، وَصَوْمِ رَمَضَانَ۔

۱۔ یہ گواہی دینا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں 

۲: نماز قائم کرنا 

۳: زکوٰۃ ادا کرنا 

۴: حج کرنا 

۵: رمضان المبارک کے روزے رکھنا۔

حدیثِ جبرئیل میں ہے۔

اَلْإِسْلاَمُ أَنْ تَشْهَدَ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللہِ وَتُقِيمَ الصَّلاَةَ وَتُؤْتِىَ الزَّكَاةَ وَتَصُومَ رَمَضَانَ وَتَحُجَّ الْبَيْتَ إِنِ اسْتَطَعْتَ سَبِيْلً۔
اسلام یہ ہے کہ تم گواہی دو کہ کوئی معبودِ حق نہیں سوائے اللہ تعالیٰ کے ،اورگواہی دو کہ محمدصلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں اورنماز قائم کرو اور زکاۃ ادا کرواور رمضان کے روزے رکھو اور بیت اللہ کا حج کرو اگر استاعت ہو۔ (مسلم)


(قرآن کی آیتوں کے ترجمے امام مودودیؒ کی تفسیر تفہیم القرآن سے ماخوذ ہیں)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے